08:38 am
بھارت حملہ کرنے والا ہے…وزیرخارجہ

بھارت حملہ کرنے والا ہے…وزیرخارجہ

08:38 am

٭بھارت پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے، وزیرخارجہ شاہ محمودقریشیO پاکستان نے بھارت میں دہشت گرد بھیج دیئے ہیں۔ ارمیش کمار، بھارتی ترجمانO جعلی اکائونٹس ریفرنس شروع، آصف زرداری، فریال تالپور، 24 ملزم پیش، دو خواتین وعدہ معاف گواہ بن گئیں Oبلاول زرداری دبئی کیوں گیا؟ ایک سوالO ساری اپوزیشن اکٹھی ہو جائے حکومت کو گرانا ہے، … میری نااہلی پر آصفہ الیکشن لڑے گی:آصف زرداری 
 
٭حمزہ شہباز کی گرفتاری کا معاملہ مزید لٹک گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اس کی 17 اپریل تک عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔ ایک کروڑ روپے کی ضمانت مچلکے جمع کرانے کا حکم ۔ قابل ذکر بات کہ نوازشریف کو بھی ایک کروڑ روپے کے مچلکوں پر چھ ہفتے کی عبوری رہائی ملی ہوئی ہے۔ اس میں سے 12 دِن گزر چکے ہیں، (ابھی تک علاج شروع نہیں ہوا۔)
٭وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مستند اطلاعات کے حوالے سے خبر جاری کی کہ بھارت نے 16 اور 20 اپریل کے دوران پاکستان پر حملہ کا منصوبہ بنایا ہے اس بارے میں بھارتی افواج کو آزادانہ اختیارات دے دیئے گئے ہیں اس بارے میں پاکستان کے پاس مستند دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ وزیرخارجہ کے مطابق دوروز قبل دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت تینوں فوجی سربراہوں کا اجلاس ہوا اس میں وزیراعظم نے ان تینوں کو اجازت دے دی کہ وہ جب چاہیں پاکستان کے جس علاقے میں چاہیں، کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس اجازت کے بعد ان سربراہوں نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں خاص مقامات پر حملہ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیرخارجہ نے انتباہ کیا کہ بھارت نے کوئی شرانگیزی کی تو اس کا فوری سخت جواب دیا جائے گا۔ اس بیان کے فوراً بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان ارمیش نے بیان جاری کیا کہ پاکستانی وزیرخارجہ کا بیان بے بنیاد ہے اس کے برعکس پاکستان بھارت خاص طور پر جموں و کشمیر میں وسیع پیمانے پر دہشت گرد داخل کر رہا ہے۔ اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
٭گزشتہ رات ساڑھے آٹھ بجے ٹیلی ویژن پر سرکاری بلیٹن جاری ہوا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار 17 ہزارپانچ سو میگا واٹ اور طلب 16 ہزار 300 میگا واٹ ہے، بجلی کاکوئی شارٹ فال نہیں، 1200 میگا واٹ بچ رہی ہے۔ اس بلیٹن کے ساتھ لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی۔
٭اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 29 جعلی اکائونٹس اور 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت شروع ہوگئی۔ پہلی پیشی پر آصف زرداری اور آٹھ دوسرے ملزم پیش ہوئے۔ 16 ملزم اگلی پیشی’ 12 اپریل‘ کو پیش ہوں گے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور نے آئندہ پیشیوں سے استثنیٰ کی درخواست دی ہے۔ مجھے ایک بہت پرانی بھارتی فلم ’’بھنگڑا‘‘ یاد آ گئی۔ اس میں ہیرو کا باپ اسے اس کی مرضی کے خلاف زبردستی بارات کے ساتھ ایک جگہ شادی کے لئے لے جاتا ہے۔ وہاں اچانک کسی کیس میں ایک تھانیدار آ جاتا ہے۔بارات میں بیٹھا وہ ہیرو تھانیدار کو دیکھ کر چیخ کر کہتا ہے کہ تھانیدار جی! باقی کام بعد میں، پہلے مجھے یہاں سے لے چلو!! دریں دو ملزم خواتین نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست دے دی ہے۔ آصف زرداری نے دوسرے ملزموں کی طرح کٹہرے میں کھڑے ہو کر رجسٹر میں حاضری لگائی اور دستخط کئے۔
٭ایف آئی اے نے شہباز شریف کے فرنٹ میں محمد مشتاق کو لاہور کے ہوائی اڈے سے گرفتار کر کے نیب کے حوالے کر دیا۔ محمد مشتاق شریف خاندان کی رمضان شوگر ملز کا منیجر ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کی طرف سے 60 کروڑ روپے باہر بھجوائے تھے۔ مشتاق کا نام پہلے سے ہی ای سی ایل میں شامل تھا۔ وہ مفرور تھا۔ سلمان شہباز سواتین ارب روپے کے اثاثوں کا مالک ہے۔
٭آصف زرداری نے اعلان کیا ہے کہ انہیں نااہل قرار دیا گیا تو بیٹی آصف زرداری ان کی جگہ الیکشن لڑے گی۔ آصفہ کو 2018ء کے انتخابات میں بھی امیدوار بنایا گیا تھا مگر اس کا نام عین وقت پر واپس لے لیا گیا۔ آصفہ بھٹو 3 فروری 1993ء کو لندن میں پیدا ہوئی، اس وقت والدہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں۔ آصفہ کی اس وقت عمر 26 برس دو ماہ ہے۔ ان کی بڑی بہن بختاور سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔
٭عمران خان کی حکومت کو لات مار کر (دولتی!) گرا دینے کا اعلان کر کے ولی عہد بلاول زرداری نے دبئی کا رُخ کر لیا ہے۔ تھڑا سیاست دان علم دین پوچھ رہا ہے کہ وہ دبئی کیا کرنے گیا ہے؟ میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ پھر اس نے خود ہی نتیجہ نکالا ہے کہ جناب! دبئی آصف زرداری کے مختلف ملکوں میں پھیلے وسیع کاروبار اور اثاثوں کا انتظامی ہیڈ کوارٹر ہے۔ کوئی کام بگڑ رہا ہو گا! آصف زرداری کے باہر جانے پر پابندی ہے! سو بیٹے کو بھیج دیا اور یہ کہ وہ آئندہ بھی دبئی میں نگرانی کرے گا! علم دین نے ایک دلچسپ سوال پوچھ لیا کہ جناب! یہ بلاول زرداری نے عمران خان کی حکومت کو لات مار کر گرانے کی بات کی ہے، مجھے آپ نے بتایا تھا کہ دوسری عالم گیر جنگ میں برما میں ہلاک ہونے والے ایک گدھے کی قبر کو فوجی سلامی دی جاتی تھی یہ کیا بات تھی؟ میں نے علم دین کو ٹالنا چاہا۔ اس نے اصرار کیا تو میں نے مختصر بتایا کہ 1944ء میں برما پر قابض جاپانی فوج گدھوں پر سامان ادھر ادھرلے جاتی تھی۔ ایک چھائونی میں بموں اور بارودی گولوں کے ایک ڈھیر کے پاس ایک گدھا باندھ دیا۔ اس نے کسی بات پر مشتعل ہو کر اس ڈھیر پر دولتی جھاڑ دی۔ بہت سے بموں کے پھٹنے سے وہ پورا فوجی کیمپ تباہ ہو گیا۔ بعد میں جاپان کو شکست ہوئی تو انگریز فوج نے اس گدھے کے نام پر فوجی اعزاز کا اعلان کرتے ہوئے اس کی قبر پرایک کتبہ لگا دیا اس پر لکھا تھا (شائد اب بھی ہو!) کہ اصل ہیرو تو یہ ہے! میں نے علم دین کو منع کیا ہے کہ آئندہ ایسے سوالات نہ پوچھا کرے۔
٭آصف زرداری نے یقین کا اظہار کیا ہے کہ حکومت گرنے والی ہے۔ انہوں نے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے درخواست کی ہے کہ آیئے اکٹھے ہو کر یہ کارخیر انجام دیں۔ مجھے خانہ بدوشوں اور غریب گھروں کی وہ بچیاںیاد آ رہی ہے جو محلے میں کسی نیاز کی تقسیم پر آوازیں دیتی بھاگتی ہیں کہ ’’نیِ چھیمو، نازو، رانی، زینو! دوڑ کے آئو، چاول بٹ رہے ہیں‘‘
٭طویل صحافتی زندگی میںبہت سے نامور دوست اور ساتھی چلے گئے۔ ان کے بے شمار نوحے لکھے مگر بعض اوقات شدت صدمہ کے باعث کچھ کہہ سکا نہ لکھ سکا۔ افتخار مجاز! باکمال شاعر، کالم نگار، تجزیہ نگار، پاکستان ٹیلی ویژن کے حالات حاضرہ کا سابق ڈائریکٹر، بہت خوش مزاج شگفتہ گو مجلسی شخصیت، بہت عرصہ دل کے ہاتھوں تنگ رہا، بہت علاج کرایا پھر ایک روز چپ چاپ دور، بہت دور چلا گیا۔ میرے لئے وہ حقیقی چھوٹے بھائی کی طرح تھا۔ اس کے بڑے بھائی، نامور شاعر، ادیب، اعزاز احمد آذر کا انتقال ہوا، افتخار ٹی وی پر سینئر افسر تھا مگر بچوںکی طرح رو رہا تھا۔ میرے اعزازآذر کے ساتھ بھائیوں جیسے تعلقات تھے۔ میں نے افتخار مجاز کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ افتخار! ایک بھائی چلا گیا، میں دوسرا بھائی موجود ہوں! پھر میں نے بڑے بھائی کی طرح اس کا دھیان رکھا، وہ بھی میرے سامنے چھوٹے سے بچے کی طرح مودب کھڑا ہو جاتا۔ پتہ نہیں پھر کیا ہو جاتا ہے؟ بڑے رہ جاتے ہیں، چھوٹے چلے جاتے ہیں! وہ چلا گیا ہے اور میں پانچ دنوں سے اس کے لئے کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر الفاظ گم ہو جاتے ہیں۔ بڑی مشکل سے یہ مختصر یاد نامہ لکھا ہے۔ اچھا افتخار! جانے والوں کو کون روک سکا ہے؟ جہاں بھی ہو، آسودہ رہو!
مختصر سی اتنی سی ہے بس رابطوں کی داستاں
گھر سے تو مل کر چلے تھے راستے میں بٹ گئے