07:50 am
 خود  حُسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے  

 خود  حُسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے  

07:50 am

مذاکرات کا دور دورہ ہے ! ایسا لگتا ہے کہ امریکہ بہادر کو افغان طالبان سے مذاکرات کرنے کا دورہ پڑا گیا ہے۔ امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کو دوروں کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ جناب کا ایک پیر قطر تو دوسرا اسلام آباد میں ہوتا ہے۔ ایک شام افغانستان تو دوسری صبح امریکہ میں ہوتی ہے۔ یہ پھرتیاں اور آنیاں جانیاں بے وجہ تو نہیں ! مائیک پومپیو اور منہ پھٹ ٹرمپ کچھ عرصہ پہلے پاکستان پر گرجنے برسنے کی مشق فرما تے رہے! بات گرجنے تک محدود رہی ! برسنے کی نوبت تو خیر کیا آتی اُلٹا پاکستان کے وزیر اعظم نے بذریعہ ٹویٹ ٹرمپ کی مناسب مزاج پرسی فرما کر امریکہ بہادر کو آئینہ دکھا دیا ۔ ٹھنڈی ٹھار سردائی پی کے سویا ہوا ہمارا دفتر خارجہ بھی طویل نیند سے انگڑائی لے کر جاگا اور وزیر خارجہ نے کئی مواقع پر امریکہ بہادر کو کھری کھری سنا کر سابقہ حکومت کی خود اختیار کردہ بے عملی کا ہلکا پھلکا کفارہ بھی ادا کیا ۔ پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی اور شیرینی نہیں بلکہ تلخی نمایاں ہے۔ امریکہ بہادر بھارت جیسے ممولے کو خطے کا تھانیدار بنا کے چینی ڈریگون کا شکار کرنا چاہتا ہے ۔ 
 
بھارت کی تھانیداری قائم ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے۔ جو کہ معاشی طور پر کمزور سہی لیکن عسکری لحاظ سے بھارت کا پتا پانی کرنے کی حیران کُن صلاحیت کے ساتھ ساتھ چین اور روس کا قابل اعتماد ساتھی بھی ہے۔ سی پیک جیسے چینی منصوبے امریکہ بہادر کا نہ ختم ہونے والا دردِ سر ہے ۔ پاکستان کی چین سے تعلق داری پر امریکی اعتراض کی بڑی وجہ ان منصوبوں کی بدولت ہی ہے۔ امریکی ایلچی کے روز روز کے پھیروں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکہ میں بھی اہم ریاستی ادارے بعض حساس معاملات پر اکثر ایک پیج پر نہیں ہوتے ۔ یعنی اختلافِ رائے وہاں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ اختلاف رائے افغانستان میں جاری بحران سے نبٹنے کی حکمت عملی پر بھی پایا جاتا ہے ۔
 امریکی اسٹیبلشمنٹ یعنی سی آئی اے کی رائے پینٹاگون سے مختلف ہے اور بعض معاملات میں یہ اسٹیبلشمنٹ ایک متوازی ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے سیاسی قیادت کی پالیسی کے برخلاف اپنے اہداف کا تعاقب جاری رکھتی ہے ۔ سی آئی اے یعنی امریکی اسٹیبلشمنٹ افغانستان کے صحن میں بھارت کو گود میں بٹھا کے خطے میں روس اور چین کے دانت کھٹے کرنے کی حکمت عملی پر گامزن رہی ۔ ظاہر ہے یہ منصوبہ سیاسی اور معاشی لحاظ سے مستحکم اور عسکری اعتبار سے مضبوط پاکستان کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا ۔ اوبامہ اور بعد میں ٹرمپ انتظامیہ کو یہ پٹی تسلسل سے پڑھائی جاتی رہی ہے کہ پاکستان کو بے دست وپا کرنے کے لیے چار پھندے استعمال کیے جائیں ۔ اول ، سرحد پار دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کو بنیاد بنا کر اقتصادی پابندیوں کا خنجر معیشت کے گلے پر پھیرا جائے ۔ اس مقصد کے لیے بھارت کا کندھا اور زبان استعمال کی جائے ۔ دوم، بھارت کی سر پرستی میں چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گرد ی کا ایسا طوفان اٹھایا جائے کہ سیاسی ، معاشی اور سماجی ترقی کے منصوبے غارت ہو جائیں ۔ سوم، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور دفاعی استعداد کو ہر قیمت پر اس حد تک گھٹایا جائے کہ وہ نہ تو بھارت کی تھانیداری کے خلاف مزاحمت کر پائے اور نہ ہی چینی معاشی منصوبوں کو دہشت گردی کے خلاف تحفظ دینے کے قابل رہے۔ چہارم، پاکستان میں ایسے مرغِ دست آموز حکمران بر سر اقتدار لائے جائیں جو ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھ کے بلا چون و چراں امریکی اشاروں پر اُٹھک بیٹھک کرتے رہیں ۔ 
اہم نکتہ یہ ہے کہ پینٹاگون افغانستان میں طے کردہ اہداف سے مکمل اتفاق کرنے کے باوجود پاکستان کے متعلق ہمیشہ سے سی آئی اے کی رائے سے اختلاف کرتا آیا ہے ۔ ماضی میں بھی جب بروس ریڈل جیسا بدترین پاک مخالف شخص اوبامہ انتظامیہ کو پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے اکساتا تو پینٹاگون کی سینئر عسکری قیادت پاک فوج کے وسیع تر اثر و رسوخ اور افادیت اجاگر کرتے تھے ۔ سینئر صحافی باب ووڈ ورڈ نے اپنی مشہور کتاب (اوباماز وارز) میں بارہا پاکستان اور افغان امور پر امریکی ریاستی اداروں کے اختلاف رائے کا تذکرہ کیا ہے ۔ کافی عرصے سے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ یعنی سیاسی قیادت افغانستان سے جڑے معاملات پر امریکی اسٹیبلشمنٹ کی رائے کو پینٹاگون کی رائے پر فوقیت دیتی آرہی ہے۔ ٹرمپ کی لفظی گولہ باری ، پومپیو کی معنی خیز الزام تراشیوں اور بین الاقوامی فورمز پر بھارتی موقف کی بڑھ چڑھ کے تائید کے پیچھے یہی سوچ کار فرما رہی ہے۔ 
 امریکی اسٹیبلشمنٹ کی افغان حکمت عملی بری طرح پٹ گئی ہے ۔ گذرتے وقت نے پینٹاگون کی رائے کو درست ثابت کیا ہے کہ افغانستان میں بھارت نہیں بلکہ پاکستان کے ذریعے حالات میں سدھار لایا جا سکتا ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ المعروف سی آئی اے اس ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کے دفاعی اور خفیہ اداروں کو قرار دیتی ہے جو کہ آنکھیں بند کر کے امریکہ کی تابعداری کے بجائے ملکی مفاد ات کی بنیاد پر تعلق کار پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے سے مغرب زدہ مشکوک صحافتی حلقے اور مٹھی بھر لبرل ٹوڈی پاک فوج پر تبرا بازی کی مشق جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ زلمے خلیل زاد کے آئے دن کے پھیروں سے صاف ظاہر ہے کہ پینٹاگون کا مبنی بر حقیقت موقف واشنگٹن کے فیصلہ سازوں پر آشکار ہوا ہے ۔ سینٹ کام کے سربراہ نے اسلام آباد میں سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے موقع پر کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر پاکستان کے مثبت کردار کا برملا اعتراف کیا ۔ 
دو طرفہ تعلقات سے کشیدگی کی دھند چھٹتی دکھائی دی ہے ۔ بلا شبہ پاک امریکہ عسکری تعلقات کی بنیاد پر اگر خطے میں امن قائم ہو جائے تو آنے والے دنوں میں سیاسی و سفارتی تعلقات بھی معمول کی سطح پر آسکتے ہیں ۔ خطے میں امن امریکی اسٹیبلشمنٹ کے رویے پر بھی منحصر ہے جو کہ فی الحال پینٹاگون کی رائے پر کان دھرنے کو تیار نہیں ۔ پاکستان کو بہر حال آنکھیں اور کان کھلے رکھ کے حکمت و تدبر سے معاشی و سیاسی استحکام کے حصول پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ چلتے چلتے افغانستان بارے وہم اور خوش فہمیوں میں مبتلا امریکی اسٹیبلشمنٹ اور اُس کے پاکستانی قصیدہ خوانوں کی کم عقلی پر شاعر انہ تبصرہ !
یہ جو بھی ہو بہار نہیں ہے جنابِ من 
کس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہو ئے
اس معرکے میں عشق بے چارہ کرے گا کیا 
خود حُسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے

تازہ ترین خبریں