09:34 am
   کشمیریوں پر بھارتی پابندیوں کی نئی قسط

کشمیریوں پر بھارتی پابندیوں کی نئی قسط

09:34 am

بھارتی حکومت نے ایک اور آمرانہ و جابرانہ فیصلے کے تحت مقبوضہ وادی کشمیر کو دنیا سے ملانے والی سرینگر جموں شاہراہ کو ہفتہ میں دو دن عوام کے لئے مکمل بندکر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پہلی بار اتوار سات اپریل کو یہ شاہراہ عوامی ٹریفک کے لئے بن رہی۔  300کلو میٹر لمبی اس شاہراہ پر دو دن بھارتی فورسز کا ٹریفک چلنے کی اجازت اور عوامی ٹریفک کی بندش سے بھارتی کرنسی میں کشمیری عوام کو150 کروڑ سے2 50 کروڑ روپے (500 کروڑ روپے پاکستانی کرنسی) روزانہ نقصان ہوگا۔ یہ بات مقبوضہ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈ سٹریز نے بتائی ہے۔سرینگر میں پریس کانفرنس میں کشمیر چیمبر کے صدر شیخ عاشق کا کہنا تھا کہ ہفتے میں دو دنوں تک شاہراہ کو عوامی ٹریفک کیلئے بندکرنے کا حکم عوام پر بم گرانے کے مترادف ہے۔
 
کشمیر کی  تجارت اور صنعت کو پہلے ہی بھارت نے تباہ کر دیا ہے۔ اب اس فیصلے سے  یہ مزیدمتاثر ہوگی ۔روزانہ کی بنیادوں پر مقبوضہ  وادی میں 150سے250 کروڑ روپے کے درآمدات اور برآمدات کا نقصان معمولی بات نہیں ہے۔ بھارت کی یوں شہری ٹریفک کی نقل و حرکت میں مداخلت اور عام لوگوں کی زندگی کے خلل کا موجب بنانے کے لئے یہ حکم نامہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ بھارتی حکام کشمیریوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں بدھ اور اتوار کو ختم کردیں۔ سرکاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات موجودہ بھارتی پارلیمانی انتخابات کے دوران موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’بھارتی سیکورٹی فورسز کو سیکورٹی‘‘ دینے اور عوامی زندگیوں کو تحفظ فرہم کرنے کیلئے اٹھائے جا رہے ہیں،جبکہ اس حکم نامہ کا اجراء کرنا از خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں  انتخابات کیلئے ماحول ساز گار نہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن خوف کے سائے میں انتخابات منعقد کرنے کے بارے میں کوئی سوچ نہیں رکھتا،جبکہ غیر جمہوری مشق کیلئے شہری آبادی کو یرغمال بنانا از خود ایک تضاد ہے۔
 ریاستی گورنر کے سامنے کشمیریوں کے عوامی مفادات کبھی بھی مدنظر نہیں ہو سکتے۔عوامی حلقے اس پر چیخ پکار کر رہے ہیں کہ ہفتے میں دو روز شاہراہ عام کی بندش آمریت کی غماز اور عام انسان کو طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کرنے کی شعوری کوشش اور حقوق انسانی کی پامالی کا مظہر ہے اور اس اقدام سے باشندگان ریاست جموں وکشمیر کی بے بسی اور لاچاری اپنے نکتہ عروج کو چھوتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ حقوق انسانی کا احترام، بیماروں اور کاروباری طبقے کے مفاد اور عوام الناس کی راحت رسانی کا بھارت کو کوئی خیال نہیں ورنہ وہ اس طرح کے عوام کش اقدامات سے اجتناب کرتی۔ اس اہم شاہراہ پر پابندی کی وجہ سے مقبوضہ ریاست کی  تاجر برادری وسیاحتی  سکیٹر سے وابستہ طبقے ہی متاثر ہ نہیںہورہے ہیںبلکہ پوری ریاست کی معیشت مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی ہے۔بھارتی سرکار کی پالیسیوں کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے عوام کا ماننا ہے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے ہی کشمیر میں حالات خراب ہوئے۔ بی جے پی  نے جموں و کشمیر میں حالات خراب کردیئے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرسکے۔ شاہراہ پر قدغن لگانا ایک گہری سازش ہے اور لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ ریاست براہ راست نئی دلی کے کنٹرول میں ہے جبکہ لوگوں کی خواہشات اور احساسات کی کوئی قدر نہیں کی جارہی ہے۔
اتوار کی بندش کے بعد پیر کو جموںسرینگر شاہراہ پر جموں سے وادی کشمیر کی طرف ٹریفک کو چلنے کی اجازت تھی اور سینکڑوں کی تعداد میں درماندہ پڑے مال اور مسافر گاڑیوں نے وادی کشمیر کا سفر کیا۔اتوار کے روز شاہراہ پر صرف بھارتی فورسز کی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت تھی اور اس دوران کسی بھی قسم کے سویلین ٹریفک کو شاہراہ پر چلنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں ادھم پور اور جموں میں درماندہ پڑی مال اور مسافر گاڑیوں نے پیر کے روز جموں سے وادی کشمیر کا سفر کیا۔ اس کے علاوہ بانہال ٹنل کے آرپار، بانہال,کھڑی، رامسو، نیل، پوگل پرستان، رام بن اور گول کے کسی بھی قسم کے سویلین ٹریفک کو اتوار کے روز شاہراہ پر چلنے پر مکمل پابندی تھی جس کی وجہ سے لاتعداد لوگوں کی نقل وحرکت مفلوج ہوکر رہ گئی۔اطلاعات ہیں کہ بھارتی فورسز کے لئے دو دن مختص کرنے کے باوجود  پیر کے روز بھی سویلین ٹریفک کے ساتھ ساتھ مختلف بھارتی فورسز کی گاڑیوں نے جموں سے سرینگر کا سفر کیا۔ منگل کو ٹریفک سرینگر سے جموں کے لئے روانہ ہوا تو اس میں بھی بھارتی فورسز کی گاڑیاں شامل تھیں۔ 
بھارت کے اس فیصلے کی پاکستان کو شدید مذمت کرنا چاہئے اور اس ایشو کو سفارتی سطح پر دنیا کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔ بھارتی ہائی کمشنرسے بھی  وضاحت طلب کی جائے کہ بھارت متنازعہ علاقے میں جنگی حالات پیدا کر رہا ہے۔ ان حالات میں عوام پر مظالم ڈھا کراور نسل کشی کے تحت ڈرامہ انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔ عوام کو بندوق کی نوک پر ووٹ ڈالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اب 80لاکھ کشمیریوں کی واحد زمینی سپلائی لائن کو بند کرکے 500کروڑ روپے روزانہ کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ 
انسانی حقوق کی اس بدترین خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس پر آواز بلند نہ کی گئی تو آئندہ یہ پابندیاں شدت سے تیز ہو سکتی ہیں۔ بھارت کے یہ مظالم کشمیریوں کو جدوجہد ترک کرانے کے حربے ہیں اور انہیں جنگی ہتھیار کے طور پر بروئے کار لایا جار ہا ہے جس کے خلاف بڑے پیمانے پر سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ 

تازہ ترین خبریں