06:48 am
عوام کے ووٹوں سے لے کر نوٹوں تک!

عوام کے ووٹوں سے لے کر نوٹوں تک!

06:48 am

جہازوں کے کرایوں میں  چنگا بھلا اضافہ کرنے کے بعد ماشاء اللہ ریلوے کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا‘ ایسا ہوتا ہے انصاف؟ کئی قارئین نے ریلوے اور فضائی کرایوں میں اضافے کے بعد اس خاکسار کو حکومت ک
جہازوں کے کرایوں میں  چنگا بھلا اضافہ کرنے کے بعد ماشاء اللہ ریلوے کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا‘ ایسا ہوتا ہے انصاف؟ کئی قارئین نے ریلوے اور فضائی کرایوں میں اضافے کے بعد اس خاکسار کو حکومت کے خلاف شکوہ بھرے فون کئے تو اس خاکسار نے انہیں سمجھانے کی کوشس کی کہ اللہ کے بندو! تم ہمیشہ حکومتوں کی مذمت ہی کرتے رہتے ہو‘ اب کم از کم اس انصاف پر تو خوش ہو جائو۔ جس کو دیکھو وہ مہنگائی کا رونا روتا ہوا نظر آرہا ہے...کون سی مہنگائی؟ کہاں پر ہے مہنگائی؟ اگر اب مہنگائی ہے تو کیا پرویز مشرف‘ زرداری اور شریفوں کے دور میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں؟ ارے بھائی حکومتوں کو عوام تو منتخب ہی اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ایوان اقتدار میں پہنچ کر عوام سے پیسہ نکلوانے کا بندوبست کریں‘ یعنی عوام کے ووٹوں سے عوام کی جیبوں پر مناسب انداز میں ڈاکہ مارنا ہی جمہوریت کا حسن ہے۔
پرانے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ ’’عوام  طاقت کا سرچشمہ ہیں‘‘ اب چونکہ لبرل دور ہے اس لئے اس فرمائے ہوئے کو کون مسترد کر سکتا ہے کہ ’’عوام نوٹوں کا سرچشمہ ہیں‘‘  اگر قومی خزانہ خالی ہو اور عوام کی جیبیں نوٹوں سے بھری ہوئی ہوں تو پھر کیا عوام نے ان نوٹوں کا اچار ڈالنا ہے؟
شاباش عمران خان ! خالی کرائو ان جیبوں کو‘ عوام کے ووٹوں سے لے کر نوٹوں تک رسائی حکومت  کا حق ہے۔کپتان نے ایک زیادتی کر دی کہ اسے سندھ کا گورنر بنا کر مصروف کر دیا، وگرنہ آج اگر وہ لہک‘ لہک کر یہ گا  تاکہ
روک سکو تو روک  لو
مہنگائی آئی رے
 بنی گالہ میں تین سو کنال پر قائم چھوٹے سے جھونپڑے کی  قسم! عوام کے دل ٹھنڈے ہو جاتے‘ کل میں نے  راولپنڈی کے میڈیکل سٹور پر ایک برقع پوش  خاتون کو روتے ہوئے دیکھا تو کائونٹر پر کھڑے نوجوان سے پوچھا کہ خاتون کیوں رو رہی ہے؟ اس نے کہا سر! یہ بے آسرا خاتون چار بیٹیوں اور تین بیٹوں کی ماں ہے‘ بیٹیاں بڑی ہیں جبکہ بیٹے ابھی چھوٹے ہیں اس کے خاوند کا ایک سال پہلے ایکسیڈنٹ ہوا تو دونوں ٹانگیں کٹ گئیں‘ تب سے وہ بستر پر پڑا ہوا ہے...خاتون نے اپنا زیور بیچ کر اپنے خاوند کا علاج کروانے کی کوشش کی‘ مگر آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس قسم کیسیریس مریض کے علاج کے لئے پاکستان میں قارون خزانہ بھی ناکافی ثابت ہوتا ہے‘ آج یہ نسخہ لے کر آئی...نسخے کے مطابق ادویات کی قیمتیں دوگنی ہوچکی ہیں‘ ہم فری دے نہیں سکتے اور اس میں قیمت ادا کرنے کی سکت نہیں ہے‘ بس اسی بے چارگی میں خاتون روتے ہوئے چلی گئی... میں نے پوچھا یہ نسخہ کل کتنی مالیت کا تھا؟ اس نے جواب دیا پہلے 3ہزار کا تھا مگر اب 15دن کی دوائی پر مشتمل یہی نسخہ ساڑھے 5ہزار کا ہوچکا ہے‘ اس خاکسار نے اپنے ایک دوست کو فون کرکے واقعہ سنایا‘ اللہ اسے جزائے خیر دے کہ اس نے میڈیکل سٹور والے کوکہا کہ آئندہ جب بھی وہ خاتون دوائی لینے آئے آپ نے نسخے کے مطابق دوائی دے کر بل اسے واٹس ایپ پر بھیج دینا ہے‘ وہ دوائی کا بل  میڈیکل سٹور کے مالک کے اکائونٹ میں ٹرانسفر کر دیا کرے گا‘ اور پھر ٹائیں‘ ٹائیں فش‘ یہ واقعہ لکھنے کا مقصد یہ ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ پاکستان میں اب بھی ایسے مال دار لوگ بستے ہیں کہ جو دوسروں کی ادویات کے ہزاروں روپے کے بل ادا کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں‘ میں اپنے اس مخیر دوست کا نام اس لئے نہیں لکھنا چاہتا کہ کہیں نیب یا ایف بی آر والے اس کے پاس ہی نہ پہنچ جائیں اور پھر طلب کرنے لگ جائیں اپنا‘ اپنا حصہ؟
 مریض تو ہر گھر میں کوئی ایک آدھ  ہوتا ہی ہے اور ادویات بھی سب کے لئے ہی مہنگی ہوئی ہیں‘  ایک دل جلا دوست ‘منہ سے دھواں چھوڑتے ہوئے بتا رہا تھا کہ یار حکومت نے سگریٹ بھی بہت مہنگے کر دئیے ہیں‘ میں نے کہا بھائی منہ بند کرو یہ ’’انصاف پسندوں‘‘ کی حکومت ہے…یہ جو بھی کرے گی وہ سستا ہی ہوگا‘ اس نے میری بات سن کر اس طرح حیرت سے مجھے گھورا کہ جیسے میرا دماغ چل گیا ہو؟
ادارہ برائے شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق پانچ اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پٹرول‘ ہائی اسپیڈ ڈیزل‘ مٹی کا تیل‘ ٹماٹر‘ ایل پی جی‘ زندہ مرغی‘ دال مسور‘ چنے کی دال‘ لہسن‘ چینی‘ گڑ‘ کیلے‘ خوردنی تیل‘ مٹن‘ ملک پائوڈر‘ تازہ دودھ‘ دہی‘ نمک‘ چاول‘ ویجی ٹیبل‘ گھی‘ سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اس ’’اضافے‘‘ سے مراد ’’سستاپا‘‘ لیا جائے‘ ایک اور دل جلے کی دل جلی رپورٹ پڑھ لیں اور پھر فیصلہ کریں کہ آخر پاکستان میں ہر چیز ’’سستی‘‘ کیوں ہے؟
ساری دنیا میں مہنگائی ہوتی ہے‘ لیکن ہمارے حکمرانوں کو عوام کا اتنا  درد ہے کہ وہ چیزیں ’’سستی‘‘ کر دیتے ہیں جیسا کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ رپورٹ  کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار مہنگائی کی شرح10فیصد تک پہنچ گئی‘ افغانستان میں مہنگائی چار فیصد‘ چین میں 1.7فیصد‘ بھارت میں 2.57فیصد‘ بنگلہ دیش میں 5.47فیصد‘ سری لنکا میں 4.3فیصد ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں چار سو فیصد اضافے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے‘ تحریک انصاف کی حکومت کی مسلسل معاشی ناکامی کی وجہ سے کاروبار تباہ‘ انڈسٹری آئی سی یو میں پہنچ چکی ہے اور رئیل اسٹیٹ کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ ڈالر حکومت کے کنٹرول میں نہیں آرہا‘ رپورٹ کے مطابق ہمارا ٹوٹل بجٹ5932ارب  روپے ہے لیکن حکومت نے آٹھ ماہ میں 3400ارب روپے قرض لے لیا ہے‘ حکومت روزانہ 115ارب روپے قرض لے رہی ہے۔
ٹیکسوں کے ریونیو میں بھی 236ارب روپے کا شارٹ فال ہے بجلی کی قیمت میں اوسطاً ایک روپیہ 27پیسے فی یونٹ ‘ گیس میں 1.43فیصد اور پٹرول کی قیمت میں 11فیصد اضافہ ہوگیا ہے‘ صرف اسٹاک ایکسچینج میں دس دن میں چھ کھرب روپے ڈوب گئے‘ ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کے تازہ بیانات نے بھی خطرات کی گھنٹی بجا دی ہے‘ یہ ساری رپورٹیں پڑھنے کے بعد عوام سے گزارش ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں ایک منٹ کھڑے ہو کر کورس کے انداز میں یہ ضرور گائیں کہ
روک سکو تو روک لو
تبدیلی آئی رے