06:54 am
درویش صفت سراج الحق اور جماعت اسلامی

درویش صفت سراج الحق اور جماعت اسلامی

06:54 am

جماعت کے پہلے امیر خود بانی جماعت سید مودودی تھے،ان کی علمی حیثیت کے، مخالفین بھی معترف ہیں۔تمام تر سیاسی ،علمی کارناموں کیساتھ ’’تفہیم القران‘‘ لکھنا ان جیسی عظیم المرتب اور صاحب    استقامت شخصیت ہی کا کام تھا ،جماعت اسلامی کو انہوں نے موروثی جماعت بھی نہیں بننے دیا،ان کی زندگی میں ہی ان کی اولاد جماعت کی سیاسی سرگرمیوںسے لا تعلق رہی،جبکہ اپنی موجودگی میں انہوں نے میاں طفیل محمد کو امیر جماعت کی ذمہ داری سونپی،بعد میں ارکان باقاعدہ ان کا انتخاب عمل میں لائے،میاں صاحب بھی علمی شخصیت کے طور پر اپنا ایک منفرد مقام رکھتے  تھے،ان کی علمی خدمات میں حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کی معرکۃالآرا تصنیف ’’کشف المحجوب ‘‘ کا اردو میں ترجمہ بھی شامل ہے،ان کے دور امارت میں سیاسی گر ما گرمی عروج پر رہی،اور میاں صاحب نے اس کی قیمت شاہی قلعہ میں بھٹو حکومت کے مظالم سہتے ادا کی،مگر زبان پر حرف شکائت نہ لائے،عزیمت کیساتھ اپنے موقف پر قائم رہے،مولانا مودودی نے اپنے سیکرٹری جنرل کو قائمقام امیر نامزد کیاتو میاں صاحب نے بھی اپنے سیکرٹری جنرل قاضی حسین احمد کو اپنی علالت طبع کے بعد قائم مقام امیر نامزد کیا ان کو بھی بعد میں ارکان جماعت نے باقاعدہ طور پر منتخب کر کے سند امارت عطا کی۔
سینیٹر سراج الحق نے دوسری مدت کیلئے امیر جماعت اسلامی منتخب ہو نے کے بعداپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی منتخب ہونا اگر چہ   ایک بڑا  اعزاز ہے مگر  یہ کوئی فخر و غرور کی بات بھی نہیں،امیر جماعت کا عہدہ در حقیقت ایک آزمائش اور امتحان ہے اور وہ بھی کڑا۔محترم لیاقت بلوچ کا اس تقریب با وقار کےلئے دعوت نامہ ملا ۔بعد ازاں پیارے بھائی اور جماعت کے  انتہائی  متحرک سیکرٹری اطلاعات  قیصر شریف  سے لے کر فرحان  شوکت ہنجرا تک  نشرواشاعت کے تمام ذمہ داران  نے یاد دہانی  بھی کرائی مگر میں کسی مصروفیت کی بنا پر اس تقریب میں شرکت نہ کر سکا۔
جماعت اسلامی کی سربراہی کانٹوں بھری راہ گزر  ہے، دیگر سیاسی  جماعتوں کی طرح امیر جماعت اپنے فیصلوں میں آزاد اور خود مختار نہیں ہوتا،بلکہ مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا پابند ہوتا ہے،اور عملدرآمد کے حوالے سے جوابدہ بھی۔  بانی جماعت اسلامی سید مودودی نے جماعت کا نظم تشکیل دیتے وقت اس عہدہ کو قابل مواخذہ بنا دیا تھا ،یہی وجہ ہے کہ امیر جماعت کوئی بھی ہو وہ ہر کام اور فیصلہ مشاورت سے کرنے کا پابند ہے،جماعت اسلامی میں احتساب کا بھی ایک کڑا نظام موجود ہے،راقم ذاتی طور پر ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہے ،  جماعت کیلئے جن کی خدمات ناقا بل فراموش ہیں لیکن اپنی معمولی غلطیوں کے خمیازہ میں ان کو جماعت سے الگ کر دیا گیا،مگر علیحدگی کے فیصلہ سے قبل ان کو صفائی کا مناسب موقع بھی دیا گیا۔
 قاضی حسین احمدکے دور امارت میں جماعت اسلامی پہلی مرتبہ ایک عوامی جماعت کے طور پر سامنے آئی،قاضی صاحب ایک دبنگ شخصیت کے مالک تھے،پاسبان تحریک کے دوران وہ ایک نڈر لیڈر کے طور پر سامنے آئے،ان سے قبل امیر جماعت کے عام الیکشن پر حصہ لینے پر پابندی تھی مگر قاضی صاحب کے سیاسی مقام ومنزلت کو دیکھتے ہوئے جماعت نے انکو پارلیمینٹ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا،وہ ایم این اے اور سینیٹر کے طور پر پالیمینٹ میں سرگرم  کردار  ادا کرتے رہے،انکے دور میں ہر سیاسی تحریک انکے بغیر نامکمل تصور کی جاتی تھی،قاضی صاحب ایک مرنجان مرنج شخصیت کے مالک تھے ،علامہ اقبال کا فارسی کلام انکو ازبر تھا،وہ جب فارسی لب و لہجہ میں کلام اقبال سناتے تو سماں بندھ جاتا،دل کے عارضہ نے ان  کو صاحب فراش کیا تو سیکرٹری جنرل سید منور حسن کو عارضی طور پر امارت کی ذمہ داری سونپی گئی، حسب روائت ارکان نے باقاعدہ طور پر منتخب کر کے مستقل امارت کی ذمہ داری ان کو سونپ دی،منور حسن ایک اکل کھرے انسان تھے،وہ ایک ایسی شخصیت تھے کہ سچی بات کہنا خود پر فرض عین گردانتے ،موقع محل دیکھے بغیر سچ کے موتی ان کی زبان سے نکلتے رہتے،ان کی یہ خوبی عیب بن گئی اور مخالفین ان کی باتوں کو لیکر پروپیگنڈہ میں مصروف ہو جاتے،مگر سید زادے نے کبھی اس کی پرواہ  کی نہ سچ سے ناطہ  توڑا۔
سید منور حسن کے بعد امارت کی ذمہ داری کا بوجھ سراج الحق کے کندھوں پر آیا،اس سے قبل وہ متحدہ مجلس عمل کی خیبر پختونخوا حکومت میں بطور سینیئر وزیر اپنی سادگی ،قناعت اور دیانتداری کی بے مثال تاریخ رقم کر چکے تھے،جس کی ایک مثال لاہور میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شرکت کی ہے۔اجلاس کے بعد باقی تینوں صوبوںکے وزراء اعلٰی نے ہزاروں روپے کے ٹی اے ڈی اے بل جمع کرائے مگر سراج الحق نے صرف تیرہ سو روپے کا بل اپنی حکومت کو دیا،کابینہ ارکان اور بیورو کریسی بل دیکھ کر حیران ہو گئی،استفسار پر کہا بس اڈے تک سرکاری گاڑی نے پہنچا دیا،پشاور سے لاہور تک بس کا ٹکٹ خود خریدا،لاہور میں بس اڈہ سے جماعت اسلامی کی گاڑی منصورہ لے گئی،طعام و قیام منصورہ میں رہا،لاہور میں بھی جماعت اسلامی نے سفر کیلئے گاڑی دی،واپسی کا ٹکٹ جیب سے لیا،اور یہ کرایہ صرف اتنا ہی بنتا ہے۔بطور ایم پی اے خیبر پختونخوا بھی وہ سادگی کی ایک مثال تھے،وہ آج بھی ایک متوسط درجے کے چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں،سڑک کنارے کسی چٹائی پر مزدوروں اور غریبوں کیساتھ کھانا کھانے میں وہ عار نہیں سمجھتے،سینیٹر کے طور پر بھی انہوں نے  سادگی اور ذمہ داری کی مثال قائم کی،جس کا اعتراف سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کرپشن کے مقدمہ کی سماعت کے دوران کیا اور کہا’’آرٹیکل 62/63کا اطلاق کیا جائے تو صرف سراج الحق(باقی صفحہ نمبر6 بقیہ نمبر1)
 اس پر پورا اتریں گے باقی سب کو سزا ہو گی یا نا اہل قرار پائیں گے،‘‘سراج الحق اس گئے گزرے دور میں اسلاف کی نشانی ہیں،سادگی قناعت ان کا خاصہ ہے،دیانتداری شیوہ۔
         سراج الحق کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے،سابق دور میںجماعت اسلامی خیبر پختونخوا حکومت میں تحریک انصاف کی اتحادی تھی مگرالیکشن سے چند ماہ قبل نہ صرف حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی بلکہ تحریک انصاف سے اتحاد بھی ختم کردیا اور ایک مرتبہ پھر فضل الرحمٰن کی قیادت میں متحدہ مجلس عمل کا حصہ بن گئی حالانکہ مشرف دور میں جب مجلس
 عمل نے سرحد(خیبر پختونخوا)میں حکومت بنائی تو جماعت اسلامی کو دوسرے درجے کی حیثیت دی گئی،دو سری مرتبہ بھی جماعت اسلا می کا ساتھ مختصر رہا اور کچھ ہی عرصہ بعد جماعت اسلامی نے الیکشن میںشکست کے بعدمتحدہ مجلس عمل سے باقاعدہ علیحدگی کا فیصلہ کرلیا،سراج الحق نے اپنی اس سیاسی غلطی کو تسلیم کیا،ورنہ اگر گزشتہ الیکشن میںجماعتت اسلامی تحریک انصاف سے اتحاد برقرار رکھتی تو آج  مرکز اور کے پی کے میں حکومت کا حصہ ہوتی ۔
      اس سب کے باوجود سراج الحق درویش صفت اور  دور حاضر میںاسلاف کی یاد تازہ کرتے ہیں،امید کی جا رہی ہے کہ سراج الحق اپنے نئے دور امارت میں ماضی کی غلطیوں سے اجتناب کرتے ہوئے ایسے سیاسی فیصلے کرینگے جو جماعت اسلامی کو پھر سے عوامی سیاسی
 جماعت بنانے کا سبب ہونگے۔دوسری دفعہ حلف کے موقع پر انہوں نے بہت اچھی بات کی ، جماعت اسلامی اپوزیشن کا حصہ ضرورمگر کرپشن  اور پانامہ  والوں کے  ساتھ نہیں۔
 

تازہ ترین خبریں