08:43 am
بلاول زرداری کا واویلا

بلاول زرداری کا واویلا

08:43 am

بلاول زرداری اپنے والد زرداری کومبینہ کرپشن کیسز میں بچانے کے لئے واویلا کررہاہے ‘ حکومت وقت کے خلاف بے تکی باتیں کررہاہے ، اور اس غریب‘ مفلس‘ معاشی وسماجی طورپر محروم عوام کو یہ جھوٹا عندیہ دے رہے ہیںکہ حکومت ان کے خلاف سیاسی انتقام لے رہی ہے  اور ’’اٹھارویں‘‘ ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے‘ یہ سراسر جھوٹ ہے، نیب کا زرداری خاندان اور ان کے دوستوں کے خلاف کارروائیاں نہ تو سیاسی انتقام ہے اور نہ ہی اسکا تعلق اٹھارویں ترمیم سے ہے۔ نیب زرداری اور ان کے خاندان کے خلاف مبینہ سرکاری فنڈز کی خردبرد اورمنی لارنڈرنگ سے متعلق انصاف اور عدل پر مبنی کارروائیاں کررہی ہے۔ تقریباً 100ارب روپے کی چوری آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں سے منسوب ہے‘ بلاول زرداری اس حقیقت سے واقف ہیں ۔ اپنے قریبی دوستوں سے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے والد منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں‘ لیکن وہ کھل کر یہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ  ان کا خرچہ پانی بند ہوجائے گا اور بڑی جائیدادوں سے بھی محروم کردیا جائے گا۔   وہ بڑھ چڑھ کر اپنے والد کی ’’حمایت‘‘ حاصل کرنے کے لئے عمران خان کی حکومت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے ’’مقاصد‘‘ میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے، نیب ان سے ایک ایک پائی کا حساب لے گی، کیونکہ ان کی معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ملک کا یہ حال ہوا ہے‘ زرداری اور بلاول دونوں مل کر حکومت کے خلاف ’’تحریک‘‘ چلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ٹرین مارچ کے دوران بھی بقول بلاول اور ان کے ساتھیوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہے‘ لیکن ٹرین مارچ محض ایک پکنک ثابت ہوئی ۔ بلاول ٹرین کے ڈبے پر لٹک کر تفریحی موڈ میں نظر  آئے‘ منظر کے  مزے لے رہے تھے۔   وہ سندھ کے غریب و مفلس عوام کے دکھوں سے آگاہ ضرورہیں لیکن ان کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ بلاول زرداری غریبوں کا استحصال کرنااچھی طرح جانتے ہیں غریب عوام ان کو دیکھنے یا باتیں سننے ضرور آجاتے ہیں (پیسے لے کر) لیکن انہیں معلوم ہے کہ ان کے والد نے مبینہ چوری چکاری کے ذریعہ دولت کمائی ہے بلکہ بقول سابق صدر مشرف صاحب زرداری نے فیکٹریوں اور گھروں کو (کلفٹن کے ایریامیں) دھمکیوں سے خریدا ہے۔ سندھ کے سارے لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں۔
 
 اس لئے بلاول زرداری کا واویلا کرنا نہ تو جمہوریت کی بقا کے لئے ہے اور نہ ہی اٹھارویں ترمیم سے بلکہ اٹھارویں ترمیم سے تو اس کا  دور دور تک کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہے۔ بلاول زرداری کو شاید یاد نہیں ہے کہ رضا ربانی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اٹھارویں ترمیم کو قومی اسمبلی سے منظور نہیں کرایا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریکارڈ میں یہ بات درج ہے۔  دراصل موجودہ پی پی پی قیادت پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہے، یہ ایک کھائو پیو مزے اڑائو  پارٹی بن چکی ہے جس میں زیادہ تر ان کے حواری ملک کے وسائل و بڑی بے دردی سے لوٹ رہے ہیں‘ بھٹو مرحوم کے زمانے میں اس پارٹی میں نظریاتی افراد شامل تھے جو ملک کے غریبوں کی کایا پلٹنا چاہتے تھے لیکن بعد میں بھٹو صاحب اپنے ان قابل احترام نظریاتی افراد سے ناراض ہوکر ان سے دور ہوگئے جس کا بعد میں نتیجہ خود بھٹو اور ان کی پارٹی کے لئے بہت برا ثابت ہوا۔ ماضی کی اس نظریاتی پارٹی کو زرداری نے اپنے مبینہ کرپشن کے ذریعہ دفن کردیاہے اور پارٹی صرف  سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ کھوکھلے نعروں اور جذباتی تقریروں سے اس کو زندہ رکھا جارہا ہے تاکہ سندھ میں ان کی اجارہ داری قائم رہے۔ دھونس اور دھمکی کے ذریعہ قومی وسائل لوٹ کر اپنے بینکوں میں جمع کراتے رہے ہیں‘ جہاں تلک غریب عوام کا تعلق ہے ان کی سندھ کے سیاست دانوں اور وڈیروں کی نظر میں بھیڑ بکریوں سے زیادہ وقعت نہیں ہے۔ یہ سندھ اور سندھ کے عوام کا بہت بڑا المیہ ہے۔ اس ضمن میں ایک سندھی دانشور نے صحیح کہا ہے کہ سندھیوں کا سندھ کے سندھی سیاست دانوں نے زبردست استحصال کیاہے اور انہیں غربت وافلاس کے اندھیرے میں دھکیلا ہے۔
 گذشتہ دس سالوں کے دوران پی پی پی کی حکومت نے ان کے لئے نہ تو کسی قسم کے روزگار کا انتظام کیا ہے اور نہ ہی ان کے لئے کسی قسم کے معاشی وسماجی تحفظ کے لئے کوئی با معنی اقدامات اٹھائے ہیں۔ سندھ کے گائوں اور گوٹھوں میں جا بجا مفلسی کے سائے منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امیداور تبدیلی کی تمام خواہشات طاقتور بے رحم عناصر کے سامنے دم توڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ نوجوان بلاول زرداری کو چاہئے کہ وہ اپنے والد زرداری کے مبینہ کرپشن کو بچانے کی بجائے پی پی پی کو دوبارہ ایک عوام دوست پارٹی بنانے کی کوشش کرے بلکہ اسکو سندھ سے نکال کر ایک وفاقی پارٹی بنانے میں اپنی توانیاں صرف کرے  تاکہ ان کے نانا بھٹو مرحوم اور ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کی روحیں خوش ہوسکیں۔ ویسے بھی کرپشن کے ذریعہ سندھ حکومت زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتی ہے‘ پاکستان خصوصیت کے ساتھ سندھ کا باشعور طبقہ زرداری خاندان اور ان کے دوستوں کے کرتوتوں سے  بخوبی واقف ہوچکاہے۔  وہ سندھ کے عوام میں غربت کے بتدریج خاتمہ کے ساتھ خوشحالی کو عملی طورپر دیکھنا چاہتاہے،  یہی وجہ ہے کہ سندھ کے با شعور اور ترقی پسند افراد ایک جگہ جمع ہوکر سندھ میں استحصال قوتوں کے خاتمے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔
 اگر چین انقلابی رہنمامائو کی قیادت میں ماضی کے خراب ترین سماجی و سیاسی حالات کو عوام کی طاقت ، اتحاد اور حمایت سے بدل کر دنیا کی دوسری بڑی اکانومی بن سکتاہے تو پاکستان کیوں نہیں ؟ تاہم اسکے لئے منظم تحریک کے ساتھ قربانیاں بھی دینا لازمی  ہوتی ہیں۔ تب جاکر ترقی اور خوشحالی کی سحر نمودار ہوتی ہے‘ کھوکھلے اور جذباتی نعروں کے ذریعہ نہ تو جمہوریت مستحکم ہوتی ہے اور نہ ہی سیاسی وسماجی تبدیلیاں رونما پذیر ہوسکتی ہیں، باالفاظ دیگر سماج جمود کا شکار رہتاہے، بلاول زرداری اور ان کے والد محترم سندھ کے موجودہ استحصالی سماج کو نہ تو بدلنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان کے ذہنوں میں اس کاکوئی تصورہے، میں نہیں سمجھتا  کہ سندھ کے عوام کرپٹ عناصر کی حمایت میں سڑکوں پر آئیں گے، یہ عناصر آزمائے جاچکے ہیں ۔ آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا خطااست ۔

 

تازہ ترین خبریں