07:54 am
تھرکول بجلی شروع، سندھ حکومت کو مبارکباد

تھرکول بجلی شروع، سندھ حکومت کو مبارکباد

07:54 am

٭تھرکول بجلی گھر۔25 سال بعد بجلی کی پیداوار شروع O چودھری خاندان کے ملازم نے کروڑوں کے 28 پلاٹ خریدے، نیب کی انکوائری بند!Oحکومت کے خلاف تحریک عید کے بعد چلے گی:فضل الرحمن 64Oسالہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا O اسلام آباد، سابق صدر آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین کے گھر پر نیب کاچھاپہ، بیٹا علی ذوالقرنین منی لانڈرنگ میں ملوث O بلوچستان عوامی پارٹی کا رکن اسمبلی محمد خان، جعلی ڈگری، نااہل قرار O الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کا آڈٹ شروع کر دیاO پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام ایک سال تک آئے گاO شہباز شریف نے اسمبلی میں اپنا چیمبر بلاول کو دے دیا 30O جون تک سارے چور اندر ہوں گے:شیخ رشیدO زکریاایکسپریس ٹرین خوفناک حادثہ سے بچ گئی، موجودہ حکومت کے سات ماہ کا 11 واں حادثہ۔
٭ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے تھر کے علاقے میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کا افتتاح کر دیا۔ 660 میگا واٹ بجلی شروع ہو گئی۔ مبارک! مبارک! یہ کارنامہ موجودہ سندھ حکومت نے اپنے ذرائع سے انجام دیا ہے۔ اس کی ستائش ضروری ہے۔ میں اسے اس لئے کارنامہ کہہ رہا ہوں کہ اس منصوبہ کا افتتاح 25 برس پہلے 1994ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کیا تھا۔ بعد میں اسے کئی بار ناقابل عمل اور نقصان دہ قرار دے کر بند کر دیا گیا۔ موجودہ سندھ حکومت نے اسے پورے عزم کے ساتھ مکمل کرنے کی جدوجہدکی۔ اس کے لئے اربوں کے وسائل کیسے حاصل کئے گئے سخت قسم کی رکاوٹیں کیسے دور کی گئیں؟ یہ لمبی کہانی ہے۔ سندھ حکومت کا یہ عظیم کارنامہ قابل ستائش ہے تاہم اسے علاقائی منظر بنانے کی بجائے ملک کے صدر یا وزیراعظم سے افتتاح کرایا جاتا تو اس کی شہرت اور تحسین میں مزید پھیلائو آ سکتا تھا! چلیں سندھ حکومت کو ایک بار پھر مبارکباد! یہ خوش خبری ایسے موقع پر آئی ہے جب نیلم جہلم پراجیکٹ سے بھی تقریباً ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کا اطلاع آئی ہے۔ خوش کن بات یہ ہے کہ اس منصوبہ سے 950 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی حد مقرر کی گئی مگر پیداوار اِس سے زیادہ حاصل ہونے کی گنجائش نکل آئی ہے! اللہ تعالیٰ مزید کرم فرمائے!
٭احتساب عدالتوں میں آصف زرداری، فریال تالپور، علیم خاں، خواجہ آصف اور دوسرے بڑے ناموں کی پیشیاں جاری ہیں۔ یہ باتیں اب روزمرہ کا معمول بن گئی ہیں، انہیں کیا دہرانا؟ البتہ شریف اورزرداری خاندان کے منی لانڈرنگ کے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ میری طرح قارئین بھی یہ باتیںپڑھ پڑھ کر تنگ ہو رہے ہوں گے۔ چھوڑیں، کوئی اور باتیں کرتے ہیں۔
٭شہباز شریف 12 دنوں کے لئے لندن چلے گئے۔ جانے سے پہلے قومی اسمبلی میں اپنا ایک چیمبر نئے سرے سے ن لیگ کے ساتھ ہم آغوش پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کو دے گئے۔ شہباز شریف کے پاس دو چیمبر ہیں، ایک اپوزیشن لیڈر، دوسرا اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کا۔ ازراہ محبت اور واری صدقے ہونے کے نئے پرجوش جذبات کے تحت انہوں نے اکائونٹس کمیٹی والا چیمبر برخوردار بلاول کو دے دیا ہے! آج کل ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان ’’دانت کاٹی روٹی‘‘ والی دوستی جوش مار رہی ہے مگر بیچ بیچ میں کبھی کبھی کوئی پرانی گڑ بڑ والی بات کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا کر دیتی ہے۔ تقریباً ایک سال پہلے آصف زرداری نے کہا کہ میاں نوازشریف کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے ہیں، اب کسی مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نوازشریف کا بیان آیا کہ آصف زرداری شرم ناک باتیں کر رہے ہیں، میں ان سے کبھی ہاتھ نہیں ملا سکتا۔ گزشتہ روز آصف زرداری سے پوچھا گیا کہ آپ نوازشریف کا حال پوچھنے کب جائیں گے؟ جواب دیا کہ بیٹابلاول حال پوچھ آیا ہے، کافی ہے۔ مبصرین کے مطابق آگ پانی کا میل  کب تک چلے گا؟ میاں شہباز شریف نے بلاول کو تحفہ میں اکائونٹس کمیٹی والا چیمبر دیا ہے، واری صدقے والے ان تعلقات میں کوئی اونچ نیچ آئی تو یہ واپس بھی لئے جا سکتے ہیں، صرف ایک تالہ لگانا ہو گا! ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ اندھیری رات میں ایک نوجوان نے آسمان کی طرف ٹارچ کی روشنی کی۔ اس روشنی کی دھار بہت اونچی گئی۔ اس نے قریب کھڑے دوسرے نوجوان سے کہا کہ تم روشنی کی اس دھار پر سیڑھی کی طرح چڑھ کر آسمان پر جا سکتے ہو۔ اس نے کہا کہ نا بھئی! میںچڑھ تو جائوں مگر تمہارا کیا اعتبار ہے، میں اوپر سرے پر پہنچوں تو تم ٹارچ بند کر دو!
٭بلوچستان کے 64 سالہ سابق وزیراعلیٰ سردار محمد اسلم رئیسانی نے بلوچستان یونیورسٹی میں ایم فل پولیٹیکل سائنس (سیاسیات) میں داخلہ لے لیا ہے۔ کہا ہے کہ ’’علم جتنا بھی حاصل کر لیا جائے بہتر ہے۔ میں ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی بھی کروں گا۔‘‘ رئیسانی صاحب کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کا ارادہ اور اقدام بہت خوش آئند اور قابل تعریف ہے، آدمی کسی وقت بھی علم، عقل، شعور کی طرف آنے کا ارادہ کرلے، اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔
٭نیب نے چودھری برادران کے خلاف ایک انکوائری شروع کی کہ ان کے خاندان نے لاہور کے ایل ڈی اے سٹی منصوبہ میں کروڑوں کی مالیت کے 28 پلاٹوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کی ہے۔ یہ معاملہ احتساب عدالت تک پہنچا۔ اب نیب نے اچانک عدالت کو بتایا کہ یہ نہائت مہنگے 28 پلاٹ چودھریوں نے نہیں، بلکہ ان کے گھر کے ایک ملازم مرزا محمد اسلم نے خریدے اور فروخت کئے ہیں، اس معاملے سے چودھریوں کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے اس کیس کی تحقیقات بند کی جا رہی ہیں۔ خبر کی درستگی کے لئے پھر درج ہے کہ کروڑوں کی مالیت کے 28 پلاٹ گھر کے ایک ملازم نے خریدے تھے! عدالت نے وضاحت کے لئے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کو 26 اپریل کو طلب کر لیا ہے!
٭بلوچستان اسمبلی میں ’’بلوچستان عوامی پارٹی‘‘ کے رکن محمد خان کی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر الیکشن کمشن نے اسے رکنیت کیلئے نااہل قرار دے دیا ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جعلی ڈگری بنوانے کے جرم میں اس شخص کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا جا رہا ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ اب تک اس نے اسمبلی کی حیثیت سے جو لاکھوں روپے تنخواہ وصول کی ہے وہ واپس لی جائے گی یا نہیں؟ اب تک قومی و صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں، کوئی ایک بھی گرفتار ہوا؟ جیل گیا؟
٭وزیراعظم کے شکایات سنٹر میں محکمہ کسٹم کے کچھ سپاہیوں کی تحریری شکائت موصول ہوئی ہے کہ کسٹم کے اعلیٰ حکام ان سے ذاتی و گھریلو ڈیوٹی لیتے ہیں۔ ان سے دفتر میں چائے بنوائی جاتی ہے اور گھریلو ملازم کے طور پر باوردی گھروں میں صفائی، برتن دھونے کے اور دوسرے کام کرائے جاتے ہیں۔ 21 ویں سکیل کے ایک افسر کے گھر پر پانچ باوردی سپاہی ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان سپاہیوں نے شکائت میں کہا ہے کہ انہیں وردی پہن کر افسروں کے گھروں پر برتن دھونے اور صفائی کرنے پر بہت شرم اور ذلت محسوس ہوتی ہے۔ اس سے نجات دلائی جائے! اہم بات یہ کہ ایک صحافی کے سوال پرکسٹم کے ایک اعلیٰ افسر نے اس شکائت کو بے بنیاد قرار دیا، اس افسر کے گھر چار سپاہی کام کر رہے تھے۔
٭شیخ رشید:’’حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمان کی تحریک عید کے بعد شروع ہو گی (6 جون کے بعد)‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں، تقریباً دو ماہ اور چل سکتی ہے۔ منیر نیازی نے مولانا فضل الرحمان کی بات کو کچھ اس انداز میں پیش کیا ہے کہ ’’محبت اب نہیں ہو گی، آئندہ پھر کبھی ہو گی۔ گزر جائیںگے یہ لمحے تو ان کی یاد میں ہو گی!‘‘ شاکر شجاع آبادی کا رنگ دوسرا ہے کہ دیا جلا کر ہوا کے سامنے رکھ دیا ہے اب ہوا جانے، خدا جانے!!
 

تازہ ترین خبریں