07:51 am
یہود ونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے

یہود ونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے

07:51 am

’’کواچکاہنس کی چال ،اپنی بھی بھول گیا‘‘ کی مشہورمثل کے مصداق مودی نے بھی نائن الیون کے نام پراپنے مربی امریکاکے افغانستان میں جاری عمل کی نقل کرتے ہوئے پلوامہ کی خود ساختہ سازش میں پاکستان پرالزام تراشی کرتے ہوئے مہم جوئی کے کھیل میں امریکاکی طرح خوارہوگیا۔حالیہ جارحیت میں یہودوہنودگٹھ جوڑاورتال میل کھل کر سامنے آگیااور گھرکے بھیدی برطانوی میڈیانے انکشاف کیاہے کہ 27فروری کی رات دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے کتنے قریب آگئے تھے۔ذرائع نے ان خبروں کی تصدیق کی کہ پاکستان نے ایک نہیں بلکہ دوپائلٹ پکڑے تھے اوریہ کہ ان میں ایک اسرائیلی تھا۔یہ بھی معلوم ہواکہ جارحیت کا جواب دینے کیلئے پاکستان نے باقاعدہ طور پر بھارت کے اہم سولہ شہروں کونیست ونابود کرنے کیلئے میزائلوں کے نشانہ پررکھ لیاتھا،اس کے مربی امریکانے اپنے سیٹلائٹ پریہ ساری کاروائی دیکھ کرفوری طورپر بھارت اوراسرائیل کوخبرداربھی کردیاتھاجبکہ پاکستان نے بھارت کوجوابی خطرناک دھمکی میں مضمرات سے آگاہ کر دیا تھا کیونکہ پاکستان پرحملے کی گیدڑبھبکی صرف بھارت ہی نہیں بلکہ اسرائیل کی طرف سے بھی آئی تھی۔
 
جب ائیرفورس کے شاہینوں نے بھارت کے دوطیارے مارگرائے تومگ21میں صرف ’’ابھی نندن‘‘ بیٹھاتھا جو پیرا شوٹ کے ذریعے پاکستان علاقے میں اترتے ہی پکڑاگیا جبکہ دوافرادکے گنجائش والے سخوئی 30طیارے میں دوپائلٹ بیٹھے تھے ۔ اس طیارے کاملبہ اورایک پائلٹ سرحدکے اس پار بھارتی مقبوضہ علاقے میں گراجبکہ دوسراپائلٹ پاکستانی علاقے میں اترااورگرفتارہوگیا۔مسئلہ اس وقت کھڑا ہوا جب گرفتارکیاجانے والادوسراپائلٹ اسرائیلی نکلا۔بھارت نے اپناپائلٹ ابھی نندن تو فوری مانگ لیا لیکن لیکن وہ اسرائیلی پائلٹ مانگنے کی پوزیشن میں نہیں تھا،اس صورت میں دونوں ممالک کامکروہ گٹھ جوڑبے نقاب ہوجاتا،پھریہ کہ ٹیکنیکل طورپربھارت صرف اپنے پائلٹ کی رہائی کاہی مطالبہ کرسکتاتھا۔ دوسری جانب اسرائیل بھی مشکل میں پڑگیاتھاکہ وہ کس منہ سے پاکستان سے اپنے پائلٹ کی واپسی کامطالبہ کرے کیونکہ یہ مطالبہ کرتے ہی وہ ایک طرح تسلیم کرلیتاکہ پاکستانی فضائی حدودکی خلاف ورزی صرف بھارتی پائلٹ نے نہیں بلکہ اسرائیلی پائلٹ نے بھی کی یعنی دونوں ملکوں کی پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی مشترکہ جارحیت تھی جبکہ پاکستان سوچ رہاتھاکہ وہ اس پائلٹ کوکس کے حوالے کرے؟پاکستان نے نہ اب تک اسرائیل کوتسلیم کیاہے اورنہ ہی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات ہیں۔
اس عجیب مسئلہ پربالآخراسرائیل نے اپنی مدد کیلئے مجبوراًاپنے آقاامریکی حکام کے سامنے مددکیلئے دہائی دی کہ وہ پاکستان سے اسرائیلی پائلٹ رہاکرنے کو کہے جبکہ اس سے قبل اسرائیل نے پاکستان کو پائلٹ رہانہ کرنے کی صورت میں جنگ کی گیدڑبھبکی بھی دی جس کے جواب میں پاکستان نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے اسرائیل کو متنبہ کیاکہ کسی بھی قسم کی جارحیت کے جواب میں اس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک جواب دیاجائے گاجس کے بعد اسرائیل اوربھارت کانام صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھنے کوملے گا۔ذرائع کے مطابق ان دھمکیوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے فوری طورپرتین قسم کے میزائل نصب کردیئے ،ان میں سے ایک شاہین تھری خاص طور پر اسرائیل کو جواب دینے کیلئے تھا۔یہ پہلی بارتھاکہ پاکستان نے شاہین تھری میزائل نصب کیاجس کی رینج میں اسرائیل کے تما م شہرآتے ہیں۔ شاہین تھری پاکستان کاسب سے طویل رینج رکھنے والامیزائل ہے جس کی کم ازکم رینج 2750 کلومیٹر ہے۔یوں شاہین تھری بھارت کے ہرکونے سے لیکرمشرق وسطیٰ اورافریقہ کے کئی حصوں تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ پاکستان نے یہ میزائل بھارتی اگنی تھری کے مقابلے میں بنایاتھاجس کاپاکستان نے اقوام عالم کے 65ممالک کے جنگی ماہرین کے سامنے شاندار کامیاب تجربہ کرکے بھارت سمیت اس کے مربیوں کوواضح پیغام پہنچادیاتھا۔
2500 کلومیٹر رینج والے شاہین ٹوکو موڈیفائیڈکرکے شاہین تھری بنانے کے بعداب پاکستان کی تاریخ میں نہ صرف بھارت کے تمام شہرآچکے ہیںبلکہ خلیج بنگال میں بھارت کے دوردراز جزیرے انڈیمان اورنیکوبارتک بھی شاہین تھری کی رسائی ہے۔ یہ دونوں جزیرے بھارت کیلئے اہم سٹریٹیجک حیثیت رکھتے ہیں ،شاہین تھری میزائل نے انڈیمان اور نیکوبار جزیروں سے بھارت کی سیکنڈ اسٹرائیک کرنے کی صلاحیت کوختم کردیاہے۔ حالیہ ممکنہ بھارتی حملے کاجواب دینے کیلئے پاکستان نے بابرکروزمیزائل بھی نصب کئے تھے چونکہ انٹیلی جنس اطلاعات ملی تھیں کہ بھارت پاکستان پراپنے براہموس کروزمیزائل مارنے کاارادہ رکھتاہے جبکہ بابرکروز میزائل کی رینج 450 کلومیٹراوریہ سیکنڈ اسٹرائیک کی بھی بھرپورصلاحیت رکھتاہے جبکہ بابرکروزمیزائل کی رینج سات سو کلومیٹر تک بڑھانے کی گنجائش ہے۔
پاکستان نے جوتیسری قسم کے میزائل’’نصر‘‘کوبھی نصب کردیاتھاوہ سولڈفیولڈبلاسٹک نصرمیزائل سو فیصد درست نشانے کے ساتھ ٹیکنیکل وارہیڈ (چھوٹے ایٹم بم ) لے جانے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتاہے جبکہ نصرمیزائل کواس طرح ڈیزائن کیاگیاہے کہ اسے کسی بھی قسم کااینٹی ڈیفنس سسٹم نہیں روک سکتا۔نصرمیزائل کی اونچائی ایک میٹرسے زیادہ نہیں ہوتی ،نچلی پروازکے ساتھ اپنے ہدف کانشانہ بناتاہے لہٰذااینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم اسے شناخت کرنے سے قطعی قاصر ہے پھریہ کہ نصر میزائل کوتوپ خانے اور جے تھنڈراور ایف 16 طیاروں کے ذریعے بھی چلایاجا سکتا ہے ۔ 27فروری کی رات چھوٹے ایٹم بم فائرکرنیوالے نصرمیزائل کونہ صرف نصب کردیاگیابلکہ فیلڈ کمانڈر کو اسے چلانے کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔
انٹیلی جنس کی اطلاع کے مطابق بھارت نے کراچی،بہاولپوراورراجستھان سمیت پاکستان میں آٹھ ٹارگٹ کاانتخاب کیاتھا،ان میں سے بھارت نے دواہداف فضائی حملے سے تباہ کرنے کامنصوبہ بنارکھا تھا جبکہ باقی چھ اہداف زمینی تھے جن پروہ اپنے بیٹل گروپ کے ذریعے قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ بھارت کے راجستھان ائیربیس سے فضائی حملوں کیلئے بھارتی پائلٹوں کے ساتھ اسرائیلی پائلٹوں کی ٹیم بھی موجود تھی۔اس کے جواب میں پاکستان نے جواٹھارہ اہم اہداف منتخب کئے تھے ،ان میںممبئی،کلکتہ، دہلی، راجستھان،لکھنؤاوربنگلور سمیت بارہ دیگربھارتی شہر شامل تھے۔پاکستانی نیو کلیئر ڈاکٹرائن کے مطابق اسلام آبادحملے میں پہل کرنے کاحق رکھتاہے۔
( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں