09:31 am
مال و اولاد انسان کی آزمائش کا ذریعہ

مال و اولاد انسان کی آزمائش کا ذریعہ

09:31 am

سورہ منافقون میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کر دے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ 
 
منافقین کے ذکر کے فوری بعد اہل ایمان کو یہ تنبیہہ کر دی کہ مال و اولاد کی محبت تم پر اتنی غالب نہ آ جائے کہ تم اللہ کے ذکر سے غافل ہو جائو۔ نفاق کا اصل سبب دنیا سے محبت ہوتا ہے۔ عبداللہ بن ابی کا معاملہ تو قدرے مختلف تھا۔ وہ تو ابتدا ہی سے مصلحتاً ایمان لایا تھا، اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اُس نے حضور اکرمﷺ کے مقام و مرتبہ اور برتری کو دل سے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔ لیکن دیگر منافقین کی اکثریت کا حال یہ تھا کہ انہیں نفاق کا روگ دنیا سے بے قید محبت کی وجہ سے لاحق ہو گیا تھا۔ ایمان تو وہ صحیح معنوں میں لاتے تھے مگر پھر جب دین کے عملی تقاضے سامنے آئے، اللہ کی راہ میں جہاد و انفاق کی بات آئی تو پھر پسپائی کا سفر شروع کر دیا۔ انہوں نے راہ حق میں خطرات مول لینے اور قربانیاں پیش کرنے کی بجائے جان و مال بچانے کے لئے یہود کے ساتھ تعلقات استوا کر لئے۔ حبّ مال و اولاد نے انہیں اللہ کی یاد سے غافل کر دیا۔ اپنی حقیقت اور ہستی کی حقیقت بھلا دی۔ ایمانی حقائق سے منہ پھیر دیا۔
 اسلام یہ کہتاہے کہ انسان اللہ کا بندہ ہے۔ اُس کو یہاں جو زندگی ملی ہے، وہ امتحان و آزمائش کے لئے ہے۔ دنیا کی عارضی کامیابی یا ناکامی بھی امتحان کے لئے ہے۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی اور حقیقی ناکامی وہاں کا ناکامی ہے۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ رد جب اپنی حقیقت اور انجام سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر دنیا ہی اس کی ترجیح بن جاتی ہے۔ دنیا بنانے کے لئے آخرت کی کامیابی کو فراموش کر دیتا ہے۔ یہ سخت نادانی کی بات ہے۔ اس شخص سے زیادہ احمق کوئی نہیں جو دنیا کی چند روزہ زندگی کی خاطر اپنی دائمی زندگی کا نقصان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ دنیا تو دھوکے کا سامان ہے۔ یہ انسان کو اپنے اندر گم کر لیتی ہے۔ آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ شعوری طور پر کوشش کرے کہ ایمانی حقائق ذہن میں تازہ رہیں۔ ورنہ تو دنیا ہی کے حقیر مفادات اور مسائل میں غرق ہوکر اپنی عاقبت برباد کر  ڈالے گا۔ انسان کو دنیا میں اللہ کے یاد سے غافل کرنے والی چیزوں میں سب سے نمایاں مال اور اولاد ہیں۔ ان میں بڑی کشش رکھی گئی ہے۔ یہی تو امتحان ہے۔ 
بالعموم مال و دولتِ دنیا اور رشتہ و پیوند کی محبت آدمی کو اپنے انجام سے غافل کر دیتی ہے، اور وہ دنیا ہی کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ جو شخص حقیقت ہستی کو سمجھ گیا اس کے لیے محبوب ترین اللہ کی ہستی ہوتی ہے۔ وہی سب سے زیادہ قابل محبت ہوتا ہے۔ اس لئے کہ دنیا میں جو بھی خیر ، خوبی، حسن اور رعنائی ہے وہ اُسی کی عطا ہے۔ کسی کی اپنی نہیں ہے۔ تو پھر ان چیزوں سے سب سے بڑھ کر محبت کیوں کی جائے۔ سب سے بڑھ کر محبت اس ہستی سے کیوں نہ کی جائے جو سرچشمۂ خیرہے، سرچشمہ حسن  ہے۔ مسلمان ہو کر منافقانہ رویے دراصل مال و اولاد کی محبت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہی چیزیں آدمی کو اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہیں، لہٰذا اہل ایمان کو تاکید کی کہ دیکھو، تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں۔ یہ انسان کے لیے سب سے بڑا ٹریپ ہے۔ سورۃ التغابن میں اسی مضمون کو مزید کھولا گیا اور صاف فرما دیا گیا کہ’’ تمہارے حال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔‘‘ یہ تمہاری کمزوریاں ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے تمہیں آزما رہا ہے۔ یہیں سے تم آزمائش میں ناکام ہوتے ہو۔ تم جب تک ان سے چوکنے نہیں رہو گے، کامیابی کے راستے پر آگے نہ بڑھ سکو گے۔ ان کی محبت غالب آ گئی تو پھر وہی کچھ کرو گے جو کافر اور منافق کرتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے        
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق 
جب آدمی پر حبِّ مال و اولاد غالب آجائے، اُسے دنیا پرستی اپنے جال میں پھانس لے تو اُس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ موت کا تذکرہ کرو ہی نہیں کہ اس سے لذات دنیوی میں رکاوٹ آتی ہے۔ بہتر ہے کہ کسی اور دلچسپی کے اندر مگن رہو۔ آج ساری دنیا اسی فکر پر چل رہی ہے۔ لوگوں کی زندگی میں ایسی ایسی چیزیں داخل ہو گئی۔ جو اللہ کی یاد کو اور زیادہ بھلانے کا داعی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی یاد کے لئے پانچ وقت نماز کا تحفہ دیا ہے، تاکہ ہم دن میں پانچ وقت دنیا سے ناتا توڑ کر اُس کے حضور حاضر ہو جائیں۔ نماز سب سے بڑی یاد دہانی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ ’’نماز قائم کرو میری یاد کے لئے۔‘‘ نماز کے علاوہ اور اوقات میں بھی کھڑے بیٹھے لیٹے کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس غفلت سے نکل سکیں۔ غفلت سے  شیطان کو حملہ آور ہونے کا موقع ملتا ہے۔ نماز غفلت کا علاج اور شیطان کے مقابلے میں ایک مضبوط ہتھیار ہے، بشرطیکہ اس کو پوری خشوع و خضوع اور حضوری کی کیفیت طاری کر کے پڑھا جائے ہو۔ آگے فرمایا: ’’اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘
یعنی جو شخص مال و اولاد کی وجہ سے اور دنیا کی محبت کی وجہ سے اللہ سے غافل ہو گیا۔ تو وہ سخت خسارہ میں پڑ گیا۔ آگے فرمایا: ’’اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کر لو کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی، تاکہ میں خیرات کر لیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہو جاتا۔‘‘ 
یعنی جو مال و دولت تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے اُسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ یہ انفاق تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ نفاق ایک مرض ہے جس کا بہت بڑا سبب حبِّ مال ہے۔ نفاق کا علاج انفاق ہے۔ نفاق سے بچائو اور دنیا کی محبت کو دل سے نکالنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرو۔ مال اور اولاد کی محبت کی وجہ سے تم اللہ کی یاد سے غافل ہو رہے ہو۔ یہ محبت نکلے گی، تو پھر تمہارا قبلہ درست ہونے کا امکان ہے۔ کسی انسان کو کوئی مہلک بیماری جیسے کینسر وغیرہ لاحق ہو جائے تو اس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ اگر ہمیں ایک ایسا مہلک مرض لاحق ہونے کا اندیشہ ہو کہ جس کے نتیجے میں ہماری عاقبت برباد ہو رہی ہو تو اس سے بچائو کے لیے ہم اپنا مال خرچ کیوں نہیں کر سکتے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مال صرف دنیا ہی میں فائدہ دے سکتا ہے۔ مرنے کے بعد یہ ہمارے کچھ کام نہ آئے گا۔ لہٰذا دانشمندی یہی ہے کہ مرنے سے قبل ہم راہ خدا میں خوب روپیہ پیسہ خرچ کریں۔ ورنہ جب موت سر پر کھڑی ہو گی تو اُس وقت سوائے پچھتاوے کے ہمارے ہاتھ کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ اس وقت ہم کف افسوس ملیں گے اور کہیں گے اے پروردگار مجھے تھوڑی سی مہلت مزید دے دے کہ میں خوب صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جائوں۔ مگر تب مہلت نہ ملے گی۔ وہ وقت تم سب پر آنا ہے۔ بھی چاہیے کہ اس سے پہلے پہلے اپنا مال خرچ کر کے نفاق سے بچائو کی تدبیر کریں تاکہ اُخروی کامیابی کے لیے رستہ ہموار ہو سکے۔ 
آخر میں فرمایا: ’’اور جب کسی کی موت آ جاتی ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے ‘‘ 
موت کا وقت اللہ کے ہاں طے ہے۔ جب وہ وقت آجائے تو آدمی خواہ لاکھ گڑ گڑائے، ایک لمحہ کی بھی مزید مہلت نہ ملے گی۔ یاد رکھو، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تو اس سے باخبر ہے، اسے سب معلوم ہے کہ تم کرتے کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مرض نفاق سے اور اس کی ہر شکل سے محفوظ رکھے۔ (آمین)