09:35 am
عمران خان‘ ایم کیو ایم اور حمزہ شہباز

عمران خان‘ ایم کیو ایم اور حمزہ شہباز

09:35 am

’’ایم کیو ایم کے اراکین سب سے زیادہ نفیس لوگ ہیں‘ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے نظریات  ایک جیسے ہیں‘‘ وزیراعظم عمران خان اگر یہ کہتے ہیں تو پھر درست ہی کہتے ہوں گے۔
 
عمران خان کے اس بیان کو سچ تسلیم کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ وہ تحریک انصاف کے سدابہار چیئرمین بھی ہیں‘ مطلب یہ کہ پنجاب اور کے پی کے والوں نے جس تحریک انصاف کو سپورٹ کیا تھا وہ تحریک انصاف کے روپ میں ایم کیو ایم تھی۔
’’نفاست‘‘ کا پیمانہ نجانے عمران خان کے نزدیک کیا ہے؟ ورنہ ڈرل مشینوں کے ذریعے انسانی جسموں میں سوراخ کرنا‘ جیتے جاگتے انسانوں کے جسم کے ٹکڑے کرکے بوریوں میں بند کرکے مختلف گرائونڈز اور سڑکوں پر پھینک دینا‘ مساجدوں کے صحن کھود کر اسلحے کے انبار چھپانا‘ لسانیت کے نام پر ہزاروں انسانوں  کو تڑپا تڑپا کر مارنا‘ کالجز اور یونیورسٹیوں میں معصوم طلباء کو قتل کرکے غنڈہ راج قائم کرنا‘ چھوٹی  دوکانوں سے لے کر بڑی مارکیٹوں‘ کارخانوں سے لے کر فیکٹریوں تک بھتہ خوری کی لاتعداد مثالیں قائم کرنا‘ نامور علماء کو گولیوں سے چھلنی کر ڈالنا‘ مدارس کے طلباء کو خاک و خون میں نہلانا‘ مارکیٹوں کو نذر آتش کرکے فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کرنا‘ کراچی کے مہاجر  نوجوانوں کو  حقوق کے نام پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایجنٹ بنا کر فورسز پر حملے کروانا۔
وکیلوں کو ان کے دفتروں میں زندہ جلا ڈالنا‘ بلدیہ کی فیکٹری کو ڈھائی سو سے زائد مزدوروں سمیت جلا کر خاکستر کر ڈالنا‘ ذرا‘ ذرا سی بات کا بہانہ بنا کر بھارت اور عالمی طاقتوں سے پاک فوج کے خلاف مدد مانگنا‘ تین‘ تین دن تک ہڑتالیں کرکے کراچی کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانا‘ الطاف حسین جیسے ظالم‘ موذی کو نعوذ باللہ انسانیت کا محسن قرار دینا‘ ہڑتالوں کے دوران کراچی کے مظلوم شہریوں کی ہزاروں گاڑیوں کو آگ لگا دینا‘ اگر ’’نفاست پسندی‘‘ اس کا نام ہے تو یہ نفاست پسندی عمران خان اور ایم کیو ایم کو ہی مبارک ہو‘ پاکستانی قوم نے تو نہ پہلے ایم کیو ایم کو قبول کیا تھا اور نہ اب کرے گی‘ رہ گئی بات تحریک انصاف کی...اگر بقول عمران خان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے نظریات ایک جیسے ہی ہیں تو پھر صوبہ پنجاب اور کے پی کے عوام کو سوچنا پڑے گا کہ آئندہ وہ کسی ایسی جماعت کو نہ تو ووٹ دیں اور نہ ہی سپورٹ کریں کہ جس کے نظریات ایم کیو ایم جیسی فاشسٹ جماعت کے نظریات کے ساتھ ملتے ہوں۔
تحریک انصاف کے سنجیدہ فکر کارکنوں کو عمران خان کے اس بیان کے خلاف زور دار آواز اٹھانی چاہیے‘ بالکل اسی طرح کہ جس طرح کی آواز انہوں نے ایک قادیانی کو اقتصادی کونسل کا رکن بنانے کے موقع پر بلند کی تھی‘ بھاڑ میں جائے ایسی سیاست کہ جس سیاست کے مکروہ کھیل میں کراچی کے بے گناہ ہزاروں شہیدوں کے خون کا سودا کرلیا جائے‘ تحریک انصاف کو سوچنا چاہیے کہ اگر وہ یہ مانتے ہیں کہ انہیں اقتدار اللہ کی  توفیق سے ملا ہے تو پھر ان کے سامنے پورا ملک ہے‘ وہ اس اقتدار کے بل بوتے پر جی بھر کر ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں...بگڑے معاملات کو سنوار سکتے ہیں۔
وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان ‘زرداری اور شریفوں کو تو للکارتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم بنے ہی لوٹ مار کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے ہیں‘ یقینا جس نے بھی لوٹ مار کی اس کو سزا بھی ملنی چاہیے‘ لیکن جس عمران خان کے نزدیک کرپشن جرم اور جن پر کرپشن الزامات ہیں وہ مجرم ہیں‘ اسی عمران خان کے نزدیک کراچی میں ہزاروں انسانوں کا قتل‘ بھتہ خوری‘ لسانی دہشت گردی جرم اور اس میں ملوث جماعت مجرم کیوں نہیں؟
کیا اس لئے کہ اس ایم کیو ایم نے عمران خان کی حکومت بنانے میں تعاون کیا ہے؟ یہ دوہرا معیار دیکھ کر کہیں عوام یہ سوچنے پر مجبور نہ ہو جائیں کہ کرپشن  کے خلاف احتساب کا نعرہ محض سیاسی ڈھونگ اور مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے ہے۔ جمعہ اور ہفتہ دو دن تک لاہور میں شہباز شریف کے فرزند حمزہ شہباز کے گھر کے باہر نیب ٹیم نے جو تھیڑ لگائے رکھا اس سے پاکستان کو پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا‘ حمزہ شہباز نے جس طرح سے سینکڑوں کارکنوں کو نیب ٹیم کے سامنے کھڑا کرکے اس قومی ادارے کی بے بسی‘ بے کسی اور کسمپرسی کا مذاق اڑایا...اس سے قانون کی حکمرانی کے تصور کو سخت دھچکا لگا... اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو ایم پی اے یا ایم این اے چاہے چار‘ پانچ سو لوگ اکٹھے کرکے قومی اداروں کو جھکنے پر مجبور کر دے؟ چیئرمین نیب ہوں یا وزیراعظم عمران خان قوم ان سے یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ ’’قانون کی حکمرانی‘‘ کو یقینی بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟
گھر میں موجود ملزم کو رینجرز اور پولیس کی موجودگی کے باوجود نیب ٹیم دو دن کی کوششوں کے باوجود اگر گرفتار کرنے میں ناکام ثابت ہوئی تو پھر ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا کس بلا کا نام ہے؟
ذرا سوچئیے کہ اگر کوئی مذہبی کارکن گرفتاری سے بچنے کے لئے مسجد میں پناہ لے لیتا تو  ادارے اس کارکن اور اس مسجد کا کیا حشر کر ڈالتے؟ سیدھی سی  بات ہے قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں‘ لیکن کمزور کو گرفتار کرنے کے لئے تو اس کے گھر کے برتن تک الٹ دئیے جائیں اور طاقتور کے سامنے قانون بھیگی بلی بن جائے تو پھر اس بات پر یقین رکھنا پڑے گا کہ آج ایم کیو ایم کو نفیس قرار دینے والے وزیراعظم کل کلاں کو شریفوں کی امانت و دیانت کی گواہی دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔

 

تازہ ترین خبریں