06:48 am
دفاعی نہیں، جارحانہ اندازکی ضرورت ہے

دفاعی نہیں، جارحانہ اندازکی ضرورت ہے

06:48 am

دارلحکومت کے اہم ذرائع کاکہناہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی جنگی مہم جوئی محض مودی کی انتخابی مہم کاحصہ نہیں بلکہ اس کی آڑمیں جنگی مہم جوئی کاحصہ ہے
دارلحکومت کے اہم ذرائع کاکہناہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی جنگی مہم جوئی محض مودی کی انتخابی مہم کاحصہ نہیں بلکہ اس کی آڑمیں جنگی مہم جوئی کاحصہ ہے۔دراصل بھارتی جارحیت جہاں مقبوضہ کشمیرکی ناقابل کنٹرول صورتحال سے دنیاکی توجہ ہٹانے کی کوشش تھی وہاں سی پیک کے خلاف بھارت کے قومی ایجنڈے سے منسلک ہے ۔مودی نے بڑی چالاکی سے اپنی انتخابی مہم اس ایجنڈے سے جوڑدیاہے جس سے بادی النظرمیں توایسے محسوس ہوتاہے کہ مودی الیکشن مہم کی حدتک جارحانہ کاروائی کاکریڈت لیناچاہتاہے لیکن درحقیقت یہ سی پیک کے خلاف اس کاقومی ایجنڈہ ہے لہندایہ دباؤ الیکشن کے بعدبھی جاری رہے گا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس میں کچھ وقت کیلئے عارضی تعطل آجائے البتہ دوبارہ اقتدارمیں آنے کے بعدمودی اس ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھائے گا۔سی پیک دراصل بھارت  کے سیاسی اورمعاشی پھیلاؤ کوسکیڑنے والامنصوبہ ہے جسے بھارت اپنی بقاء کیلئے انتہائی خطرناک تصورکرتاہے،اسی لئے وہ مسلسل اسے ٹارگٹ کررہاہے۔پاکستان سی پیک کاپارٹنرہے اور بھارت کاحریف ملک بھی،اسی لئے بھارت پاکستان کونشانے پررکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی سفارتی حکم نے اب تک بھارتی جارحیت کوکشمیرسے جوڑرکھاہے جبکہ اسے سی پیک سے بھی جوڑنے کی اشدضرورت ہے۔کشمیرکے ایشوپردنیاکووقتی تشویش ضرور ہوئی  ہے  اورمودی کی اس احمقانہ حرکت سے یقیناً کشمیرایک ایٹمی فلیش پوائنٹ بن کر ضرور ابھرا ہے لیکن قصرسفیدکے فرعون اوراسرائیل کے زیراثرمیڈیانے اسے مستقل خطرہ بنانے سے گریز کیا جس میں ہماری ناتجرہ کارسفارتی ٹیم کابھی قصور ہے جس کی وجہ سے کشمیرکوایک پرانا ایشوسمجھ کربیشترملکوں نے فی الحال اسے نظر انداز کر رکھاہے۔اکثرممالک کشمیرکوپاک بھارت کاا ندرونی مسئلہ سمجھتے ہیں کیونکہ فاسق کمانڈو پرویزمشرف دورسے ہماری حکومتوں نے کشمیر کو ’’بیک برنر‘‘پررکھ دیاتھااوراس کی ملکیت سے دستبرداری اختیارکرلی تھی جس کافائدہ بھارت کوہوااوروہ تنہااس ایشوکامالک بن گیا۔اگرچہ اب تحریک آزادی کشمیرنے اپنی قربانیوں سے ایک نئی آب وتاب سے اپناروشن سفر شروع کیاہے لیکن کمزورسفارت کاری اوراندرونی چپقلش نے اس مسئلے کووہ توانائی فراہم نہیں کی جس کی اسے ضرورت تھی۔
دوسری بات یہ ہے کہ کشمیرایشوپر ہمیشہ ہم دفاعی پوزیشن پررہے ہیں ،بھارت الزامات لگاتاہے توصفائیاں دیتے رہتے ہیں جس میںبھارتی درندہ صفت فوجیوں کی جانب  سے  کشمیرمیں جاری ظلم وستم کے خلاف ہماری جارحانہ سفارتی کاروائی کہیں نظرنہیں آتی جس کی اس وقت اشدضرورت ہے۔بھارتی مکاربنیاء کشمیری تحریک کوبنیادبناکر ہمیں دہشت گردوں کاسرپرست باورکرتاہے اورہم ڈرکرجماعت الدعوۃ اوردیگرتنظیموں پر پابندیاں  عائدکردیتے ہیں جس سے عالمی سطح پر ہمارا امیج خراب ہوجاتاہے جبکہ حال ہی میں بھارتی عدالتوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کے ان تمام مجرمان کوبری کردیاہے جنہوں نے باقاعدہ اس ہولناک جرم کااعتراف کیاتھاجس میں بھارتی فوج کا حاضر سروس کرنل پروہت بھی شامل ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ بھارتی جارحیت کوکشمیرکے ساتھ ساتھ سی پیک سے بھی جوڑاجائے  اوراسی ھوالے سے دنیاکواپنامقدمہ سمجھایاجائے۔
اس وقت سی پیک سے منسلک ’’ون روڈون بیلٹ‘‘سے ساٹھ سے زائدممالک وابستہ ہوگئے ہیں ،ایک جگہ چوٹ پڑے گی توسب کے معاشی مفادپرضرب پڑے گی لہٰذا یہ ساٹھ ممالک ہرقیمت پراپنامعاشی مفادبرقراررکھنے کی کوشش کریں گے اورسی پیک کے حوالے سے یہ تمام ممالک ہمارے مؤقف کی بھرپورحمائت کریں گے،ہماری بات سنیں گے اورمانیں گے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارتی جارحیت نے شدت اختیارکی تولازماًسی پیک کے منصوبے زدمیں آئیں گے۔فارن آفس اوردیگر اداروں کوفوری طورپراس پرغور کرکے حالات کانئے سرے سے تجزیہ کرناچاہئے ۔جس طرح مودی نے سی پیک کے خلاف اپنے نیشنل ایجنڈے سے اپنی انتخابی مہم کوجوڑلیاہے ،اسی طرح سی پیک کے بچاؤ کے نیشنل ایجنڈے سے ہم خودکوجوڑلیں اوراسے نیشنل کی بجائے اسے انٹرنیشنل بنادیں ،اسی میں ہماری کامیابی ہے کیونکہ اس ایجنڈے کوآگے بڑھانے سے بھارت دفاعی پوزیشن میں آجائے گااورہم جارحانہ پوزیشن پرکھڑے ہوں گے۔
دوطیارے گرنے سے بھارت کی جوسبکی ہوئی ہے ،اس نے صرف اندرونی طورپربھارت کونقصان نہیں پہنچایابلکہ عالمی طورپربڑارسواکیاہے ۔امریکانے بھارت کوتھپکی اس لئے دی تھی کہ وہ اسے چین کے مقابل کھڑاکرناچاہتاتھا تاکہ بھارت چین کوانگیج رکھے اورچین امریکاکی برابری کی کوششیں ترک کردے  لیکن اس ایک جھڑپ نے امریکاسمیت ان تمام سرپرست ممالک کوواضح پیغام مل گیاہے کہ وہ جس پربھروسہ کرکے اس کی مددکرتے تھے ،وہ پاکستان کے ایک ہی جوابی حملے سے اب وہ خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزکررہ گیاہے ،چین کے آگے کیا کھڑا ہوگا؟اس تاثرنے نہ صرف عالمی سیاست میں بھارتی رول  کے ممکنہ اضافے پرسوالیہ نشان لگادیاہے بلکہ سارک اورمشرقِ وسطیٰ میں بھی اس کی طاقت کے فسانے کوہوامیں تحلیل کردیاہے۔بھارت ان ملکوں کواپنافوجی سازو سامان  فروخت کرنے کا خواہشمند تھااوراپنی فوجی خدمات بھی معقول معاوضے پردینے کی کوشش کر رہا تھاتاہم اب ایسا ہونامشکل ہوتانظرآرہاہے۔ ایسی بے شمار کھڑکیاں  ہیں جن کی بندش رفتہ رفتہ بھارت پر واضح  ہوگی ۔اسی لئے اہم ذرائع کا کہناہے کہ بھارت ہرحال میں اپنی ساکھ بحال کرنا چاہے گااورپاکستان پروارکرکے کوئی ایسا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گاجس کاپروپیگنڈہ جنگی بنیادوں پرکرسکے۔
کرکٹ کے نشے میں غرق قوم کویہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اورحالیہ رسوائی نے اسرائیل اورامریکہ کوبھی شدیدزخمی کردیاہے کہ اس کاگھوڑا پہلی ہی دوڑمیں مارکھاکرمنہ کے بل گرکرخاک چاٹ رہاہے۔اگرچہ جنگی نقصان زیادہ نہیں ہوالیکن سیاسی،سفارتی اورتاثراتی امیج بہت زیادہ تباہ ہوگیاہے۔جنگ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ،آزادعالمی میڈیاکاکہناتھاکہ یہ اتنااہم ہے کہ اسے محض چندسرپھرے اورنالائق بھارتی جرنیلوں پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔اسی طرح لارڈماؤنٹ بیٹن کاکہناتھاکہ جنگ لڑناجتناآسان ہے ،اس کے مقاصدحاصل کرنااتناہی مشکل اورپیچیدہ ہے۔اس لے بھارتی جارحیت سے نمٹنے کیلئے قومی سطح پرایک مشاورتی ادارہ بنانے کی ضروت ہے جس میں پارلیمنٹ،فوج، عدلیہ،سیاسی جماعتوں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی کے اہم افرادکی نمائندگی ہو۔اس کی رکنیت کامعیار صرف اہلیت ہواوراس میں حاضروریٹائرڈسروس دونوں طرح کے دانشورہوسکتے ہیں۔یہ ایک مکمل مشاورتی ادارہ ہو جو ہنگامی صورتحال میں مشاورت فراہم کرے،عوام کوجوڑکررکھے،حکومتی اداروں اور عوام کے درمیان پل کاکرداراداکرے تاکہ حالت جنگ نازل ہونے پرعوام میںگھبراہٹ اورخوف نہ پھیلے۔گویایہ ادارہ نہ صرف عوام کوبدترحالات کیلئے تیارکرے بلکہ حکومت اورفوج کوبروقت مفیدقابل عمل مشورے بھی دے۔یہ کوئی فیصلہ سازادارہ تونہیں ہوگا لیکن زمانہ امن اورجنگ میں قوم اورملک کومفیدآراء سے رہنمائی میں مددکرے۔  

 

تازہ ترین خبریں