06:56 am
 سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

06:56 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 مسلم لیگ ن کا محور نواز شریف کی شخصیت ہے لیکن شہباز شریف نے ، بالخصوص لاہور میں، بڑے بڑے منصوبے مکمل کرکے خود کو مردِ میدان ثابت کیا ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی ہے کہ شہباز شریف کی صحت بھی اچھی نہیں، مزید یہ کہ وہ شدید کمر درد میں مبتلا ہیں۔ حمزہ شہباز کو ن لیگ میں قیادت کے لیے ایک آپشن قرار دیا جاتا تھا وہ بھی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں ہے اور جیل جاسکتے ہیں، اسی سبب سے حمزہ  پرُاعتمادانداز میں اپنے قدم جمانہیں پار ہے ۔ شریف خاندن کی سیاست سے دست برداری مسلم لیگ ن کے لیے آخری دھکا ثابت ہوگی۔ کسی مضبوط قیادت کے بغیر اس کے ارکان تتر بتر ہوجائیں گے اور دیگر جماعتوں کا رُخ کرلیں گے۔ اس کی زد میں شاہد خاقان عباسی بھی آئیں گے جنہوں نے بطور وزیر اعظم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن شریف خاندان سے وفاداری نے انہیں کرپشن کے مقدمات میں ملوث کردیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹبیلشمنٹ کی نظر میں چودھری نثار سب سے مضبوط امیدوار ہوں گے۔ سیاسی منظر نامے پر رونما ہونے والی ڈرامائی تبدیلیاں نظام کے استحکام کو متاثر کریں گی اور پہلے سے کمزور پڑتی پاکستانی ریاست کے لیے صورت حال مزید نازک ہوجائے گی۔ 
 
یہ حالات پیدا ہونے سے روکنے کی بھاری ذمے داری حکمران جماعت تحریک انصاف اور عمران خان کے کاندھوں پر ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو چاروں صوبوں میں جڑیں اور ملک، معیشت اور سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کا  واضح پروگرام رکھتی ہو۔
تحریک انصاف کسی واضح نظریے اور داخلی قوت کے بغیر ایک قدرے نووارد سیاسی جماعت ہے۔ ’’الیکٹبلز‘‘ کو قبول کرنے سے اس کے اعتبار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ مزید یہ کہ نااہل ہونے والے جہانگیر ترین کی عدم موجودگی میں ، انتخابی سیاست کی صلاحیت سے نہ رکھنے والے لوگ عمران خان کے گرد جمع ہوتے جارہے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو 1997ء کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں منڈلاتے رہے ہیں۔ یہ کرائے کے سپاہی اپنے مفادات کے سوا کسی سے مخلص نہیں۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف بھی کرپشن کے مرض سے پوری طرح محفوظ نہیں‘ اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے پارٹی اصولوں کو سختی سے عمل کی ضرورت ہے اور پنجاب اسمبلی کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے جیسے احمقانہ اور مایوس کُن کوششوں کی روک تھام کرنا ہوگی۔ اگر حکمران جماعت ہی ان اصولوں پر کاربند نہیں رہے گی جن کا وہ پرچار کرتی رہی ہے تو کسی اور سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟  
اس وقت سیاسی جماعت کے ایسا داخلی مستحکم ڈھانچہ کھڑا کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیادیں  جمہوری رویوں اور رائے سازی پر استورا کی جائے اور جس میں اندرونی کھینچ تان نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ عمران کو واضح کردینا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں تاکہ بار بار اپنی باتوں پر نظر ثانی کی مشق تو ختم ہو۔ امید ہے کہ سیکھنے کا عمل کامیاب ہوگا۔ گزشتہ ماہ بھارتی جارحیت کے بعد عمران خان نے اپنی تقریر میں ہوش مندی اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور یہ تقریر ان حالات میں انتہائی کار گر ثابت ہوئی۔ عوام کو بھارت کی جانب سے کسی ممکنہ ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ سے پیشگی آگاہ کرنا انتہائی سمجھ داری سے کیا گیا اقدام ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج اور ایجنسیوں کے مابین کس قدر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ 
پاکستان کو سیاسی نظام برطانوی راج  سے ورثے میں ملا جس میں پارلیمان کے دو ایوان  اور اکثر قوانین اور قانونی ڈھانچا بھی شامل ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا ارتقا بالکل ہی الگ ڈھب پر ہوا۔ آزادی سے قبل قوم پرستی اور استعماریت کی مخالفت انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ اور جمعیت علمائے ہند کی بھی نظریاتی بنیادیں تھیں۔ مغرب میں سیاسی جماعتوں کا آغاز نسلی یا مذہبی بنیادوں پر ہوا۔ آزادی کے بعد مسلم لیگ کی گرفت کم زور پڑنے لگی کیوں کہ وہ قیام پاکستان کی صورت میں اپنا مرکزی سیاسی ہدف تو حاصل کرچکی تھی لیکن اس کے بعد قیادت کوئی نیا قومی پروگرام نہیں دے سکی  جو ملک کے مختلف حصوں کو متحد رکھ پاتا۔ 
لبرلزم اور رجعت پسندی جیسے نظریات پاکستان میں وجود رکھتے تھے اور اسلام ملک کے دونوں بازؤں کی وحدت کی بنیاد تھا لیکن اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ اتحاد کے بجائے تفریق کا باعث بنا۔ پاکستانی معاشرے کی انتہائی روایتی اور شخصی اہمیت پر کھڑے ڈھانچے سے جنم لینے والی سیاسی جماعتیں خاندانوں، قبائل یا برادریوں کے زیر اثر گروہ بن گئیں حالاں کہ انہیں نظریاتی خطوط پر سوچنے والوں افراد پر مشتمل ہونا چاہیے تھا۔ یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کا ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نعرہ بھی محض نعرہ ہی تھا۔ موروثی سیاست سے پاک اور اپنے نظریات پر ثابت قدم واحد سیاسی پارٹی جماعت اسلامی ہے۔ اسلام کی اپنی محدود تعبیر کی وجہ سے چاروں صوبوں میں موجودگی کے باوجود  جماعت اسلامی قومی سطح کی پارٹی کا مقام حاصل نہیں کرسکی۔ 
ہم آج مغرب میں جو روایتی جمہوری نظام دیکھتے ہیں وہ سیاسی جماعتوں کے گرد گھومتا ہے۔ مغربی جمہوریت میں سیاسی جماعت کا مفہوم یہ ہے کہ مشترکہ سیاسی فلسفے یا نظریات رکھنے والے افراد، جو سماج اور ریاست میں محترک کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ ہوں، انہیں ایک پرچم تلے منظم کردیا جائے۔ مثال کے طور پر جرمنی میں سینٹر ڈیموکریٹک یونین روایت پسند نظریات کی حامل ہے، اسی طرح لبرلزم، کمیونسٹ یا سوشل ڈیموکریسی کے سیاسی فلسفے پر جماعتیں قائم ہوسکتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں ریاست(سیاسی نظام) اور سماج(عوام) کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سیاسی جماعتیں جو کسی قومیت یا مذہبی محدودات سے بالا تر ہو  کر پورے ملک میں وجود اور مقبولیت رکھتی ہوں وہ ملک کو یکجا رکھنے کی قوت بھی بن سکتی ہیں۔ 
بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف ایک مضبوط اور یکسو پارٹی ملک کو کرپشن ، شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کے قابل بنا سکتی ہے اور گرتی ہوئی ملکی  معیشت کو بھی اسی صورت سنبھالا مل سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی شکست و ریخت سے بے چینی پیدا ہوگی جس سے سیاسی عدم استحکام انتشار کی حد تک پہنچ سکتا ہے یا اس سے تحریک انصاف کی قوت میں اضافہ بھی  ہو سکتا ہے۔اس کا سب سے زیادہ انحصار عمران خان پر ہے، انھیں ایسے غیر منتخب لوگوں سے جان چھڑانا ہوگی جن کے دل میں نہ تو پاکستان کے لیے کوئی جذبہ خیر ہے اور نہ ہی انھیں اپنی پارٹی سے کوئی سروکار ہے، وہ صرف اپنے مفادات کے بندے ہیں۔ تحریک انصاف اگر ان اٹھتی موجوں پر اپنا سفینہ آگے بڑھانے کے قابل ثابت نہیں ہوئی تو یقینی طور پر بیرونی مداخلت کا شدید خطرہ پیدا ہوجائے گا۔

 (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 
 

 

تازہ ترین خبریں