06:55 am
برونائی میں نفاذ شریعت کا اعلان 

برونائی میں نفاذ شریعت کا اعلان 

06:55 am

 حال ہی میں ایک اچھی خبر آئی ہے جس کی تحسین کی جانی چاہئے کہ برونائی کے سلطان حسن نے اپنے ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔خبر کے مطابق برونائی کی حکومت نے 28 مارچ کو شرعی قوانین کی منظور ی دیتے ہوئے اس کو ملک بھر میں تین اپریل سے لاگو کرنے کا اعلان کیا تھا، قانون کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہی ہوگا۔یہ خبر سنتے ہی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم اور دیگر ممالک نے شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کرنے کے بعد برونائی کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ اعلان کو واپس لیا جائے مگر حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملہ قرار دیا۔
  وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کے بارے میں چار لوگ گواہی دیں گے تو عدالت اسی حساب سے فیصلہ کرے گی، ہم اپنی سرزمین پر کسی گندے فعل اور گھناونے کام کی اجازت نہیں دے سکتے۔برونائی کے سلطان حسن آل بولاکی نے شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ملک میں شرعی قوانین دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ اسی کے ذریعے جرائم پر قابو پانا ممکن ہے اور ہم دنیا بھر میں ترقی بھی کرسکتے ہیں تاہم اسلامی ملک میں اسلامی سزائوں کا خلا مغرب کو کھائے جارہا ہے حالانکہ ان قوانین کا غیر مسلموں پر اطلاق نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود یہ ہیومن رائٹس واچ کمیشن کی طرف سے جواز گھڑ ا جارہا ہے کہ نئے شرعی قوانین کے اطلاق سے غیر ملکی سیاحوں اور تاجر برادری کی توجہ کم ہوجائے گی کیونکہ اس کی وجہ سے انسانی حقوق بری طرح متاثر ہوں گے۔
     ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اسلام کے کن کن گوشوں کے قوانین کو نافذ کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ہماری دلی خواہش اور دعا یہی ہوگی کہ وہ پورے دین کو نافذ کریں جیسا کہ قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے کہ ’’ دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائو‘‘۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتوں کی طرف سے برونائی کے اس فیصلے کی مذمت کی گئی ہے جو بہت نامناسب ہی نہیں ، وہاں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔یہ مغرب کی اسلام دشمنی کی عکاسی بھی ہے۔اس اللہ کے بندے نے ایک نیک قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے اور یہ سب ان کے درپے ہوگئے ہیں۔اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔
    اس کے ساتھ ہماری گزارش یہ ہوگی کہ مسلم حکمرانوں کو اپنی زندگی میں سادگی اور کفایت شعاری کے اسلام اصولوں کو بھی اپنائیں۔اس سے قبل اس مملکت کے بارے میں جو خبریں ملتی رہتی تھیں وہ مختلف نوعیت کی تھیں۔اب جبکہ انہوں نے نفاذ شریعت کا اعلان کردیا ہے تو ہماری دعا ہے کہ وہ اس کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے کی اللہ انہیں توفیق عطا فرمائے۔ہمیں توقع ہے کہ دیگر اسلامی ممالک کے حکمران بھی ہمت سے کام لیں گے اور مغرب کی مرعوبیت سے نکل کر اپنے اپنے ممالک میں اسلام کے عدل اجتماعی کے نفاذ کے لئے کوشش کریں گے بالخصوص پاکستان کوجو اسلام کے نام پر ہی وجود میں آیا ہے، اس سلسلے میں سب سے پہلے پیش قدمی کرنی چاہئے تھی ۔
  اس ضمن میں ہم سے بڑی کوتاہیاں ہوئی ہیں ۔ اللہ کے دین کو یہاں نافذ کرنا چاہئے تھا جو کہ ہمارا دینی فریضہ ہے ۔ہمارے حکمرانوں کو کوتاہیوں کی تلافی کرتے ہوئے بغیر کسی تاخیر کے نفاذ شریعت کے لئے اقدامات کرنا چاہئے اور عوام کو اس ضمن میں ان سے تعاون کرنا چاہئے۔اللہ تعالی پورے عالم اسلام کو اس ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے بھارت کے انتہا پسند اور دہشت گرد وزیر اعظم کو اپنے ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ سے نواز ا ہے۔یہ انتہائی افسوسناک معاملہ ہے۔قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ مسلمانوں کو بتایا گیا کہ تمہارے دو بڑے دشمن ہیں۔فرمایا گیا کہ تم دنیا کے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مسلمانوں سے بغض و عداوت میں یہود اور مشرکین کو پائوگے۔ اس وقت یہود اور مشرک بھارت کے درمیان مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ ہوچکا ہے اور ہم بھارت کو نوازنے پر تلے ہوئے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم کو ملک کے سب سے بڑے سویلین اعزاز سے نوازنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔نریندر مودی نے بھارتی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل کروایا ہے۔ایسے مسلمان دشمن کی پذیرائی ہورہی ہے۔
آخر میں ہمیں حکمرانوں سے یہ عرض کرنا ہے کہ وہ یہاں اسلام کے عدل اجتماعی کے نفاذ کی جانب پیشقدمی کریں جس کے نتیجے میں ہمیں اللہ کی مدد حاصل ہوگی ۔کاش ہمیں یہ سعادت حاصل ہوجائے کہ مملکت خدادا د پاکستان کو اسلام کا حقیقی معنوں میں قلعہ بناسکیں۔ویسے یہ اعزاز کس کے حصے میں آئے گا وہ اللہ بہتر جانتا ہے۔اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔ 

 

تازہ ترین خبریں