09:29 am
ٹیکس ایمنسٹی سکیم

ٹیکس ایمنسٹی سکیم

09:29 am

وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک  اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم لانے کا عندیہ دیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سکیم کا اعلان بجٹ سے قبل ہی کر دیا جائے گا۔ غالباً یہ ہمارے ملک کی21ویں ٹیکس ایمنسٹی سکیم ہوگی۔
 
کسی بھی ایسی سکیم کے کامیاب اور سودمند ہونے کیلئے ضروری ہے کہ اس پر تین مرحلوں میں غور کیا جائے۔ پہلا مرحلہ ہے کہ سکیم کے اغرا ض و مقاصد کیا ہیں۔ کیا یہ مقاصد قلیل مدتی ہیں یا طویل مدت کیلئے ہیں۔ اس مرحلے پر بہت زیادہ سوچ بچار کی ضرورت ہے ورنہ سکیم کی بنیاد ہی کمزور ہو جائے گی اور اس کے مثبت اثرات کم اور منفی اثرات  زیادہ ہو جائیں گے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ ہے سکیم کے خدوخال طے کرنا۔ ظاہر ہے کہ سکیم کے خدوخال سکیم کے اغراض و مقاصد سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں ورنہ سکیم ناکام رہے گی۔ پاکستان کی گزشتہ 20 ٹیکس ایمنسٹی سکیموں میں سے صرف چند ایک ہی صحیح طرح کامیاب ہوئی ہیں۔ اس کی اہم وجہ سکیم کے خدوخال کا مقاصد سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔ اگر اس مرحلے پر بھی ماہرین کی رائے لے لی جائے اور سکیم کو جامع اور سہل بنایا جائے تو مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ تیسرا اور آخری مرحلہ ہے سکیم کو صحیح طرح سے نافذ کرنے کا۔ اگر سکیم کی صحیح طرح تشہیر نہ کی جائے اور اس کے بارے میں مکمل معلومات عام آدمی  کو عام فہم زبان میں نہ مہیا کی جائیں تو پھر سکیم کی کامیابی کے امکانات مخدوش ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا یہاں بھی بہت زیادہ احتیاط اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔
چلئے اب دیکھتے ہیں کہ اسد عمر کیوں ٹیکس ایمنسٹی لانا چاہ رہے ہیں اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔ بادی النظر تو دو  وجوہات سامنے آتی ہیں۔ پہلی اور بڑی وجہ تو یہ ہے کہ محتاط اندازوں کے مطابق رواں مالی سال میں ٹیکس جمع کرنے کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا اس سے تقریباً485  ارب روپے کم جمع ہونے کی توقع ہے۔ یہ بہت بڑا شارٹ فال ہے جس کا بوجھ حکومت کیلئے برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ لہٰذا حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس سکیم کے تحت لوگ باگ رعایتی نرخوں پر اپنے نان ڈکلیئرڈ اثاثہ جات پر ٹیکس ادا کریں کیونکہ اس کا اطلاق صرف اثاثوں پر ہوگا لہٰذا یہ بات قطعیت سے کہی جاسکتی ہے کہ اس مجوزہ سکیم کا مقصد صرف شارٹ ٹرم ہے یعنی صرف ایک وقتی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔ یہ نظر نہیں آرہا کہ اس سکیم کے تحت نئے ٹیکس دہندگان پیدا ہوں گے اور مستقبل کی ٹیکس آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اس تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے غیر ملکی ڈیپازٹس کو ڈکلیئر کریں اور ان غیر ملکی ڈیپازٹس کو ملک میں بھی لے آئیں۔ اس سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ہمارے روپے کی قیمت میں بھی کچھ بہتری آجائے مگر ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مجھے ذاتی طور پر ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت ذرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں نے ملک کے متمول اور بزنس مین حلقوں کو اتنی بری طرح ڈرا رکھا ہے کہ وہ شاید ہی اپنی غیر ممالک میں محفوظ رقوم کو پاکستان لانے کی زحمت کریں۔
اب اگر مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا مقصد صرف ٹیکس آمدن میں عارضی اضافہ کرنا ہے تو یہ سوچا جاسکتا ہے کہ اس کے تحت صرف وہ لوگ اپنے اثاثے ظاہر کریں گے جن کے پاس پاکستان میں جائیدادیں ہیں۔ کسی غیر مکمل اثاثے کو ٹیکس نیٹ میں لائے جانے کا امکان بہت کم ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا سکیم کے خدوخال سکیم کے مقاصد کے مطابق ہی وضع کرنے چاہیں۔ اب یہ وزیر خزانہ کو دیکھنا ہے کہ سکیم کو کس طرح ترتیب دیاجائے اس کے فیچر ز کیا ہوں اور کس طرح وہ نئے ٹیکس دہندنگان کوسسٹم میں لانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
جہاں تک زرمبادلہ  میں اضافے کیلئے اقدامات کا تعلق ہے اس کا ایک نہایت موثر طریقہ پاکستان بنائو سرٹیفکیٹس کا اجرا ہے۔ اگرPBC کے فیچرز میں دو تین تبدیلیاں کر دی جائیں تو اس سکیم کی کامیابی کے امکانات  بہت بڑھ سکتے ہیں۔ اولاً تو PBC خریدنے کی اجازت صرف غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں مقیم پاکستانیوں کو بھی اجازت ہونی چاہیے کہ اگر ان کے پاس غیر ممالک میں رقوم ہیں تو انہیںPBC خریدنے دیئے جائیں تاکہ وہ غیر ملکی رقوم پاکستان آجائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ PBC خریدنے والے پاکستان میں مقیم شہریوں کو ان غیر ملکی ڈیپازٹس کے ذرائع بتانے پر مجبور نہ کیا جائے اور تیسری اور بہت ہی اہم بات یہ ہے کہ PBC کو مقامی بینکوں سے قرض لینے کے لئے سیکورٹی کے طور پر رکھوانے کی اجازت دی جائے۔ ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ پاکستان میں مقیم ہر بڑا بزنس مین ملک سے باہر ڈیپازٹس رکھتا ہے کیونکہ اسے اپنی دولت پاکستان میں اور خصوصاً پاکستانی روپوں میں رکھنا محفوظ نظر نہیں آتا۔ اب اگر ان کوPBC خریدنے کی اجازت دے دی جائے تو ان غیر ملکی ڈیپازٹس کو پاکستان لانے میں کم ہچکچاہٹ محسوس کریں گے اور اگرPBC کو مقامی قرضوں کی ضمانت کے طور پر رکھوانے کی اجات بھی دے دی جائے تو بزنس مین کو مزید ترغیب ملے گی اور مقامی انویسٹمنٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف  حکومت کیلئے زرمبادلہ میں اضافہ شارٹ ٹرم نہیں لانگ ٹرم ہوگا۔ میری استدعا ہے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔