06:57 am
زبردستی تبدیلی مذہب ۔۔۔اور بھانڈا پھوٹ گیا !

زبردستی تبدیلی مذہب ۔۔۔اور بھانڈا پھوٹ گیا !

06:57 am

جہاں دانشوری‘ تجزیہ نگاری اور کالم نگاری کا معیار ہی باطل قوتوں کی چاکری سمجھا جارہا ہو  وہاں کوئی کسی سے شکوہ کیا کرے؟ گھوٹکی کے ایک ہندو خاندان کی دو بہنوں کے اسلام قبول کرنے کے بعد الیکٹرانک چینلز کے بعض باطل پرست اینکرنیوں‘ اینکرز اور مخصوص نسل کے تجزیہ کاروں سے لے کر اخبارات کے بعض کالم نگاروں تک نے محض مفروضے کی بنیاد پر جس طرح سے ’’زبردستی مذہب کی تبدیلی‘‘ کا فسانہ گھڑ کر میڈیا پر طوفان بدتمیزی کھڑا کرکے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوشش کی وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔
 
صرف الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا میں ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی مدرسہ بھگوڑے دانش فروشوں نے یہ جھوٹا پروپیگنڈا کیا کہ جس طرح سے گھوٹکی کی دو ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا گیا ہے اسی طرح صوبہ سندھ میں اس سے پہلے بھی کئی ہندو لڑکیوں کو زبردستی تبدیلی مذہب پر مجبور کیا جاچکا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا ہو‘ پرنٹ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا یہاں ایسے دانش فروشوں کا اتوار بازار لگا ہوا ہے کہ  جو صرف ’’مفروضوں‘‘ کی بنیاد پر اسلام اور پاکستان کے مسلمان عوام پر تبراء کرکے موم بتی مافیا کے ذریعے نوٹ کمانا روشن خیالی کی معراج سمجھتا ہے۔ یہ اللہ کا خاص فضل و کرم کہ روزنامہ اوصاف نے حسب روایت اس حساس اور نازک موضوع پر بھی پاکستان کو بدنام کرنے والے امریکی پٹاری کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی پٹاری کے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف بروقت آواز حق کو بلند کرنے کا اعزاز برقرار رکھا۔
گھوٹکی کی دو نومسلم بہنوں کے مسلمان ہونے کے حوالے سے  جب خبریں منظر عام پر آئیں تو یہ خاکسار ساہیوال اپنے والد محترم کی خدمت میں موجود تھا۔ اسلام آباد سے دوری کی وجہ سے درست اطلاعات تک رسائی بھی نہ ہونے کے برابر تھی لیکن پھر اس خاکسار نے گھوٹکی میں رہائش پذیر اپنے باخبر دوستوں سے معلومات لیں تو مجھے بتایا گیا کہ ہندو خاندان کی دونوں نومسلم بہنیں اپنی رضا‘ خوشی اور مرضی سے مسلمان ہوئیں اور انہوں نے نکاح بھی اپنی پسند سے کیے … یہ وہ وقت تھا کہ جب بلاول اور زرداری ‘ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ‘ سشما سوراج سے لے کر وزیراعظم عمران خان تک اس حوالے سے متحرک ہوچکے تھے‘ دونوں نومسلم بہنوں کے اغواء کا جھوٹا پرچہ درج کرکے کئی مسلمانوں کو گرفتار کیا جاچکا تھا اور ڈاکٹر رمیش کمار برصغیر کے سب سے بڑے دانشور کے طور پر مختلف  چینلز کے ذریعے بعض مسلمان اینکرز اور تجزیہ کاروں کے ساتھ مل کر سندھ میں زبردستی تبدیلی مذہب کا جھوٹا ڈھونڈرا پیٹ کر ایک دینی درگاہ پر چھاپے مارنے کے مطالبے کرکے پاکستان میں نفرتوں کو عام کررہے تھے۔
اس خاکسار نے 26 مارچ کو ’’زبردستی تبدیلی مذہب کا جھوٹا پروپیگنڈہ‘‘ اور 27 مارچ کو دو نو مسلم بہنوں ’’آسیہ اور نادیہ کی جان کو خطرہ‘‘ کے عنوان سے یکے بعد دیگرے دو کالم لکھے … جس میں ’’زبردستی تبدیلی مذہب‘‘ پروپیگنڈہ بریگیڈ کو چیلنج کیا کہ وہ کوئی ایک ایسا واقعہ ثبوت کے ساتھ سامنے لائیں کہ ستر سالوں میں کسی غیر مسلم کو زور زبردستی سے کسی نے مسلمان بنانے کی کوشش کی ہو؟
موم بتی مافیا ‘ پروپیگنڈہ بریگیڈ کی اینکرنیوں‘ اینکرز اور دانش فروشوں کے سامنے میرا یہ چیلنج آج بھی قائم و دوائم ہے‘ وقت نے ثابت کر دیا کہ الحمد للہ مذہب پسندوں علماء کرام اور ہمارا یہ دعویٰ سچا تھا کہ نہ گھوٹکی کی دو بہنوں اور نہ ہی اس سے قبل کسی ایک بھی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام قبول کرنے والی گھوٹکی کی دو بہنوں کے تبدیلی مذہب کو نہ صرف درست قرار دے دیا بلکہ انہیں شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت بھی دے دی۔
ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ لڑکیاں بالغ ہیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے‘ عدالت کو  سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق آسیہ کی عمر18 سال اور نادیہ کی عمر19 سال ہے‘ دونوں لڑکیاں بالغ ہیں اور یہ کہ زبردستی مذہب تبدیل کروانے کا یہ کیس نہیں ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ عدالت کے حکم پر بنائے جانے والے انکوائری کمیشن کے ممبر آئی اے رحمن نے بھی عدالت میں پیش ہوکر یہ گواہی دی کہ ہماری انکوائری کے مطابق لڑکیوں نے مذہب زبردستی تبدیل نہیں کیا‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کے عوام کو مبارک ہو کہ ان پر لگایا جانے والا زبردستی تبدیلی مذہب کا الزام عدالت کے کٹہرے میں جھوٹا ثابت ہوچکا ہے  اور زمینی حقیقت بھی یہی ہے کہ کوئی کسی کو زبردستی سے اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر بھی نہیں سکتا۔
الحمد للہ پاکستان  میں بسنے والی تمام اقلیتیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور انہیں اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے میں بھی مکمل آزادی حاصل ہے‘ ڈاکٹر رمیش کمار کہ جن کا تعلق ہندو اقلیتی برادری سے ہے اپنے رکھ‘ رکھائو اور انداز گفتگو سے ایک منجھے ہوئے قومی رہنماکی حیثیت سے ابھر رہے تھے … مگر افسوس کہ انہوں نے گھوٹکی کی دو نومسلم بہنوں کے کیس میں انتہائی متعصبانہ اور جانبدرانہ رویہ اختیارکرکے اپنی ساکھ کو مجروح کر ڈالا‘ عدالت کے کٹہرے میں یہ بات  ثابت ہوگئی کہ گھوٹکی کی دو نو مسلم بہنوں آسیہ اور نادیہ کو نہ اغوا کیا گیا … نہ ورغلایا گیا‘ نہ ہی وہ نابالغ تھیں اور نہ ہی کسی مسلمان شخص‘ گروہ یا جماعت نے انہیں زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ڈاکٹر رمیش کمار اگر واقعی انصاف پسند ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ زبردستی تبدیلی مذہب کا پروپیگنڈہ کرکے ملک کو بدنام کرنے کی کوششوں پر پاکستان کے عوام سے معافی مانگیں۔
 

تازہ ترین خبریں