06:59 am
کوئٹہ میں دھماکہ…وکلاء، انجینئروں کی لڑائی

کوئٹہ میں دھماکہ…وکلاء، انجینئروں کی لڑائی

06:59 am

٭کوئٹہ، دھماکہ، 16 افراد شہید، 30 زخمی O نوازشریف، رہائی کے 15 دِن گزر گئے، علاج شروع نہ ہوا، نئی بیماری O بھارت میں انتخابات کا پہلا مرحلہ، چھ  مزید مرحلےO شہباز خاندان کی تین ارب 69 کروڑ کی منی لانڈرنگ کا انکشاف O لاہور: وکلاء، انجینئر لڑپڑے، مکے، ڈنڈے، ہاتھا پائی O توہین عدالت پر پنجاب کا ایڈووکیٹ جنرل فارغ O پنجاب کے وزیراعلیٰ کا ٹرین میں سفر، پلیٹ فارم 15 گھنٹے پہلے بند O جعلی اکائونٹس، 16 افراد کی عدالت میں پیشی۔
 
٭کوئٹہ، ایک اور خونریز دھماکہ،20 معصوم افراد (دو بچے) شہید، اِنا لِلّٰہ واِنا الیہ راجعون! تفصیل خبروں کے صفحے پر موجود ہے، اسے دہرانے کی ہمت نہیں پڑ رہی! وزیراعلیٰ بلوچستان نے مذمت کر دی، وزیراعظم نے زخمیوں کے بہترین علاج کی ہدائت کر دی (ویسے علاج نہیں ہونا تھا!) کیا یہ اتنا کچھ کافی نہیں! بدنصیب صوبے کا بدنصیب شہر!
٭پنجاب کے سادہ مزاج وزیراعلیٰ کو معلوم ہوا کہ ریلوے کے پاس صدر، وزیراعظم اور گورنر کے سفر کے لئے اعلیٰ قسم کا شاہانہ ایگزیکٹو لگژری سیلون موجود ہے۔ ایسے سیلون میں کبھی ہندوستان کا انگریز حاکم وائسرائے سفر کیا کرتا تھا۔ اس سفر کے دوران پوری ریلوے لائن پرہردس گز کے فاصلے پر پولیس کی سکیورٹی کھڑی ہوتی تھی۔ اس لائن پر کئی گھنٹے پہلے ہر قسم کی ٹرینوں کی آمدو رفت معطل ہو جاتی تھی، اس سیلون کے ساتھ ملازمین کی ایک بوگی بھی ہم سفر ہوتی۔ انگریزوں کا دور ختم ہوا۔ پاکستان پر جنرل ضیاء الحق نام کا ایک فوجی ڈکٹیٹرنازل ہوا۔ اس نے خانیوال (رحیم یار خان!) ایک بارات لے کر جانے کا منصوبہ بنایا۔ ایک خصوصی ٹرین کو سپیشل سیلون کی حیثیت دے دی گئی۔ اس میں سکیورٹی والے اعلیٰ سول و فوجی افسر بھی سوار تھے۔ راولپنڈی سے خانیوال تک ریلوے لائن پر ہردس گز کے فاصلے پر پولیس کا ایک سپاہی کھڑا کر دیا گیا۔ آئی جی پولیس خود سکیورٹی چیک کرتا رہا۔ اخبارات میں خبریں چھپیں کہ ملک کے اعلیٰ ترین حکمران نے اس سفر سے بہت لطف اٹھایا، راستے میں گپیں مارتے رہے۔ راستے میں تمام ’’درباریوں‘‘ کو اعلیٰ ترین کھانے پیش گئے۔ اب پھرپنجاب کے موجودہ نہائت سادہ،اب نہائت کشادہ مزاج وزیراعلیٰ کو اس شاہانہ سیلون کا پتہ چلا تو راولپنڈی تک سفر کا ارادہ کر لیا۔ ریلوے کو سیلون تیار کرنے کا حکم جاری ہو گیا۔ جمعہ 12 اپریل، صبح روانگی قرار پائی۔ ایک روز پہلے (11 اپریل) شام کو لاہور ریلوے سٹیشن کو خصوصی حساس علاقہ قرار دے دیا گیا۔ اس کاپلیٹ فارم نمبر2 عام ٹرینوں کے لئے بند کر دیا گیا اس کی صفائی شروع ہو گئی وفاقی وزیر ریلوے نے خود اس صفائی کی نگرانی کی اور وزیراعلیٰ کو ہر قسم کی آسائش فراہم کرنے کے لئے خود بھی ان کے ساتھ سفر کیا۔ وزیراعلیٰ کی لاہور سٹیشن اور راولپنڈی سٹیشن پر آمد کے وقت اردگرد کی سڑکیں بند کر دی گئیں اور سخت سکیورٹی نافذ رہی۔ ریلوے عملہ کے سینکڑوں چھوٹے بڑے افسر اور نچلے عملہ کے ارکان صاف ستھری وردیاں پہنے مودب حاضر رہے۔ میں خصوصی ریلوے سیلون میں سفر کرنے والے ہندوستان کے آخری وائسرائے کا نام یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں!
٭لاہور میں وکیلوں اور دھرنا دینے والے سرکاری انجینئروں میں سول سیکرٹریٹ کے باہر ایک مذاکرہ، پھر مباحثہ اور پھر دست بدست زبردست ٹاکرا! ہاتھا پائی، مکے، ٹھڈے اور ڈنڈے! انجینئروں نے زندگی میں پہلی بار کسی دھرنے کا شوق پورا کیا تھا۔ وکیل لوگ تو اس دھرنا کھیل کے پرانے تجربہ کار کھلاڑی ہیں، ہر ہفتے دو ہفتے بعد لاہور کی مرکزی مال روڈ پر دھرنا ان کے پیشہ وارانہ فرائض کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ ہائی کورٹ یا لاہور بار ایسوسی ایشنوں کے مراکز میں فارغ بیٹھے بور ہونے لگتے ہیں تو یاد آ جاتا ہے کہ کافی دن ہوگئے، سڑک پر کوئی دھرنا نہیں دیا، عام  ٹریفک جام نہیں کی، عام گاڑیوں اور ایمبولینسوں کا راستہ بند نہیں کیا، سو وہ گروہ کی شکل میں باہر نکل آتے ہیں۔ پولیس کا کوئی اہلکار دکھائی دے جائے تو اس کی پٹائی واجب ہو جاتی ہے (یہ کام عدالتوں میں عام کیا جاتا ہے)۔ بہرحال وکلا دھرنے دینے اور ٹریفک روکنے کے تجربہ کار ماہر ہو چکے ہیں۔ جمعرات، 11 مارچ کو مختلف سرکاری محکموں کے انجینئروں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے محکمہ آبپاشی کے صدر دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ کسی ’بڑے‘ نے نوٹس نہ لیا تو تھوڑی دور جا کر سول سیکرٹریٹ کے سامنے بیٹھے گئے۔ اعلیٰ مزاج لوگ تھے۔ ایک بڑا قالین ساتھ لے گئے تھے۔ سوٹ اور نکٹائیاں پہن رکھی تھیں۔ سول سیکرٹریٹ کے دائیں بائیں بہت سی سول اور سیشن عدالتیں ہیں۔ وکلاء آتے جاتے ہیں۔ ان کا راستہ بند ہو گیا۔ انہوں نے راستہ  مانگا۔ انجینئروں پر دھرنے کا نیا نیا خمار طاری تھا،انکار کر دیا، اس پر غضب ناک وکلا، انجینئروں پر جھپٹ پڑے۔ ان کی پٹائی کی اور ان کا قالین بھی جلا دیا۔ انجینئروں کو بھاگنے میں ہی عافیت دکھائی دی اور وہ بھاگ کر پھر محکمہ آبپاشی کے دفتر کے سامنے جا بیٹھے۔ یہ رَجَز نامہ کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ چلتے چلتے ایک چھوٹی سی بات، ایک عزیز نے پانچ سالہ بیٹے اور سات سالہ بیٹی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ بیٹا سکول میں بہن کی بہت حفاظت کرتا ہے، کسی کو اس سے ہاتھ نہیںاٹھانے دیتا۔ میں نے بیٹے کی تعریف کی تو اس عزیز نے کہا کہ بات کچھ اور ہے۔ بیٹا کہتا ہے کہ جب میں خود بہن کو مارسکتا ہوں تو کوئی دوسرا ایسا کیوں کرے؟
٭پہلی بار اندازہ ہوا کہ سرکاری ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ کوئی لاٹری کے انعام کی طرح کی چیز ہے۔ اس عہدے پر تقرر وزیراعظم اپنی مرضی سے کیا کرتا تھا، (شاہد مسعود، 20 لاکھ ماہوار)۔ عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اشتہار اور انٹرویو کا طریقہ اپنایا جائے۔ اشتہار دیا گیا، 42 درخواستیں آ گئیں! ظاہر ہے سب کے سب نہائت قابل تجربہ کار، ذہن اور اعلیٰ دماغ لوگ ہوں گے! اتنے قابل لوگ!
٭حیرت! وزراء بھی علمی ادبی باتیں کرنے لگے! امریکہ میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے مستعفی ہونے کی تردید کی اور کہا کہ یہ مختلف لوگوںکی ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دَم نکلے!‘‘ ایک دلچسپ بات! میرے ایک عزیز کی چھوٹی سی بیٹی مرزا غالب کی شاعری کو بہت پسند کرتی تھی۔ کچھ شعر یاد کر رکھے تھے۔ ایک شعر سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ مجھے کہنے لگی کہ’’ انکل مرزا غالب کو تو شعروں کے قافیے ملانے نہیں آتے! ایک شعر دیکھیں کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دُم نکلے! بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کَم نکلے!‘‘ انکل آپ اس شعر کو ٹھیک کریں‘‘۔O انکل کی شاعرانہ قابلیت اور عزت کا سوال تھا سو شعر ٹھیک کیاکہ ’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دُم نکلے، بہت آوازیں دیں ہم نے مگر نہ گھر سے تُم نکلے!‘‘ اس پر وہ بہت خوش ہوئی۔ کہنے لگی کہ دیکھا نا! میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ میرے انکل مرزا غالب سے بڑے شاعر ہیں۔
٭خدا تعالیٰ خیر کرے، مولانا فضل الرحمان ہسپتال میں، دل کی تکلیف، نوازشریف کے دماغ کی شریانوں میں رکاوٹ نکل آئی۔ وہ بھی ہسپتال میں۔ رہائی کو دو ہفتے ہو گئے، چار ہفتے رہ گئے۔ ابھی تک کوئی علاج نہیں ہوا۔
٭جعلی اکائونٹس کے کیس کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں 16 افراد عدالت کے روبروپیش،29 جعلی اکائونٹس، 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا معاملہ تو آصف زرداری سے تعلق والے اومنی گروپ کا ہے، اب شہباز شریف کے نام پر بالواسطہ تین ارب 69 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ سامنے آ گئی ہے۔ شہباز شریف جنرل پرویز مشرف کے دور کے بعد مسلسل دس سال پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے۔ اس دوران کے ظاہری اثاثوں میں تقریباً 28 کروڑ روپے کے اثاثوں کا اضافہ ہوا مگر تین ارب 69 کروڑ روپے! لندن میں فلیٹس! بار بار لندن میں طبی معائنہ!!
٭ن لیگ کے عمر قید یافتہ ملزم حنیف عباسی بھی ضمانت پر رہا ہو گئے۔ چودھری اعتزاز احسن گزشتہ روز کہہ چکے ہیں کہ ن لیگ والوں کو بہت ریلیف مل رہا ہے۔ نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، حنیف عباسی کی ضمانتیں، چودھری اعتزاز احسن ممتاز قانون دان ہیں!
 

تازہ ترین خبریں