08:03 am
یمن کی جنگ سے باہر نکلیں

یمن کی جنگ سے باہر نکلیں

08:03 am

شاہ سلمان بن عبدالعزیزکوسعودی عرب کا تخت سنبھالے چارسال ہوچکے ہیں۔ ان چارسالوں میں ملک مکمل طورپرتبدیل ہوچکاہے۔ریاست پہلے سے زیادہ غیر مستحکم ہوچکی ہے۔ ریاستی اقدامات بھی پہلے کی نسبت زیادہ غیرمتوقع اور جابرانہ ہوتے جارہے ہیں۔ شاہ سلمان اپنے بھائی اوراس وقت کے بادشاہ شاہ عبداللہ کی جانب سے ولی عہد مقرر کیے جانے سے پہلے 50سال تک ریاض کے گورنر رہے تھے۔اس عرصے میں انہوں نے ایک چھوٹے سے صحرائی قصبے کے ایک جدید شہر بننے کے عمل کی نگرانی کی۔ اس دوران وہ بہت محتاط طریقے سے وہابی علما کو بھی ساتھ لے کر چلے۔وہ شاہی خاندان کے نگران بھی تھے کیوںکہ خاندان کے اکثرافراد ان کی عملداری کے علاقے میں ہی رہتے تھے۔
بادشاہتوں میں جانشینی کاعمل ہمیشہ ہی ایک کمزورپہلورہاہے لیکن شاہ سلمان کے تخت پربیٹھنے سے نصف صدی پہلے سعودی عرب میں جانشینی کاسلسلہ بالکل واضح تھااوروہ یہ کہ ابن سعود کے بیٹے بہ لحاظ عمرتخت کے حق دارہوں گے۔شاہ سلمان جانشینی کاسلسلہ ایک سے زائد مرتبہ تبدیل کرچکے ہیں۔انہوں نے اپنے بیٹے کوولی عہد مقررکرنے کیلئے دوولی عہدوں کوعہدے سے معزول کیا۔سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کوان کے خاندان سے الگ کرکے نظربندکردیا گیا ہے۔ظاہری طورپروہ شاہی خاندان کی وفاداری حاصل کرنے میں محمد بن سلمان کے حریف تھے۔ محمدبن نائف کے ساتھ ہونے والاسلوک موجودہ بادشاہ اورولی عہد کے ابن سعودکے نظام میں تبدیلی کی عکاسی ہے۔
عام شنیدہے کہ گزشتہ چارسال میں سعودی عرب ایک سخت اوربے رحم آمریت کی شکل اختیارکر گیا ہے۔ حقوق نسواں کے کارکنوں کوریاستی ظلم وجبرکانشانہ بنایاجارہا ہے۔ لیکن یہ سب درست نہیں کیونکہ پہلی مرتبہ ولی عہدنے سعودی خواتین کوبہت سے معاملات میں آزادی دی ہے جس میں ڈرائیونگ لائسنس کے علاوہ سفارتکاری کے میدان میں تقرریاں بھی شامل ہیں۔
شاہ سلمان نے اپنی بادشاہت کے ابتدائی تین سالوں میں کئی غیرملکی دورے کیے۔ان دوروں میں مراکش کا تفریحی دورہ بھی شامل تھا۔تاہم گزشتہ سال انہوں نے کوئی غیرملکی دورہ نہیں کیا۔ ممکن ہے کہ وہ اپنی صحت کے باعث سرکاری دوروں سے اجتناب کررہے ہوں لیکن یہ طویل تفریحی دوروں سے پرہیزکی وجہ نہیں ہوسکتی۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں موجود عدم استحکام کی وجہ سے ان کا غیر ملکی دورے کرنا مناسب نہیں ہوگا۔محمد بن سلمان نے حال ہی میں کابینہ میں متعدد تبدیلیاں کی ہیں۔ان میں سب سے اہم تبدیلی نیشنل گارڈ کے سربراہ کی ہے۔
نیشنل گارڈسلطنت کو داخلی خطرات سے بچانے کے ذمہ دارہوتے ہیں۔ محمد بن سلمان نے 32سالہ عبداللہ بن بندربن عبدالعزیز کو نیشنل گارڈ کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے مکہ کے نائب گورنر تھے۔ وزیر دفاع کا قلمدان محمد بن سلمان نے اپنے پاس رکھا ہے۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل گارڈ کے سربراہ اوروزیردفاع دونوں ہی نہ توفوجی تجربہ رکھتے ہیں اورنہ ہی انہوں نے فوجی تربیت حاصل کی ہے ۔محمد بن سلمان کے اہم فیصلوں میں یمن کی جنگ بھی شامل ہے۔خطے کے دوتیل پیداکرنے والے امیر ملکوں نے اس جنگ میں عرب دنیاکے سب سے غریب ملک کوتباہ کرکے رکھ دیاہے۔وہاں جنگ کے نتیجے میں ایک انسانی المیہ جنم لے چکاہے۔جہاں سعودی عرب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کوشکست دینے کیلئے بے تحاشا وسائل صرف کررہاہے وہاں ایران کے بھی جنگی بجٹ میں بے پناہ اضافہ ہوگیاہے۔
اس طرح دواسلامی ملک ایک بین الاقوامی سازش کاشکاراپنے ہی ہاتھوں اپنے وسائل بربادکرنے پرتلے ہوئے ہیں جس سے امت مسلمہ سخت اذیت کاشکارہے۔ یمن کے شہر حدیدہ میں جنگ بندی کیلئے اقوام ِمتحدہ نے مصالحانہ کرداراداکیا۔یہ یمن میں جنگ بندی کیلئے کی گئی پہلی ٹھوس کوشش تھی۔ بین الاقوامی برادری کوچاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ہاتھ مضبوط کرے تاکہ یمن میں قیدیوں کے تبادلے کی نگرانی کی جاسکے اوردیرپاجنگ بندی کی راہ ہموارکی جاسکے۔
سعودی عرب کواپنی معیشت میں تنوع لانے، صنفی امتیازکومزیدکم کرنے اوربین الاقوامی برادری میں اپنے تعلقات بڑھانے میں کئی چیلنجوں کاسامناہے جبکہ ایرانی عوام مہنگائی کے ہاتھوں کئی مرتبہ سڑکوں پرآکراپنی بدحالی کی دہائی دے چکی ہے۔ جمال خاشقجی کے قتل نے صورت حال کو مزیدپیچیدہ اورغیریقینی بنادیاتھالیکن محسوس ہوتاہے کہ سعودی حکومت بالآخر اس دبائوسے باہر نکل چکی ہے۔ ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک یمن کی جنگ سے باہرنکلیں اورجنگ کی آگ میں اپنے وسائل جھونکنے کی بجائے اپنے ملک کے مفادعامہ اورامت مسلمہ کودرپیش مسائل کی طرف توجہ دیں۔ 

تازہ ترین خبریں