06:57 am
یہود ونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے

یہود ونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے

06:57 am


 حملے میں پہل نہ کرنے کے عالمی معاہدے پر بھارت نے دستخط کررکھے ہیں جبکہ پاکستان نے تاحال اس پراس پردستخط نہیں کئے،اس کے باوجود صبروتحمل کی پالیسی کے تحت ستائیس فروری کی رات کویہ طے کیاگیا تھاکہ حملے میں پہل نہیں کی جائے گی لیکن اگراسرائیل یابھارت کی جانب سے جارحیت کی جاتی تواس صورت میں ربّ ِ کریم کی عطاکی ہوئی تین گنازیادہ طاقت سے جواب دیکران دشمنوں کوہمیشہ کیلئے نیست ونابود کر دیا جائے گااوراس ارادے سے نہ صرف بھارت اور اسرائیل بلکہ اس کے مربی بھی باخبرہوگئے تھے جس کی بناء پردنیاایک قیامت صغریٰ سے محفوظ ہوگئی۔
 
 عالمی میڈیاکے مطابق بھارتی حملے کے جواب میں اگلے دن ہی پاکستانی شاہینوں نے باقاعدہ برملااعلان کرکے فضائی جھڑپ میں یک نہ شدبلکہ تین بھارتی طیارے مارگرائے ۔ ایک طیارہ کاپائلٹ ’’ابھی نندن ‘‘کوتوپاک فوج کے جوانوں نے عوام الناس کے غیض وغضب سے بمشکل بچایا ،دوسرا طیارہ بھارت کی حد میں گرا مگر تیسرا تباہ ہونے والاطیارہ کہاں گیا؟اس کو زمین کھاگئی یاآسمان نگل گیااوروہ پائلٹ کون اورکہاں گیا اور اس وقت کس کے پاس ہے ؟ 
اسرائیلی ہانیاں نتالی جواسرائیلی سوشل میڈیا کابہت معروف و سرگرم رکن ہے اور حکومتی حلقوں سے قریبی تعلقات ہیں،اس کی 28 فروری کی جاری کردہ تصویرجس میں اسرائیلی اوربھارتی پائلٹ ساتھ ساتھ کھڑے ہیں ، سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔یہ اسرائیلی پائلٹ بھارت کے ساتھ مل کرپاکستان کی قانونی حدودپھلانگ کرکیاکرنے آیاتھا؟کیاوہ ماضی کے اپنے منصوبہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کی تباہی کے بلیوپرنٹ میں پاک بھارت معرکہ کی آڑمیں رنگ بھرنے آیاتھا؟
یادرہے کہ 1988ء میں پاکستان کے جوہری دھماکوں سے پہلے جب مملکت خداداد پر حملہ کی خبریوں تائیدایزدی سے ملی کہ اسرائیلی طیارے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کوعراق کی طرح تباہ کرنے سرینگرپہنچے ہیں توپھرپاکستان نے ہاٹ لائن پرامریکاکوبتادیاکہ پاکستان نے بھی بھارت اوراسرائیل کی یقینی تباہی کاپورابندوبست کرلیاہے اورامریکی سیٹلائٹ نے بھی تصدیق کردی توامریکہ نے فوری طورپراپنے دونوں حلیفوں کواس خطرہ کی فوری اطلاع دیدی ،اس طرح بھارت واسرائیل کایہ شیطانی منصوبہ ناکام ہوگیالیکن اس سارے عمل سے جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی میں بھارت کااچانک دورہ کرکے راجیو گاندھی کوبھی متنبہ کردیاتھا،جس کے بعدراجیو گاندھی نے فوری طورپراس منصوبے کوختم کر دیا۔
دراصل اسرائیل 26اپریل1974ء کی تاریخ کے اس صدمے کونہیں بھولا جب پاکستان کے ہیروپائلٹ عبدالستارعلوی نے اسرائیل کوچھٹی کادودھ یادلادیااورپاک فضائیہ میوزیم میں آج بھی نہ صرف عرب اسرائیل جنگ میں پکڑے جانے والے اسرائیلی پائلٹ کی وردی دشمن کی ہزیمت کاثبوت بن کرمحفوظ ہے بلکہ شام کی عملی حمائت میں پاکستانی پائلٹ نے اسرائیلی فضائیہ کواس قدربے بس کردیاکہ شام کے تمام طیارے اوراڈے محفوظ رہے اوریہی وجہ ہے کہ اسرائیل بھارت کوکشمیر پرناجائزقبضہ برقرار رکھنے میں دامے درمے سخنے مدددے رہاہے اوراس حالیہ معرکہ میں بھی اس کی بھرپور معاونت کی ۔ 
ایک اوراطلاع منظرعام پرآئی ہے کہ وہ بھارتی افواج کوپاکستان کے خلاف آپشنزمیں ایڈوائس اورآن گراؤنڈسپورٹ بھی فراہم کرتاہے اورحالیہ بھارتی جارحیت میں بھی اسرائیلی اسرائیلی انٹیلی جنس ’’امن‘‘بھارتی انٹیلی جنس کی معاون ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس کایونٹ 269، بھارتی ملٹری انٹیلی جنس افسران کو باقاعدہ تربیت بھی دیتاہے ۔اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ایڈوائز پاکستان کے خلاف تازہ جارحیت میں آن گراؤنڈریکی پٹرولنگ کاحصہ تھا۔ریکی پٹرولنگ آپریشنزلائن آف کنٹرول ، ورکنگ باؤنڈری اورانٹرنیشنل بارڈرپرلانچ کئے گئے۔بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کے اسپیشل سیکشن(T.S.D) یونٹ 269جس کاپرائمری ٹارگٹ پاکستان مخالف دہشتگرد آپریشنزلانچ کراناہے، کی ٹریننگ کے بعد بھارت نے (T.S.D)یونٹ اسرائیلی مشورے پرہی بنایا۔ اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس یونٹ 1391بھی بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کی خصوصی تربیت کرتاہے جس کافوکس مقبوضہ کشمیرکی جدوجہدآزادی اور پاکستان ہے۔ 
مودی بھی اسرئیل کی طرح اسلام کوبرداشت نہیںکرتا،امریکاکہنےکوعیسائی ریاست ہےمگرقرآن کی زبانی ’’الضالین‘‘یعنی گمراہ ہیںاوریہودی ’’مغضوب‘‘یعنی اللہ کے غضب کاشکار ہیں (الفاتحہ)  اب’’الضالین‘‘(امریکا)’’المغضوب‘‘ (اسرائیل) اورہنود (بھارت) تینوں نے سرجوڑرکھا ہے کہ پاکستان کی عطیہ خداوندی ایٹمی صلاحیت تباہ کردی جائے جوان تینوں کے سرپرتباہی کاسامان کئے ہوئے ہے۔ اکتوبر2005ء میںایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیاتھاکہ بے نظیربھٹوکے دورمیں اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلقات مستحکم ہوگئے جس کا بڑا فائدہ یہ ہواکہ ایٹمی تنصیبات کے خلاف بھارت اوراسرائیل کی مشترکہ فضائی کاروائی کاخطرہ ٹل گیا(یہ خوش خیالی ) تھی۔اسی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاتھاکہ پرویز مشرف پرخودکش حملوں کاناکام بنانے کیلئے خصوصی آلات اسرائیل نے امریکہ کے توسط سے مہیاکئے۔ پرویزمشرف کیونکہ اسرائیل کی سلامتی کیلئے کوئی خطرہ نہ تھا،اس لیے ان کا منظور نظر رہا ۔ پرویز مشرف کاجہادپالیسی سے انحراف اسرائیل اور امریکہ کے دل کوایسالبھایاکہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کی راہداریوں میں طے شدہ پروگرام کے مطابق صدر مشرف اور اسرائیلی وزیراعظم شیرون سے مصافحہ کا اہتمام بھی کیا گیا اور پرویز مشرف مغضوب علیہ یہودی کے ساتھ دینے پر اللہ کے غضب کاشکارہوگئے۔
 قرآن کے مطابق یہودی ونصرانی کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔ اسرائیل اسلامی نظریہ کی بنیادپرجنم لینے والی ریاست پاکستان کاازلی دشمن ہے۔موجودہ پاکستان کے حکمرانوں کو جہادی قوتوں کوسبوتاژکرنے کی بجائے فسادی عناصرسے نمٹنا چاہئے۔یاد رہے کہ قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے اپنی بصیرت کی وجہ سے اسرائیل کویورپ کی ناجائز اولاد کہا تھا۔1967ء میں بیت المقدس پرقبضہ کے بعدپیرس میں اس کا جشن منایاگیاتو اسرائیلی وزیراعظم نے کہاتھاکہ پاکستان ہماراسب سے بڑا دشمن ہے کیونکہ وہ ہمارانظریاتی دشمن ہے اورہمیں ہرحال میں اس کوختم کرنے کی پالیسی پرکاربند رہنا ہو گا ۔


 

تازہ ترین خبریں