07:49 am
 سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

07:49 am

1971ء کے بعد قومی سطح کی دو سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن وجود میں آئیں۔ یہ جماعتیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں وجود رکھتی تھیں لیکن ایک خاص لسانی پس منظر کے ساتھ مختلف صوبوں میں ان کی قوت بھی مختلف تھی۔ بے نظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی ملک کی حقیقی قومی سیاسی جماعت کے مقام سے کئی درجے نیچے اُتر آئی۔ پنجاب میں پی پی کا دائرہ اثر محدود ہوگیا اور بلوچستان اور کے پی کے میں بھی پارٹی کم زور پڑ گئی۔بار بار سندھ کارڈ کھیلنے کی وجہ سے یہ سندھی جماعت بن گئی سندھ میں بسنے والے مہاجر بھی جس سے بے گانگی رکھتے ہیں۔ زرداری اور ان کے خاندان کے گرد جوں جوں احتساب کا گھیرا تنگ ہورہا ہے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے بڑے  معاملات میں وعدہ معاف گواہ سامنے آرہے ہیں۔ دوسری جانب بلاول نوجوان اور ناتجربے کار ہیں اور نہ ہی کرشماتی لیڈر بن سکے ہیں اس لیے اس وقت پیپلز پارٹی کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان ہیں۔ میڈیا کا زر خرید حصہ آصف زرداری کے مقدمات کو مذاق میں اُڑا رہا ہے تاہم ایک مرتبہ اگر عذیر بلوچ کا بیان سامنے آگیا تو زرداری کے خلاف قتل کے الزامات پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔ 
 
دیگر جمی جڑی پارٹیوں کی شکست و ریخت بھی جاری ہے۔ برسوں سے بڑے پیمانے پر جاری بدعنوانی اور ’’پاناما  پیپرز‘‘ کے انکشاف سے شریف خاندان کی موروثی حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا۔ ایسے مخلص جن کی ’’سیاسی‘‘ اور اس سے بھی بڑھ کر مالی بقا شریف خاندان سے وابستہ ہے وہ بدحواسی میں اس منطقی انجام کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ بزنس مین سے سیاست بننے تک کا مرحلہ نواز شریف نے خوبی سے طے کیا، گاڑی اس وقت پٹڑی سے اُتری جب جاگیرداروں جیسا رویہ اختیار کیا۔  وزارت عظمیٰ سے وہ کرپشن کی بنیاد پر معزول نہیں ہوئے، عدالت میں دروغ گوئی نے انہیں اقتدار سے محروم کیا۔ اس کے بعد کرپشن کے مقدمات میں نواز شریف کے جیل جانے سے پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا۔ جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی الگ صوبے کی فکر میں سرگرداں تھے، چودھری نثار علی خان اور جاوید ہاشمی جیسے لیڈر پارٹی کی موجودہ قیادت سے دور ہوگئے اور مسلم لیگ ن کو 2018ء کے انتخابات میں شکست ہوئی۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی بلامقابلہ پارٹی کی سب سے مضبوط شخصیت رہنے والے نواز شریف اب سیاست سے کنارہ کشی کاسوچ رہے ہیں۔ان کے خلاف زیر التوا مقدمات اور دست یاب شواہد غیر معمولی ہیں اور اسی کے ساتھ گرتی ہوئی صحت کے باعث وہ مزید نقصان سے بچنے کے لیے اب وہ ڈیل کی فکر میں ہیں۔ سیاست سے کنارہ کشی اور ملک چھوڑنے سے انہیں لوٹی دولت کا غالب حصہ بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر منی لانڈرنگ میں نواز شریف کو سزا ہوجاتی ہے تو برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی انہیں مسائل کا سامنا کرنا ہوگا‘ تاہم جن لوگوں نے مریم پر سرمایہ کاری کی تھی وہ نواز شریف کو بطور سیاسی قوت زندہ رکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے بغیر مریم کے ’’فالوؤرز‘‘ ، کم از کم مستقبل قریب میں، ایک بے مقصد جدوجہد میں کب تک مصروف رہ سکتے ہیں۔ 
 مسلم لیگ ن کا محور نواز شریف کی شخصیت ہے لیکن شہباز شریف نے ، بالخصوص لاہور میں، بڑے بڑے منصوبے مکمل کرکے خود کو مردِ میدان ثابت کیا ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی ہے کہ شہباز شریف کی صحت بھی اچھی نہیں، مزید یہ کہ وہ شدید کمر درد میں مبتلا ہیں۔ حمزہ شہباز کو ن لیگ میں قیادت کے لیے ایک آپشن قرار دیا جاتا تھا وہ بھی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں ہے اور جیل جاسکتے ہیں، اسی سبب سے حمزہ  پرُاعتماد  انداز میں اپنے قدم جمانہیں پارہے۔ شریف خاندن کی سیاست سے دست برداری مسلم لیگ ن کے لیے آخری دھکا ثابت ہوگی۔ کسی مضبوط قیادت کے بغیر اس کے ارکان تتر بتر ہوجائیں گے اور دیگر جماعتوں کا رُخ کرلیں گے۔ اس کی زد میں شاہد خاقان عباسی بھی آئیں گے جنہوں نے بطور وزیر اعظم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن شریف خاندان سے وفاداری نے انہیں کرپشن کے مقدمات میں ملوث کردیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹبیلشمنٹ کی نظر میں چودھری نثار سب سے مضبوط امیدوار ہوں گے۔ سیاسی منظر نامے پر رونما ہونے والی ڈرامائی تبدیلیاں نظام کے استحکام کو متاثر کریں گی اور پہلے سے کمزور پڑتی پاکستانی ریاست کے لیے صورت حال مزید نازک ہوجائے گی۔ 
یہ حالات پیدا ہونے سے روکنے کی بھاری ذمے داری حکمران جماعت تحریک انصاف اور عمران خان کے کاندھوں پر ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو چاروں صوبوں میں جڑیں اور ملک، معیشت اور سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کا  واضح پروگرام رکھتی ہو۔     ( جاری ہے)

تازہ ترین خبریں