09:36 am
حکومت ہٹائو تحریک، شروع!

حکومت ہٹائو تحریک، شروع!

09:36 am

٭حکومت ہٹائو تحریک، تیاریاں شروع O آصف زرداری و فریال کی استثنا کی درخواستیں مسترد O معیشت ڈیڑھ سال میں ٹھیک ہو گی:اسد عمر O بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنے گا:بی جے پی کا منشور O مقبوضہ کشمیر:400 رہنمائوں کی سکیورٹی بحال O پنجاب پولیس: تین لاکھ چار ہزار نئی وردیاں، 90 کروڑ کے اخراجات، 80کروڑ کی موجودہ وردیاں ضائع ۔
 
٭قارئین کرام! شائد آپ تک وہ منظر پہنچا کہ نہیں کہ احتساب عدالت میں آصف زرداری کے ساتھ کیا گزری؟ آیئے عدالت میں چلتے ہیں۔ یہ بات تو جلی سرخیوں کے ساتھ چھپ گئی کہ عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ دونوں بہن بھائیوں کو بار بار عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دے دیا جائے۔ ان دونوں کی یہ درخواست پہلے ہی مسترد ہو چکی ہے کہ ان کے خلاف جعلی اکائونٹس کیس کی سماعت کراچی میں کی جائے۔ کراچی سے سماعت تو اس لئے تبدیل کی گئی تھی کہ نیب کے حکام اور عملے کو اس کیس میں ملوث افراد کے ساتھیوں کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ دوسرے یہ کہ زرداری لوگوں کی عدالت میں آمد پر پیپلزپارٹی کے ارکان جلوس کی شکل میں عدالت کے اندر اور باہر جمع ہو جاتے اور نعرے لگاتے تھے۔ عدالت میں حاضری سے استثنیٰ اس لئے نہیں دیا جا سکتا کہ ایسے کیسوں میں ملزم کو ہر بار عدالت میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ صرف کسی شدید علالت وغیرہ کی بنا پر غیر حاضر ہونے کی اجازت ملتی ہے۔ نوازشریف نے عدالتوں میں 100 سے زیادہ پیشیاں بھگتیں، صرف دو تین بارغیر حاضر ہوئے۔ زرداری خاندان کا تو اسلام آباد میں عالی شان گھر بھی ہے، انہیں رہائش کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں!
٭اب ذرا وہ منظر جس کا ابتدا میں ذکرکیا ہے۔ احتساب عدالت میں جعلی اکائونٹس اور 35 ارب کی منی لانڈرنگ کیس میں ملوث آصف زرداری، فریال تالپور اور چھ دوسرے ملزم احتساب عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔ آصف زرداری اس کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں جس پر نوازشریف بیٹھتے تھے اور فریال تالپور اس کرسی پر ہیں جس پر مریم نواز بیٹھتی تھی۔ قانون کے مطابق تمام ملزم عدالت کے روبرو، کٹہرے میں کھڑے ہو کر رجسٹر پر حاضری لگاتے اور دستخط کرتے ہیں۔ آصف زرداری اور فریال کرسیوں پر بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کے وکیل ان تک حاضری والا رجسٹر لے جاتے ہیں۔ دونوں حاضری لگاتے ہیں، عدالت برہم ہو جاتی ہے۔ حکم دیتی ہے کہ کٹہرے میں کھڑے ہو کر حاضری لگائی جائے۔ آصف زرداری کا موڈ خراب ہو جاتا ہے، مگر دونوں کو کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ دونوں بہن بھائی کھڑے ہو کر دستخط کرتے ہیں۔ دونوں باہر آتے ہیں۔
  ایک صحافی پوچھتا ہے کہ نوازشریف والی کرسی پر بیٹھنا کیسا لگا؟ آصف کا جواب ہے کہ وہ بڑے لوگ ہیں، ہم تو چھوٹے لوگ ہیں۔ آئین کے مطابق ملک کے صدر اور گورنروں کو عدالت میں زیر سماعت کیسوں میں حاضری اور سماعت سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ ان کے اقتدار کے عرصے میں ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ زیر سماعت نہیں آ سکتا نہ ہی درج ہو سکتا ہے۔ پہلے سے دائر مقدمہ ان لوگوں کے عہد اقتدار تک ملتوی رہتا ہے ۔صدر اور گورنر اپنے عہدوں سے دستبردار ہوتے ہیں۔ عام شہری بن جاتے ہیں، انہیں کوئی استثنا حاصل نہیں رہتا۔ ایک مثال موجود ہے۔ ایم کیو ایم کا ایک کارکن عشرت العباد قتل کے ایک مقدمے میں ملوث تھا۔ کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتا تھا۔ اسے گرفتاری سے بچانے کے لئے ایم کیو ایم کی قیادت نے سندھ کا گورنر بنوا دیا۔ وہ 14 سال گورنر رہا اور گرفتاری سے بچا رہا۔ ایک رات کو گورنری سے فارغ ہوا تو خدشہ ہوا کہ صبح گورنر ہائوس سے باہرنکلتے ہی پولیس اپنے ساتھ لے جائے گی۔ وہ ڈر کے مارے گورنر ہائوس سے ہی سیدھا ہوائی اڈے پر پہنچا اور دبئی بھاگ گیا، وہیں روپوش ہے۔
٭مختلف حلقوں میں حکومت گرانے کی باتیں تیز ہو رہی ہیں۔ بلاول زرداری کی لات مارکر، آصف زرداری کی دھرنا دے کر اور مولانا فضل الرحمان کی 30 لاکھ کے لشکر کے ساتھ حکومت کو گرانے کی جھلکیاں، دھمکیاں اور بھبکیاں خبروں کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ زرداریوں کو تو عدالتوں کی پیشیاں ہی سانس نہیںلینے دیتیں، فضل الرحمان گروپ کی نوازشریف سے ملاقات ہوئی ہے البتہ کچھ مسائل پیش ہیں۔ مولانا کے مطابق اب تک بڑے شہروں میں 9 ملین مارچ (90 لاکھ افراد) ہو چکے ہیں۔ چند ملین مارچ باقی رہ گئے ہیں پھر 30 لاکھ افراد کا لشکر اسلام آباد پر حملہ آور ہو گا۔ اسلام آباد کی کل آبادی 10 لاکھ دو ہزار ہے۔ 30 لاکھ مہمانوں کی آمد پر 40 لاکھ، موجودہ سے 4 گنا، ہو جائے گی۔ 30 لاکھ افراد کی رہائش، ناشتہ، دو وقت کھانا، سینکڑوں بلکہ ہزاروں واش رومز، ہزاروں شامیانے، کرسیاں وغیرہ، اچھا خاصا مسئلہ ہو گا۔ ظاہر ہے مولانا یہ سارا انتظام کر کے آئیںگے۔ عمران خان کا دھرنا 126 دِن چلا تھا۔ کھانا چودھری خاندان بھیجتا تھا۔ یہ لوگ فارغ تھے، کام کوئی نہیں تھا۔ دن کے وقت سوتے تھے یا اپنے گھروں کے چکر کاٹ آتے تھے۔ رات کے وقت گاتے ناچتے تھے، ذرا فرصت ملتی تھی تو قریب ترین پارلیمنٹ یا ٹیلی ویژن کی عمارتوں پر چڑھ دوڑتے تھے مگر پولیس اور فوج کو دیکھ کر راستے میںسے ہی واپس آ جاتے تھے! 126 دن تک حکومت کے کانوںپر جوں تک نہ رینگی تو دھرنا ختم کر کے خیر سے گھروں کو لوٹ آئے۔ یہ دھرنا صرف چند ہزار کا تھا (اسے بھی لاکھوں کا کہا جاتا تھا) ۔مولانا کے دھرنے میں 30 لاکھ افراد کی آمد و رفت معمولی بات نہیں ہو گی۔ (پشاور کی کل آبادی 30 لاکھ ہے)۔ بہرحال فارغ لوگوں کے دعوے کرنے، نعرے لگانے میںکیا ہرج ہے!
٭ایک خبر:وزیرخزانہ اسد عمرکی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں ہر چیز کی شدید مہنگائی پر ’گہری‘ تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عوام کو اور کیا چاہئے؟ تشویش اور وہ بھی گہری!
٭سپریم کورٹ میں لاہور میں 22 ایسے مقامات کی لیز پر نیلامی کا کیس زیر سماعت ہے جو سابق شریف حکومت نے اپنے عزیز و اقارب کو برائے نام کرایہ پرسرکاری زمین، بعض جگہ گرین بیلٹ، پر پٹرول پمپ لگانے کے لئے الاٹ کر دیتے تھے۔ حکومت تبدیل ہونے پر پمپ ختم کر دیئے گئے۔ اب انہیں باقاعدہ نیلام کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں پیشی پر ایک صاحب نے کہا کہ اس کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا تھا، وزیراعلیٰ نے اسے تقریباً دو کنال سرکاری زمین پٹرول پمپ کے لئے دے دی۔ ایک انکشاف ہوا کہ مصری شاہ علاقے میں ایک وسیع قطعہ اراضی صرف 600 روپے ماہانہ پر ایک قریبی رشتہ دار کو بخش دیا گیا تھا۔
٭کچھ دلچسپ خبریں: چین کے ایک شہر میں نوجوان بارات لے کر دلہن لانے گیا۔ دلہن کے آنے سے پہلے اس نوجوان کی پرانی گرل فرینڈ دلہن کا لباس پہن کر شادی والی سٹیج پر آ بیٹھی۔ اصل دلہن نے یہ منظر دیکھا تو دولہا کو گالیاں دیتی باہر بھاگ گئی۔
٭ٹیلی ویژن پر برازیل کی ایک سٹی کونسل میں شدید ہنگامہ خیز لڑائی دیکھ کر بہت لطف آ رہا ہے۔ ہاتھا پائی، مکے، ٹھڈے، کرسیاں چلی رہی ہیں۔ خواتین ایک دوسری کے بال نوچ رہی ہیں۔ چیخ رہی ہیں۔ کافی عرصہ پہلے آذربائیجان کی اسمبلی میں ایسا دلچسپ منظر دیکھا تھا۔ ہمارے ایسے ہنگامے جزوی طور پر ہوتے ہیں، صرف کاغذ پھاڑے جاتے ہیں۔ سپیکر کا گھیرائو کیا جاتا ہے۔ مخالفین کے خلاف کچھ طے شدہ نعرے لگائے جاتے ہیں، پھر یہ سارے مخالفین کیفے ٹیریا میںآپس میں بیٹھ کر پرلطف چائے پیتے ہیں اور قہقہے لگاتے ہیں۔ مخالف نعرہ زن خواتین بھی اکٹھی ہو کر ایک دوسری سے پوچھتی ہیں کہ یہ نیکلس کہاں سے خریدا ہے؟…تمہارے جُھمکے بھی خوبصورت ہیں!… تم نے دیکھا نہیں میں نے یہ بیگ کل ہی خریدا ہے، پورے 85 ہزار کا!

 

تازہ ترین خبریں