07:53 am
اسلامو فوبیا...گورے اور گوروں کے فکری غلام!

اسلامو فوبیا...گورے اور گوروں کے فکری غلام!

07:53 am

انسانوں کو پیدا کرنے والے پر وردگار نے ہی انسانیت کی پہچان کا درس دیا‘ پاک پروردگار نے ہی اپنے محبوبﷺ کو محسن انسانیت بنایا‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کا مذاق اڑانے والے اللہ اور اس کے محبوب پیغمبرﷺ کے نافرمان ‘انسانیت سے عاری ہوتے ہیں‘ انسانیت اللہ اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری کا نام ہے‘جو انسان اپنے معبود حقیقی کے حقوق ادا نہیں کر سکتا‘ وہ انسانوں کے حقوق کو کیسے ادا کر پائے گا؟
 
’’مغرب‘‘ انسانی حقوق کا سب سے بڑا دعویدار بھی ہے اور اپنے تئیں علمبردار بھی‘ لیکن مغرب کے دانشوروں اور حکمرانوں سے کوئی پوچھے کہ آخر یہ ’’اسلامو فوبیا‘‘ کس بلا کا نام ہے؟ مغربی ممالک میں مساجد پر ہونے والے حملے ہوں یا اسلامی سینٹرز کو آگ لگانے کی کوششیں‘ حجاب پہننے والی خواتین پر ہونے والے حملے ہوں یا اسلامی شعائرکا مذاق اڑانا یہ سب واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ انسانی حقوق مغرب میں بھی ناپید ہیں۔
دنیا میں کہنے کی حد تک 56اسلامی ممالک ہیں‘ لیکن اسلام کا عظیم نظام کسی ملک میں بھی عملی طور پر نافذ نہیں‘ جس کی وجہ سے اپنے آپ کو بعض مسلمان کہلانے والے بھی غیروں کے کلچر‘ غیروں کی تہذیب اور غیروں کی غلامی کو ہی نعوذبااللہ اسلام کی ترقی سے تعبیر کرتے ہیں... صرف مغرب کے دانشور‘ حکمران یا وہاں بسنے والے شدت پسند ہی ’’اسلامو فوبیا‘‘ میں مبتلا نہیں بلکہ اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان میں بھی بعض ایسے دانشور‘ کالم نگار اور اینکر موجود ہیں کہ جنہیں مغربی طرز کے مطابق اسلامو فوبیا کی بیماری لاحق ہے‘ یہ کم ظرفوں کا وہ گروہ ہے کہ جب اسلام  پر عمل یا اسلام کے نفاذ کے مطالبے کی بات آئے تو یہ بڑے دھڑلے سے لبرل اور سیکولر بن جاتے ہیں... لیکن جب جرائم کا گراف بڑھنا شروع ہو تو یہ منہ پھاڑ ‘ پھاڑ کر اسلام اور مسلمانوں کو طعنے دینا شروع کر دیتے ہیں‘ سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی  وڈیوز ریلیز کرکے مذہب اسلام کے خوبصورت احکامات کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالتے ہیں‘ اسلامی سزائوں کو نعوذ بااللہ وحشیانہ قرار دیتے ہیں۔
میڈیا کی طرف سے پھیلائی جانے والی بے حیائی‘ فحاشی اور عریانی یا فیس بک اور موبائلوں کی وجہ سے ملک میں جب معصوم بچوں‘ بچیوں اور عورتوں پر مجرمانہ حملوں میں اضافہ ہو تو یہ بجائے اس کے کہ فیس بک اور موبائلز کی مخالفت کریں یا میڈیا سے مطالبہ کریں کہ وہ بے حیائی اور فحاشی پھیلانے سے باز آجائے‘ یہ الٹا اسلام اور مذہب پسندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سکولوں کے معصوم بچوں اور بچیوں کو جنسی تعلیم دینے جیسے فضول اور واہیات مطالبے شروع کر دیتے ہیں۔ عورتوں پر ہونے والے ظلم کے حوالے سے کوئی معاملہ سامنے آئے تو یہ بجائے اس کے کہ اس ظلم کی وجہ تلاش کرکے اس کے تدارک کی تجاویز پیش کریں‘ مذہب اسلام اور مولویوں پر چلانا شروع کر دیتے ہیں‘ عورتوں کے حقوق کی بات آئے تو یہ بیٹیوں کو باپوں‘ بیویوں کو شوہروں اور بہنوں کو بھائیوں کے خلاف اکسانا شروع کر دیتے ہیں...مسنون نکاح سے لے کر اسلامی حجاب تک ان کے نشانے پر ہوتے ہیں۔
کوئی کم ظرفوں کے اس گروہ سے پوچھے کہ پاکستان میں جب عملاً اسلام کا نفاذ ہی نہیں ہے اور تم اسلامی سزائوں کے نفاذ کے بھی بدترین مخالف ہو‘ پھر بات‘ بات پہ ’’اسلام‘‘ کے احکامات کو نشانہ بنانے کی بیماری تمہیں کیوں لاحق ہے؟
اسلامو فوبیا میں مبتلا مغرب کے گورے ہوں یا پاکستان میں ان گوروں کے فکری غلام یہ ہر بات پہ اسلام اور مذہب پسندوں کو اس لئے نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ مساجد و مدارس‘ علماء اور ان سے وابستہ خواتین و حضرات ہی لادینیت کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہیں‘ لادینیت‘ الحادپرستی‘ فرقہ پرستی‘ لسانیت پرستی‘ مغرب پرستی‘ یہ سب ایک دوسرے کی جڑواں بہنیں ہیں‘ ’’انسانی حقوق‘‘ کے ساتھ ان کی ’’ضد‘‘ اور عناد روز اول سے ہی ہے‘ انسانی حقوق میں انسانوں کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ انہیں ’’امن‘‘ دیا جائے۔ ’’امن‘‘ ہر انسان کی ضرورت ہے‘ اسلامو فوبیا میں مبتلا اہل مشرق ہوں یا اہل مغرب! یہ خبر ان کے پاس بھی ہے کہ ’’اسلام‘‘ کا تو مطلب ہی سلامتی اور امن پسندی ہے...مذہب اسلام تو ’’امن‘‘ کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے بنیادی ضرورت قرار دیتا ہے۔
ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دینے والے مذہب اسلام کو دہشت گردی سے منسوب کرنے والے اگر الٹے لٹک کر بھی ’’انسانی حقوق‘‘ کے دعوے کرتے رہیں... ان کے ان دعوئوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا‘ مذہب اسلام صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں‘ صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک حکم کا دیتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم برادریوں سے وابستہ خواتین و حضرات سے پاکستانی قوم حسن سلوک کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔
گو کہ پاکستان میں اسلام کا عملاً نفاذ نہیں ہے... حکومتی سطح پر بھی عملاً لبرل ازم اور سیکولر ازم کو سپورٹ کیا جاتا ہے‘ لیکن اس کے باوجود اگر پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں‘ یورپ کے مقابلے میں خاندانی سسٹم مضبوط بنیادوں پر استوار ہے‘ مغرب کے مقابلے میں حیا ‘ غیرت  اور باپ‘ بھائی‘ بہن‘ ماں‘ بیٹی اور بیوی کے تقدس اور حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے تو یہ سارا کمال دینی مدارس‘ مساجد‘ علماء اور صوفیاء کا  ہے کہ جنہوں نے حکومتوں کی مخالفت کے باوجود  دین کی شمع کو فروزاں رکھا ہوا ہے۔
بچوں کے حقوق‘ عورتوں کے حقوق‘ والدین کے حقوق‘ اساتذہ کے حقوق‘ اقلیتوں کے حقوق‘ معاشرے کے حقوق ‘غرضیکہ ہر انسان بلکہ جانوروں کے حقوق کی بھی سو فیصد پاسداری کے لئے انتہائی ضروری ہے  کہ ملک میں فوری طور پر مذہب اسلام کے نظام کو عملی  طور پر نافذ کر دیا جائے۔

 

تازہ ترین خبریں