08:39 am
میچ جیتنا ضروری ہے

میچ جیتنا ضروری ہے

08:39 am

 ایک روزہ کرکٹ میچ میں ہدف کو سامنے رکھ کر کھیلنے والی ٹیم میچ جیتنے کے لئے اس طرح کی حکمت عملی وضع کرتی ہے کہ فی اوور رنز بنانے کی اوسط بھی برقرار رہے اور وکٹ بھی ضائع نہ ہو۔  مثلاً اگر ہم پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی مثال لیں تو ہماری ٹیم بڑے یعنی250 رنز سے زائد کے ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے دبائو کا شکار ہو جاتی ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم بڑے ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے وکٹ بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ ٹیم کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ پہلے تیس اوورز سست رفتاری سے کھیلیں مگر وکٹ ضائع ہونے سے بچائیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر تیس اوورز تک وکٹیں محفوظ رہیں تو ٹارگٹ  تک پہنچنے کے لئے ہر کھلاڑی بھی د و چھکے لگالگے تو میچ آسانی سے جیتا جاسکتا ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ سست کھیلنے سے ہدف بڑھ جاتا ہے اور نتیجتاً تیز کھیلنا پڑتا ہے۔ تیز کھیلتے ہوئے ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیم راستے میں ہی دم توڑ دیتی ہے اور میچ ہار بیٹھتی ہے۔
 
مملکت پاکستان کے کپتان عمران خان کے سامنے ایک بہت بڑا ہدف ہے۔ میچ شروع ہونے سے پہلے ہی کپتان کو معلوم تھا کہ ہمیں مقابلے جیتنے کے لئے بڑا ہدف ملنے والا ہے۔ تیاری کرنے اور ٹیم بنانے اور اس کی کوچنگ کرنے کے لئے ان کے پاس وافر وقت تھا۔ دعوے بھی بلند بانگ تھے کہ ہم یہ میچ باآسانی جیت لیں گے ۔ عوام خوش تھی کہ پاکستان تاریخ کا اہم  میچ جیتنے والا ہے۔ کپتان پرعزم تھے۔ عوام کا جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ کپتان کی ماضی کی کارکردگی بھی لوگوں کے سامنے تھی۔1992 ء کا کرکٹ ورلڈ کپ کپتان کی بہترین حکمت عملی سے پاکستان نے کس طرح جیتا؟ عوام اس سے آگاہ ہے تھے جن لوگوں نے پاکستان کو عالمی چیمپئن بنتے نہیں دیکھا تھا انہوں نے ورلڈ کپ کی دلچسپ کہانیاں ضرور سن رکھی تھیں۔ عمران خان کی کرشمالی اور پرکشش شخصیت نے  ہر نوجوان کو مسحور کر رکھا تھا۔ عمران خان اب عوام کی طرف سے ایک فیصلہ کن میچ کھیلنے اور ہر صورت میں جیتنے کا خواہاں تھا عوام کو بھی یقین تھا کہ ہمارا اصل نمائندہ عمران خان ہے۔ عوام کو غربت سے یہی نکال سکتاہے۔ دو وقت کی  باعزت روٹی اور سکون زندگی گزارنے کے لئے اگر چھت مل سکتی ہے تو اسی کپتان کے توسط سے ۔ کرپٹ لوگوں اورسیاستدانوں  کو لٹکانا اور ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس یہی لے سکتاہے۔ نظام اس کی بہترین حکمت عملی سے درست ہوگا۔ تھانہ کلچر اگر تبدیل ہوسکتا ہے تو وہ بھی خان کی وجہ سے۔ عدالتیں بروقت اور سستا انصاف فراہم کریں گی۔ دولت کی ریل پیل ضروریات زندگی  کی آسان فراہمی‘ مریضوں کا مفت علاج اور نجانے اس جیسے اور کئی قسم کے خواب تھے جو2018 ء کے انتخابات کے بعد کپتان عمران خان کی قیادت میں عوام کا میچ جیتنے کی صورت میں پورے ہوسکتے تھے۔ میرے جیسے لکھاری بھی کپتان عمران خان کی حوصلہ افزای کے لئے تالیاں بجانے اور نعرے لگانے والوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ تاریخ کا اہم ترین میچ کھیلا جانے والا تھا۔
میچ کے آغا ز سے پہلے ٹیم کی سلیکشن کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ٹیم کے انتخاب میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ درست ‘ توانا‘ پرفارم کرنے والے کھلاڑی کو موقع دیا جاتا ہے اگرچہ ٹیم کے انتخاب میں تجربے کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ مگر ایسا تجربہ کار کھلاڑی جس کا ماضی اچھا نہ ہو یا جو مسلسل کارکردگی دکھانے میں ناکام ثابت ہو رہا ہو عموماً ایسے کھلاڑیوں کی ٹیم میں گنجائش نہیں ہوتی ۔ اگست2018 ء میں اس اہم میچ کا آغا ز ہوا۔ کپتان نے ٹیم کا انتخاب کیا اور منتخب ٹیم کا جب اعلان ہوا تو عوام پریشان ہوگئی۔ بہت سے شائقین تو اس وقت دل ہار بیٹھے بلکہ ا نہوں ے اسی وقت پیش گوئی کر دی کہ کپتان زندگی کا یہ مشکل ترین میچ نہیں جیت سکتا کیونکہ ٹیم کے اکثر رکھلاڑی یا تو سفارشی ہے یا آزمائے ہوئے ناکام یا پھر نااہل اور نکمے تھے لیکن پھر بھی عوام کی اکثریت نے اپنا جوش اور ولولہ برقرار رکھا۔ امیدوں کے دیے روشن  رکھے کیونکہ کپتان کا ماضی ہم سب کے سامنے تھا۔ شائقین اور ملک کے خیر خواہوں کا یہی خیال تھا کہ کوئی بات نہیں جیتنے کے لئے کپتان کا شیر ہونا ضروری ہے اگرچہ پوری قوم گیدڑوں پر بھی کیوں نامشتمل ہو۔
میچ کا آغاز ہوا‘ ٹیم نے دفاعی صورت اپنالی۔ ہدف بہت بڑا تھا مگر پوری ٹیم نے وکٹیں بچانے کے چکر میں سست کھیلنا شروع کیا۔ شائقین پرجوش ہیں۔ کھلاڑیوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کررہے ہیں گو کہ کھلاڑیوں کو تیز کھیلنا چاہیے تھا مگر ایک سکور بننے پر بھی پی ٹی آئی کی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ہر شہری داد دے رہا تھا۔ آغاز سست ضرور ہوا مگر کپتان کو پرعزم دیکھ کر شائقین بھی پرامید تھے کہ یہ فیصلہ کن اور فائنل میچ ہم ضرور جیتیں گے مگر ہوتا یہ ہے کہ ٹیم کریز پر سنبھل کر کھیل نہیں پارہی۔ سکور بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وکٹیں گنوا بیٹھتے ہیں اور اگر سست کھلیں تو ہدف دور سے دور تر ہوتا جارہا ہے۔ دوسری طرف ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ میچ جینے کے لئے اس مشکل ترین لمحا ت میں بھی کھلاڑی باہم دست و گریبان ہیں۔ کپتان غصے کے عالم میں ٹیم کے ہر ہر کھلاڑی کو گھورتا ہے۔ وقتی طور پر وہ خاموشی اختیار کرلیتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک کی کوشش کارکردگی پر توجہ دینے کی بجائے کپتان کی خوشنودی حاصل کرنے اور اس کے قرب میں جگہ پانے کی ہے۔ میچ کے ابتدائی لمحات میں کپتان بھی پرعزم  ہے اور ہر صورت میں  میچ جیتنا ان کا ہدف تھا مگر آہستہ آہستہ اب ان کاچہرہ بھی اداس محسوس ہوتا ہے چہرے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو رہے ہیں۔ مگر لگتا ایسے ہے کہ کپتان ابھی بھی ہمت نہیں ہارے اور امید ہے اور وہ میچ تیز کھیل کر جیت سکتے ہیں۔
ایک طرف میچ کے یہ حالات ہیں اور دوسری طرف عوام یہ سوچ رہی ہے کہ ایک ایسا کھلاڑی جو کبھی زندگی میں ناکام نہیں ہوا اور جس نے ہمیشہ ٹیم کے انتخاب میں میرٹ کو پیش نظر کھا۔ سفارشیوں کو نظر انداز کیا۔  وزیراعظم بننے کے بعد جب انتہائی اہم اور فائنل میچ کھیلنے جارہے تھے تو ٹیم میں سفارشیوں کو کیسے بھرتی کیا؟ ہم اب بھی پرامید ہیں کہ کپتان چھکے مار کر میچ جتوانے کی پوزیشن میں آجائے گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وکٹ کے دوسرے End پر موجود آخری کھلاڑی آئوٹ ہوگیا تو کپتا ن کیا کرے گا؟

 

تازہ ترین خبریں