08:02 am
یہی وقت ہے کچھ کر دکھانے کا

یہی وقت ہے کچھ کر دکھانے کا

08:02 am

مولانافضل الرحمن جن کی اہمیت وحیثیت سیاسی میدان میں مسلم ومحترم ہے وہ جی جان سے حکومت وقت کورخصت کرنے یاگرانے میں پیش پیش ہیں اس سلسلے میں پہلے ہی اپنی جماعت کاموقف پیش کرچکے ہیں چونکہ یہ اکیلے ان کی جماعت کے بس کی بات نہیں اس لے وہ ن لیگ کے میاں نوازشریف سے مل کر بقول ان کے وہ میاں نواز شریف کو’’ حکومت گرائو جان چھڑائو ‘‘پرراضی کر چکے ہیں ایک آدھ روز میں زرداری سے مل کرانہیں راضی یاتیار کرلیں گے۔ آصف زرداری کے صاحبزادے پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ لات مارکر وہ عمران خان کی حکومت گرادیں گے کچھ ہی دن رہ جاتے ہیں حزب اختلاف اگرواقعی متحد ہوجاتی ہے توحکمرانوں کووخت پڑ سکتاہے ۔
 
وزیر اعظم عمران خان کیلئے سخت وقت آنے والا ہے۔ وہ صورت حال کی طرف فوری متوجہ ہوں۔ ملک کے عظیم تر مفاد میں پارٹی رہنمائوں کو باہمی اختلافات سے بلند ہوکر ملک و قوم کے مفاد میں اپنے اندرونی اور بیرونی اختلاف کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔ موجودہ حکومت جن حالات اور اقتصادی صورت حال سے دوچار ہے۔ اسے قدم قدم پر بہت احتیاط اور ہوش مندی کی ضرورت  ہے۔ حکمران پارٹی کا مختلف دھڑوں میں بٹنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔ حکمران جماعت کے دو انتہائی اہم رہنما ذاتی اختلافات کے باعث آمنے سامنے آگئے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں کھلے عام لفظی جنگ شروع  ہوچکی ہے، دوسری طرف شیخ رشید اور چوہدری فواد میں بھی رسہ کشی مخفی نہیں۔ کئی  رہنمائوں  کے ذاتی اور اندرونی اختلافات کھل کر قوم کے سامنے آنے لگے ہیں۔ موجودہ ملکی حالات میں جب کہ بھارت ہر لمحہ جارحیت پر آمادہ ہے۔ وہ مسلسل سرحد پر بلا جواز اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارت جانے کس کی شہ پر یا اپنی نادانی کے باعث صرف الیکشن جیتنے کے حربے کے طور پر ہر روزکوئی نہ کوئی واردات سرحد پر کر رہا ہے۔ اس سے وطن عزیز کو اتنا نقصان نہیں ہو رہا جس قدر نقصان بھارتی افواج کا ہو رہا ہے۔سپہ سالار پاکستان نے جیسا کہ کہا تھا کہ اگر بھارت ہمارا ایک نقصان کرے گا تو جوابی کارروائی میں ہم اس کا تین گنا نقصان کریں گے اور ابھی تک ایسا ہو بھی رہا ہے۔
حکمران جماعت کو پے در پے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوئے جو کسی وجہ سے موخر ہوگئے تھے۔ اب ایک بار پھر نئی تیاری کے ساتھ آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلے وزیرخزانہ امریکہ چلے گئے ہیں آئی ایم ایف ‘ عالمی سود خور ادارہ جو اپنے قرض خواہوں کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھتا ہے۔ وہ ہر معاملہ جس سے ذرائع آمدن جڑے ہوں  ان پر خصوصی توجہ رکھتا ہے اور ان ذرائع کو مضبوط تر رکھنے کی شرائط لاگو کرتا ہے تاکہ اس کی رقم جو وہ امداد کے نام پر فراہم کرتا ہے محفوظ رہے۔ ایک ایسے نازک موقع پر جب پیکیج اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ وزیر خارجہ کا آپے سے باہر ہونا کسی طرح مناسب نہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل جو تبدیلی کا ایجنڈا قوم کو دیا تھا اسے اگر دیکھا اور سمجھا جائے تو ملکی معیشت کے استحکام کو خارجہ اور داخلی پالیسیوں کے تناظ میںدیکھنا ضروری ہوگا جب کہ حکومت کو ایک نئے پاکستان کی تعمیر و تشکیل کرنا ہے۔ اگر داخلی طور پر حکمرانوں میں اختلافات یونہی برقرار رہتے ہیں، وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے باز نہیں آتے تو پھر عمران خان کا نئے پاکستان کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا حالانکہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں مشترکہ طور پر اعلان کرچکی تھیں لیکن اب صورت حال بدل رہی ہے۔ پہلے حزب اختلاف حکومت کو پورا موقع دینے کو تیار تھی کہ وہ اپنا وقت پورا کریں اور ملک و قوم کو اپنے اعلان کردہ تمام وعدے پورے کرکے دکھائے لیکن حکمران جماعت اپنے ہر وعدے کے خلاف ہی عمل پیرا ہے۔ اسی سبب سے مخالفین یوٹرن کی بات کرتے نہیں تھکتے۔ حکمران جماعت کو سمجھنا ہوگا۔ بقول ان کے جن خراب حالات میں انہیں حکومت ملی ہے وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اپنے وعدے پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ حالانکہ الیکشن سے قبل تو کسی کو گمان تک نہیں تھا کہ ایسا ہوجائے گا کہ عمران خان  بر سر اقتدار آجائیں گے۔ شاید انہیں خود بھی اتنا یقین نہیں تھا لیکن اللہ کی مہربانی اور بقول میاں نواز شریف کے بقول خلائی مخلوق کی مداخلت سے ان کا پانسہ پلٹ گیا۔ کچھ دیر کے لیے اگر فرض کرلیا جائے کہ حکومت میاں نواز شریف کی جماعت کو مل جاتی تو کیا انہیں بھی یوں ہی قدم قدم پر نت نئے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا؟
حکمران جماعت کو بہت سنبھل سنبھل کر قدم اٹھانا ہوگا مخالفین کونشانہ ہدف بنانے ا اور فروعی اختلافات کو ہوا دینے سے مخالفین کو موقع مل جائے گا۔ ہر کوئی ان کی کمزور کارکردگی پر انگلیاں اٹھائے گا۔ یہ وقت کسی قسم کی مہم جوئی کا نہیں ہے۔ امن و امان کی صورت حال پر گہری نظر رکھنا ہوگی۔ عوام میں مہنگائی کے طوفان سے لاوا پکنا شروع ہو رہا ہے اسے ایک معمولی سے جھٹکے کی ضرورت ہوگی۔ اگر کسی وقت متحدہ حزب اختلاف نے عوام کی حمایت کی آڑ لے کر کوئی قدم اٹھایا تو اسے سنبھالنا حکومت کے بس کی بات نہیں رہے گی۔ ابھی نیشنل الیکشن پلان پر عمل درآمد ہونا بھی باقی ہے۔ آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج کا معاملہ بھی ابھی اٹکا ہوا ہے۔ دوسری طرف افواج پاکستان کو بھی ہر لمحہ چوکس اور ہوشیار رہنا ہے۔ بھارت ایک موذی دشمن ہے جو کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اگر کہیں امریکہ نے اسے ہلکی سی تھپکی دے دی تو وہ بلا سوچے سمجھے آگ میں کود سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان پوری طرح چوکس رہتے ہوئے بھارت کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ملکی سلامتی اور بھارتی عزائم اور جنگی جنون کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اندرونی بیرونی اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔ اگر حکمران جماعت کے پاس حکومت رہی تب ہی تمام ارکان کابینہ وزیر اور مشیر قائم رہ سکیں گے اور اگر کسی بھی سبب سے اختلاف کی خلیج کم ہونے یا ختم ہونے کے بجائے یوں ہی بڑھتی ہی رہے تو سب کچھ خواب بن کر رہ جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ ملک میں امن و استحکام، معاشی ترقی اور انتظامی اداروں کو مضبوط کیاجائے۔ قومی یک جہتی کا ثبوت دیا جائے۔ حکمرانوں کو چاہیے کوئی ایسا قدم اٹھائیں جس سے تمام سیاسی، عسکری اور عوامی قیادت ایک صف میں آکھڑے ہوں۔ قوم سیسہ پلائی دیوار کے مانند افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو، حکمرانوں کو بہت نپے تلے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ سب سے پہلے اپنی جماعت کے اندرونی بیرونی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا اور داخلی اور خارجہ صورت حال کی نزاکت کا احساس کرنا ہوگا۔ یہی وقت ہے کچھ کر دکھانے کا۔ اللہ تعالیٰ ہماری ہمارے وطن عزیز کی ہر ہر طرح سے حفاظت فرمائے آمین۔

 

تازہ ترین خبریں