08:08 am
ایک قصہ پاکستان کے چاول اور سرخ مرچوں کا

ایک قصہ پاکستان کے چاول اور سرخ مرچوں کا

08:08 am

٭پاکستانی چاول اور سرخ مرچوں میں کیڑے، میکسیکو نے درآمد بند کر دی، انڈونیشیا پہلے ہی بند کر چکا ہےO حمزہ شہباز، سلمان شہباز کی اولادوں کی پیدائش لندن میں، شہباز شریف کا معائنہ لندن میں Oپاکستان کی مسیحی خاتون فوجی افسر میجر صاعقہ کا اعلیٰ اعزاز O ’’یہ لاہور ہائی کورٹ نہیں، جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لیا جائے۔‘‘ جسٹس عظمت سعید، سپریم کورٹ O بیرون ملک جائیداد! لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان مستعفی O عمران خا ن نہیں کوئی پس پردہ (فوج) حکومت کر رہی ہے:فضل الرحمن O اسلام آباد: نوجوانوں کی کچرا صفائی کی مہم۔
 
٭میکسیکو پاکستان کے چاول کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔ اذیت ناک خبر کہ چاول کے ملک دشمن کاروباری افراد نے پاکستان سے جانے والی ہزاروں من چاولوں کی کھیپ میں ردی اور ناقابل استعمال چاول بھر دیئے ان میںکیڑے پھر رہے تھے۔ میکسیکو نے یہ چاول مسترد کر دیئے اور آئندہ کے لئے پاکستان کی بجائے بھارت اور تھائی لینڈ سے چاول کی درآمد کا معاہدہ کر لیا ہے! صرف یہی نہیں، ان بددیانت تاجروں نے مزید خباثت کا مظاہرہ کیا (معذرت! میرے پاس نرم الفاظ نہیں) کہ سرخ مرچوں کی بھی بالکل ناقابل استعمال ردی کھیپ بھیج دی، اس میں بھی کیڑے پھر رہے تھے، سرخ مرچ کی بھی برآمد بند ہو گئی ہے! اس سنگین جرم پر کیا کارروائی ہوئی ہے؟ کوئی اطلاع نہیں۔ کارروائی ہو گی بھی نہیں۔ چور اور چوکیدار مل جائیں تو کیسی کارروائی؟ چاولوں کی برآمد لاکھوں، کروڑوں کا نہیں، اربوں کا کاروبار ہے۔ ملک پہلے ہی زرمبادلہ کی شدید قلت کی زد میں ہے۔ چاول اور سرخ مرچ کی ناقص برآمدکا یہ ملک دشمن ناقابل معافی جرم سنگین غداری کی زد میں آتا ہے۔ وفاقی حکومت کی بہت بڑی تجارت اور خوراک کی وزارتیں ہیں۔ یہ اربوں کی درآمدات اور برآمدات کی نگرانی کرتی ہیں۔ بیرون ملک کوئی چیز بھیجنے کے بارے میں بار بار سخت چیکنگ بہت ضروری ہے۔ ایک ایک چیز کی پوری طرح سے جانچ پڑتال اور اس پر قابل استعمال ہونے کی تصدیقی مہر ہونی چاہئے مگر…مگر! ہمارے تاجروں کی ساکھ کیا ہے؟ کہ جاپان پاکستان سے آم منگواتا ہے تو پاکستان کے اندر ہی خاص مشینوں کے ذریعے ایک ایک آم کی مکمل سکریننگ کرتا ہے۔ دوسرے ممالک بھی اس طرح معائنہ کرتے ہیں۔ مجھے نیویارک میں یہ جان کر سخت اذیت پہنچی کہ امریکہ میں پاکستان سے کوئی پودا، پھل، کوئی سبزی نہیں جاسکتی۔ وہاں میکسیکو سے مولیاں اور کھیرے، لبنان سے بدمزہ آم آ رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزارت تجارت اور خوراک کے عملہ نے باہر جانے والے چاول اور سرخ مرچوں کو چیک نہیں کیا ؟ کیا ان کی آنکھوں کی بینائی مفلوج ہو چکی تھی کہ انہیں ناقابل استعمال ردی چاول اور مرچیں اور ان میں پھرتے ہوئے کیڑے دکھائی نہیں دیئے؟ دکھائی کیسے دیتے؟ ملک دشمنی کے اس کھیل میں حکام نے تاجروں سے بھاری رشوت لے کر اپنی تجوریاں بھر لی ہوں گی! اہم بات یہ کہ یہ واردات پچھلے برس، شریف دور میں ہوئی۔یہ سنگین جرم چین یا سعودی عرب میں سرزد ہوتا تو ایسے مجرم تاجروں اور وزارت تجارت کے ملوث افسروں اور عملے کا فوری محاسبہ ہو چکا ہوتا اور اب ان کی برسیاں منائی جا رہی ہوتیں! مگر…مگر! یہ ملک کا خون چوسنے والی ہشت پا چمگادڑیں اب بھی اسی طرح ملک کے کندھوں پر سوار ہیں۔ قومی اسمبلی کی خارجہ کمیٹی کے اجلاس میں تو صرف میکسیکو اور انڈونیشیا کے اقدامات کے بارے میں بتایا گیا ہے ورنہ یہ اذیت ناک فہرست تو بہت آگے جا رہی ہے۔
٭مختلف کیسوں میں ملوث، پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کا بیان کہ میں لندن میں حال ہی میں پیدا ہونے والی حمزہ شہباز کی بیٹی اور سلمان شہباز کے بیٹے کو دیکھنے اور اپنے میڈیکل معائنہ کے لئے لندن جا رہا ہوں۔ ان لوگوں کے سارے معاملات، سارا علاج صرف لندن میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ نوازشریف کے دل کا آپریشن (سرکاری اخراجات) اہلیہ مرحومہ کا علاج، شہباز شریف کا بار بار میڈیکل معائنہ، حمزہ شہباز کی بیٹی، سلمان شہباز کے بیٹے کی پیدائش، سب کچھ صرف اور صرف لندن میں ہی ممکن ہے۔ پاکستان کے کسی ہسپتال میں ممکن نہیں! چھینک بھی آ جائے تو پیناڈول یا اسپرین صرف لندن میں مل سکتی ہے۔آصف زرداری کی پراسرار بیماریوںکا علاج صرف دبئی میں ممکن ہے۔ یہی حربہ ایک سکوٹر سے سواری شروع کرنے والے اب ارب پتی اسحٰق ڈار کا ہے۔ ذرا بیرون ملک تعلیم اور قیام والی اولادوںکا بھی کچھ ذکر! عمران خان، اسحاق ڈار، عشرت العباد، نوازشریف، جہانگیر ترین، فاروق ستار، آصف زرداری، غنویٰ بھٹو، بہت سے اور نام ہیں! ان سب کے بیٹے بیٹیاں لندن یا امریکہ میں زیر تعلیم اور وہیں رہائش! پاکستان سے ان لوگوں کا تعلق صرف حکمرانی کی باریوں تک ہے۔ کچھ تخت نشین ہو چکے، اب تختے کی شکل دیکھ رہے ہیں! بقول آتش، ’بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں، مگر حکمرانی کی ہوس اب بھی نہیں جاتی۔ ولی عہد شہزادے اور شہزادیاں تیار کی جا رہی ہے اور اپنی پارٹی کے جیالوں کو وصیت نما تلقین کی جا رہی ہے کہ میرے بعد میری بیٹیوں اور بیٹے کادھیان رکھنا!
٭خبریں: وزیراعظم نے پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی…وزیراعظم نے اپنی پارٹی کی صوبائی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی! تھڑا سیاست دان علم دین پوچھ رہا ہے کہ جناب کیا صوبے میں کوئی وزیراعلیٰ نہیں جو بار بار اجلاسوں کی صدارت کے لئے وزیراعظم کو آنا پڑتا ہے؟ حسب معمول علم دین نے خود ہی جواب دے دیا ہے کہ ممکن ہے وزیراعظم کو وزیراعلیٰ کی کارکردگی پسند نہ آ رہی ہو!
٭کسی تبصرہ یا تجزیہ کے بغیر ایک مختصر واقعہ اور سپریم کورٹ کا تبصرہ: ’’لاہور میں نیب کی ایک ٹیم حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لئے ماڈل ٹائون لاہور میں اس کے گھر گئی۔ حمزہ شہباز کے سکیورٹی کے عملے نے اس کی پٹائی کی، نیب کی ٹیم واپس بھاگ آئی۔ اگلے روز صبح (ہفتہ) پھر پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ گئی۔ اس دن ہائی کورٹ کی چھٹی ہوتی ہے تاہم خصوصی طور پر حمزہ شہباز کو پیر تک عارضی ضمانت منظور کی گئی، پیر کے روز مزید10 دن میں توسیع ہو گئی۔ ن لیگ جلوس کی شکل میںہائی کورٹ گئی اور جشن منایا… سپریم کورٹ کے ایک بنچ کے سربراہ جسٹس عظمت سعید نے ایک کیس میں ریمارکس دیئے کہ ’’یہ لاہور ہائی کورٹ نہیں ہے جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لیا جائے…‘‘
٭پاکستان کی اقلیت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فوجی افسر، میجر صاعقہ گلزار، نے ایک شاندار اعزاز کے ساتھ پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ وہ امریکہ میں 52 ملکوں کے فوجی افسروں کے ایک تربیتی کورس میں شرکت کے لئے گئی تھی۔ کورس کے اختتام پر اسے تربیت کے حوالے سے 52 غیر ملکی فوجی افسروں کے مقابلہ میں اول انعام دیا گیا۔ میں ملک کا نام روشن کرنے والی اس بیٹی کے لئے شاباش اور تحسین کا اظہار کرتا ہوں۔ اس کے والد گلزار مسیح سدھو وہاڑی میں سکول ٹیچر ہیںانہیں بھی مبارکباد!
٭اسلام آباد میں ہر جگہ کچرا پھیل گیا، جھیل کچرے سے بھر گئی جگہ جگہ ڈھیر لگ گئے، سپریم کورٹ کے سخت انتباہ کے باوجود انتظامیہ سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر سو گئی تو اسلام آباد کے نوجوانوں نے خود کچرے کی صفائی شروع کر دی۔ میں ٹیلی ویژن پر نوجوانوں کو کچرا اٹھاتے دیکھ رہا ہوں۔ شاباش! نوجوان ہی ملک کے حقیقی وارث ہوتے ہیں، مگر سی ڈی اے وغیرہ کی چار دیواریاں انہیں عوام کی خدمت کی بجائے کسی اور طرف لے جاتی ہیں۔ جنرل شفیق الرحمن نے ایک مضمون میں دلچسپ بات کہی تھی کہ بچے بہت سچے، بہت اچھے ہوتے ہیں مگر افسوس کہ وہ بڑے ہو جاتے ہیں۔ نوجوان بھی بہت اچھے ہوتے ہیں مگر افسوس کہ وہ سی ڈی اے، ایل ڈی اے کے ڈی اے میں چلے جاتے ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں