07:49 am
صدارتی نظام کی واپسی اور عمران کے پاس راستہ؟

صدارتی نظام کی واپسی اور عمران کے پاس راستہ؟

07:49 am

’’صدارتی نظام کی بحث‘‘ گاہے گاہے صدارتی نظام کو واپس لانے کی ضرورت اس وقت یقینا محسوس ہوتی ہے جب پارلیمانی نظام اپنی سیاسی خامیوں کو واپس لانے کی بھی شدید ضرورت اس وقت یقینا محسوس ہوتی ہے جب پارلیمانی نظام اپنی سیاسی خامیوں کی بدولت مثبت نتائج عمدہ حکومت کے لئے دینے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اس وقت صدارتی نظام کو واپس لانے کی بھی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے جب سیاسی پارٹیاں اپنے صدر اور چیئرمین فیصلہ ساز کرداروں کے اشرافیہ ہاتھوں میں ریاستی وسائل کو لوٹنے‘ اقتدار میں آکر دولت و جائیدادوں میں اضافے‘ اقتدار سے محروم ہونے کے باوجود بھی ریاستی احتساب سے بچنے کے لئے قومی اسمبلی‘ سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود اپنے اراکین کی پارلیمانی قوت کو آسانی سے استعمال کرکے حکومت کو عوامی مفادات کے تحفظ اور احتسابی اسلامی عمل کو نتیجہ خیز بنانے میں آسانی سے رکاوٹ ڈال دیتی ہیں۔ صدارتی نظام کو واپس لانے کے لئے اس وقت بھی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ چھوٹی پارٹیاں یا علاقائی و لسانی و مذہبی ایجنڈے کی حامل پارٹیاں اسمبلیوں اور سینٹ میں اپنی موجود پارلیمانی حیثیت کو بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرتی ہیں اور بڑی حکومتی پارٹی کو اس بلیک میلنگ سے اس لئے بھی دوچار ہونا پڑتاہے کہ ان کی حکومت انہی بلیک میلنگ کرتے اراکین اسمبلی کی بدولت قائم ہوتی ہے یا موجود رہتی ہے۔  جیسا کہ عمران کی موجودہ حکومت ان کے کچھ اتحادی اراکین کے سبب قائم ہوئی اور جب بھی یہ اراکین اگر ناراض ہو جائیں گے مثلاً ایم کیو ایم یا مینگل کی پارٹی یا (ق) لیگ تو عمران خان کی حکومتیں فوراً ختم ہو جائیں گی۔
 
برادرم ارشاد عارف نے 9اپریل کے اپنے مدلل اور محققانہ کالم میں صدارتی نظام کی بحث  پر کالم لکھ کر صدارتی نظام کو واپس لانے کا مقدمہ بہت عمدہ طریقے سے پیش کر دیا ہے۔ اس میں دلائل اور تحقیق کے طور پر مزید اضافہ شاید ممکن نہیں ہے تاہم ردعمل کے طور پر چند سطور اس لئے لکھی جارہی ہیں تاکہ اس بحث کو ثمر آور اور نتیجہ خیز بنانے کا عمل جاری رہے۔ سوال ہے  کہ صدر یحییٰ خان صدر ہو کر بھی کیوں نہ صدارتی نظام کو محفوظ اور مثبت انداز میں نہ چلا سکے تھے! آخر وہ بھٹو کی شاطرانہ چالوں میں اسیر ہو کر الجھا کر کیوں صدارتی نظام کے ذریعے ملک توڑ گئے ؟ مگر اس کا جواب ہے کہ وہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے صدر پاکستان کا منصب انہوں نے مارشل لاء کی بدولت حاصل کیا تھا۔ عوامی طور پر ‘ نہ ہی پارلیمانی طور پر وہ منتخب صدر تھے۔ لہٰذا انہیں صدر کہنا غلط ہے۔ ان کا سارا عمل چیف مارسل لاء ایڈمنسٹریٹر کا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو صدربھی رہے‘ وزیراعظم بھی۔ مگر ان کی سیاسی حکومت کا خاتمہ ان کے اپنے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے ذریعے ہوا۔کیا پارلیمانی نظام ناکام ہوا تھا ان کا تکبر و غرور‘ ظلم و استبداد جنرل کی آمد کا راستہ بنا تھا؟ 
عمران خان کا ایجنڈا اور سیاسی جدوجہد نہایت عمدہ‘ نہایت قابل تحسین مگر وہ مظلوم ہیں کہ انہیں عوام نے اپنی پارلیمانی مطلوب طاقت نہیں دی کہ وہ اکیلے حکومت بنا سکتے یا آئین میں دوتہائی اکثریت کی بنیاد پر ترمیم کر سکتے۔ وہ ذاتی طور پر امین ہیں‘ مخلص ہیں‘ اگر ملک میں نظام صدارتی ہوتا تو وہ عوام کی طرف سے آسانی سے صدر منتخب ہو جاتے  جیسا کہ امریکہ میں صدارتی نظام کے ذریعے ہوتا ہے۔ لہٰذا برادرم ارشاد عارف کا موقف درست ہے کہ صدارتی نظام حقیقی روح کے ساتھ واپس لایا جائے تو الجھے مسائل  حل ہوسکتے ہیں۔
 میرے ایک اوکاڑہ سے دوست میجر (ر) عباس کا تجزیہ ہے کہ پارلیمانی نظام ہی بہتر ہے کہ اگر ملک کا صدر انتہا پسند مودی جیسا بن جائے یا ٹرمپ جیسا تو اس کا راستہ رک سکتا ہے نہ ہی اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا پارلیمانی نظام ہی مناسب ہے تاکہ جب کوئی فرعون بنے‘ ظالم بنے‘ جابر بنے تو اس کو پارلیمانی قوتیں منظُر  سے ہٹا کر وزیراعظم کو تبدیل کر سکیں۔
وزیراعظم کا ہونا ’’صدر‘‘ کے ٹرمپ جیسا ہونے سے بہتر ہے۔  مگر نیتن یاھو اور نریندر مودی پارلیمانی نظام کے ذریعے ہی جابر‘ ظالم‘ استبدادی کردار ہے۔ ان کے نزدیک اس کا دارومدار صرف ’’شخصیت‘‘ پر ہے۔ اسی لئے مفکر پاسکتان علامہ اقبال ’’فرد‘‘ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا ’’فرد‘‘ اگر سلیم العقل‘ سلیم الفطرت ہو تو وہ وزیراعظم ہو کر بھی بہت کامیاب رہے گا اور اگر فاترالعقل ہوگا تو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر ہو کر بھی ملک توڑ دے گا اور دو قومی نظرئیے کو تباہ کرکے ہندو فقہ کا راستہ استوار کرے گا۔
اہم سوال ہے اگر مئی جون میں عمران خان کو ان کے اتحادی چھوڑ دیں تو وہ کیا کریں گے؟ نئی حکومت بن نہیں سکے گی؟ پارلیمانی پارٹیاں تو اکثر بلیک میل کریں گی لہٰذا پارلیمانی نظام اپنا سارا کچرا‘ گند اچھال کر پارلیمنٹ سے ہی عوام کو متنفر کر دے گا پھر سوال ہے اگر جنگ ہو جائے تو اس سے پہلے پارلیمنٹ میں عدم استحکام ہو جائے ۔ عمران کی حکومت ختم ہو جائے‘ تو ملک میں ایمرجنسی حالت میں کون کردار ادا کرے گا؟
صدر پاکستان کیا از خود ایمرجنسی نافذ کرکے ملک کی فیصلہ سازی اپنے ہاتھوں میں لے سکیں گے؟ عدالتیں اس حالت میں صدر کے اس اقدام کے ساتھ کیا سلوک کریں گی؟ فوج کیا کرے گی؟ کیا عمران خان پارلیمانی قوت سے محروم ہوتے ہوئے فوراً اسمبلیاں توڑ کر نظام حکومت کو تبدیل کرنے کا نعرہ مستانہ لگائیں گے تاکہ وہ عوام سے دوتہائی اکثریت حاصل کرکے تنہا اپنی حکومت بنا سکیں طیب اردوان کی طرح جو بار بار الیکشن میں جاتے رہے‘ آنکہ وہ صدارتی نظام کو واپس لے آئے۔ یہی راستہ عمران خان‘ ریاست اور مدبرین کی نظر میں موجود ہے۔ اس بحث کو جاری رہنا چاہیے۔
نوٹ: موجودہ صدر پانچ سال کے لئے ہیں لہٰذا عمران خان صدارتی انتخاب کے لئے کیسے عوام کے پاس جائیں گے؟

 

تازہ ترین خبریں