09:32 am
جنگ؟ کچھ اندیشے۔ کچھ وسوسے

جنگ؟ کچھ اندیشے۔ کچھ وسوسے

09:32 am

ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کی طرف سے 16 اپریل سے20 اپریل کے درمیان نئے حملے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جبکہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتابیز جی نے مودی کو جھوٹا قرار دیا ہے جس سے اپنے اور ہمسائے دونوں تنگ ہیں۔ آواخر فروری میں ہم نے پاک بھارت جنگ کے حوالے سے کچھ مفکرین اور مستقبل بین حضرات سے بات چیت کی تھی۔
 
لاہور میں ایک روحانی بزرگ سے  اس حوالے سے بھی بات چیت کی تھی۔ ماحصل یہ ہے کہ 6 مئی سے موجودہ پاکستانی حکومت کے لئے تشویش کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ بطور خاص مئی کے آخر اور جون میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اندرونی طور پر اور پارلیمنٹ میں خاص پریشانی محسوس ہوسکتی ہے۔ یہ محض اندیشہ ہے توجہ دلاتے ہیں تاکہ حکومت غلطیاں مزید نہ کرے ۔ امکان ہے کہ وزیراعظم کو ذاتی طور پر اور ملک کو بھی مالی شدید مسائل کا نیا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ نجوم اور جملہ مخفی علوم کا مقصد ڈرانا یا خوفزدہ کرنا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ صرف باخبر کرنا ہوتا ہے تاکہ آنے والے خراب حالات کا تدبر و فراست سے توڑ تیار کیا جاسکے۔ اب عمران خان کی محترمہ بشریٰ بی بی سے شادی کو بظاہر کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔9 مارچ سے عمران خان کی زندگی سے سات سال موجود رہنے والا وہ عہد نحوست نکل گیا ہے جوکہ  ان کی شادی کو ناکام بناتا تھا لہٰذا اب شادی کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان شاء اللہ ان کی موجودہ شادی برقرار رہے گی ہاں اگر زندگی کے کسی مرحلہ پر عمران خان اور ان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان دوبارہ بیوی بننا چاہیں تو یہ شرعاً ممکن ہے۔اس حوالے سے میرے پاس کتاب و سنت سے دلائل موجود ہیں البتہ وزیراعظم عمران خان کو اپنی ذاتی حفاظت کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ وہ عام سے فرد نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان ہیں ان کی زندگی کی مکمل حفاظت محض حکومت کا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کا بھی فرض ہے کیونکہ دشمن قوتیں جن میں بیرونی اہم قوتیں بھی نمایاں ہیں ان کے پرعزم کردار کو اپنے لئے زوال اور شکست کا موجب سمجھتی  ہیں۔ لہٰذا وہ وزیراعظم کی ذات کو منظر سے ہٹانے میں بھی اپنی شکست کا ایک ازالہ تصور کرسکتی ہیں۔ یاد رہے ایسے بیرونی منصوبوں میں کام کرنے میں اندرونی عناصر ہی استعمال ہو جایا کرتے ہیں۔  جبکہ عمران خان کے سوا کوئی دوسرا  فرد پارٹی کو متحد نہیں رکھ سکتا۔
ہم وزیراعظم کی تحسین کرتے ہیں اور آرمی چیف جنرل باجوہ کی بھی کہ انہوں نے دینی مدارس کے منتظمین اور نمایاں محترم علمائے کرام سے ملاقاتیں کی ہیں اور دینی مدارس کے منتظمین کے دلوں میں جو خوف اور وسوسے تھے دینی مدارس کو رجسٹرڈ کروانے کے حوالے سے ان کا اب ازالہ ہوگیا ہے۔ حکومتی حلقے دینی مدارس کے لئے خیر خواہی کے جذبات پیش کرتے ہیں یہی اصل حل ہے دینی مدارس سے وابستہ مسائل کو خیرخواہی کے عطیات دینے کا۔ علماء کرام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے سیاسی علماء کرام کی مدد نہ کریں جن سیاسی علماء کا دن رات کام دینی مدارس کے علماء و مدرسین و طلبہ کو حکومت مخالف بناکرذاتی سیاسی مقاصد حل کرنا ہے۔ ہمارا مولانا فضل الرحمن اور ان کے علماء ساتھیوں کو بھی مشورہ ہے کہ وہ دینی مدارس کے غلط استعمال کا عمل ترک کر دیں۔ حکومت کو گرانے کی کوشش غیر سنجیدہ سیاست ہے بلکہ اپنی پارلیمانی قوت کو اسمبلی اور سینٹ میں موثر بنائیں یہی عمل مولانا حضرات کی سیاست کو ثمر آور کرسکتا ہے۔
پاکستان او ر بھات میں کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ جنگ سفارتی اور سیاسی طور پر موجود ہے۔ بزرگ ماہرین نجوم کے مطابق حکومت کو6مئی سے 23 مئی کے درمیان زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ بھارت اس عرصے میں غلط حرکت کرسکتا ہے اور پاکستان پر بہت مختصر جنگ مسلط کرسکتا ہے۔ ریاستی اداروں کو اہم علماء اور اہم افراد کے حوالے سے ’’حفاظتی‘‘ تدابیر تیار کرنی چاہیں ۔داخلی سیاسی عدم استحکام جو بجٹ سے پہلے متوقع ہے کے  ساتھ ساتھ  اہم علماء پر بیرونی قوتیں قاتلانہ حملے کرواسکتی ہے تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے مذہبی جنگ و جدل تخلیق ہو جائے۔ جیسا کہ مولانا تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ یہی عمل مستقبل میں بھی بیرونی قوتیں اپناسکتی ہیں۔
اکتوبر سے پاک بھارت کشیدگی کا نیا عہد شروع ہونے جارہا ہے امکان ہے یہ منحوس عہد اکتوبر‘ نومبر‘ دسمبر‘ جنوری پر محیط ہوگا۔ اگر اس عہد میں پاک بھارت جنگ ہو جاتی ہے تو اندیشہ ہے بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ امکان ہے یہ جنگ دونوں ممالک  کو کافی نقصان پہچائے گی۔ ماہرین نجوم بھارت کے زائچے میں سال 2019-20-21  کو بہت منحوس تصور کرتے ہیں اور یہ ماہرین نجوم خود ہندو ہیں۔ اگر ان مہینوں میں جنگ وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کا سلسلہ پہلے سے  موجود عالمی جنگ کے حالات سے بھی جڑ سکتا ہے۔
نجوم ماہرین کے مطابق زحل اور مشتری20 سال بعد اکٹھے ہوتے ہیں تو بڑا واقعہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وقوع پذیر ہوتاہے۔79-80 میں سوویت یونین افغانستان میں گھسا تو پھر ٹوٹ بھی گیا تھا۔2001 ء میں د ونوں کے اجتماع سے ٹون ٹاور گرے تو افغانستان و عراق پر جنگ مسلط ہوگئی تھی اب پھر زحل و مشتری کا اجتماع2020-21 ء میں رہے گا جس سے عالمی جنگ کی طرف معاملات تیزی سے جاسکتے ہیں۔ پاک بھارت پر بھی اس کے منفی اثرات ہوں گے۔
محترم روحانی لاہوری بزرگ کے مطابق 2020ء کا صدارتی انتخاب امریکہ میں اندرونی تقسیم کو دو ٹوک ظاہر کردے گا اور امریکہ اندرونی طور پر منقسم ہونے کی طرف رواں ہو جائے گا۔۔ واللہ اعلم بالصواب
 

تازہ ترین خبریں