07:57 am
امام کعبہ شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی کا دورہ پاکستان

امام کعبہ شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی کا دورہ پاکستان

07:57 am

امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی ان دنوں پاکستان کے دورے پر تشریف لائے ہوئے ہیں‘ ہمارا قبلہ و کعبہ چونکہ مکہ مکرمہ میں ہے ہم نمازیں بھی کعبہ شریف کی  طرف منہ کرکے پڑھتے ہیں...ہرمسلمان کوشش کرتا ہے کہ جب اسے نیند آئے  تو اس کا چہرہ کعبہ شریف کی طرف ہی ہو‘ یہاں تک کہ مرنے کے بعد جب مردے کو قبر کی لحد میں اتارا جاتا ہے تو اس کا چہرہ بھی قبلہ شریف کی طرف ہی کیا جاتا ہے...غرضیکہ اعمال میں مسلمان جتنے چاہیں کمزور ہوں مگر قبلہ و کعبہ سے محبت اور پیار ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن بن کر دھڑکتا ہے‘ مجھے کئی ایسے سیکولر اور لبرلز کے جنازوں اور تدفین میں شرکت کا موقع ملا کہ جو جب تک زندہ رہے تو نہ صرف یہ کہ مسجد‘ مدرسہ‘ دینی اقدار و احکامات کی شدید مخالفت کرتے رہے‘ بلکہ ان میں  سے کئی ایک ایسے بھی تھے جن کا مرتے دم تک قبلہ و کعبہ نعوذ باللہ واشنگٹن رہا‘ مگر مرنے کے بعد جب ان کی میت کو لحد میں اتارا گیا تو قبر کنارے کھڑے ان کے دوستوں نے بہتی آنکھوں کے ساتھ کہا کہ مرحوم کا چہرہ کعبہ شریف کی طرف موڑ دیا جائے...مطلب یہ کہ جو لبرل اور سیکولر ڈگڈی بجانے کا دھندہ کرتے ہیں تمام تر فکری آلودگیوں کے  باوجود دل ان کے بھی کعبہ کی عظمت و رفعت کو تسلیم کرتے ہیں‘ یہ دوسری بات ہے کہ کسی کو مرنے سے پہلے اس کا احساس ہو جاتا ہے اور کسی کا چہرہ مرنے کے بعد اس کے لواحقین بیت اللہ شریف کی طرف موڑ کر دل کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
یہ تمہید میں  نے اس لئے باندھی تاکہ قارئین سمجھ سکیں کہ قبلہ و کعبہ سے پیار ہمارے ایمان کا حصہ ہے‘ کعبہ کی عظمت  تسلیم کرنا‘ کعبہ شریف کی عظمت بیان کرنا‘ کعبہ کی رفعت کے گن گانا اس سے نہ صرف دلوں کو حوصلہ ملتا ہے‘ بلکہ ایمان بھی تازہ ہوتا ہے‘ اس تناظر میں  دیکھا جائے تو امام کعبہ صرف حکومت کے ہی نہیں بلکہ ہر پاکستان کے لئے انتہائی خاص مہمان کی حیثیت رکھتے ہیں‘ صرف  ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی ہی نہیں‘ کعبہ شریف کے جو امام صاحب جب بھی پاکستان کے دورے پر تشریف لائے...پاکستانیوں نے ان پہ محبتیں لٹانے کا حق ادا کرنے کی پوری پوری کوشش ضرور کی‘ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجنہی نے اسلام آباد میں مختلف تقریبات سے خطاب کیا‘ اس مرتبہ بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر نبفس نفیس تو ان خوبصورت تقریبات میں شرکت نہ کر سکا۔ لیکن امام کعبہ حفظہ اللہ کے بیانات کی بازگشت مجھ تک ضرور پہنچی‘ امام کعبہ ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی  فرماتے ہیں کہ ’’پاکستان اور سعودی عرب توحید کی بنیاد پر قائم ہوئے‘ مسلمانوں کو اتحاد کی سخت ضرورت ہے‘ مسلمان تقویٰ اختیار کریں۔
اسلام بھائی چارے کا نام ہے‘ نوجوان اسلامی دنیا کا مستقبل ہیں‘ اور ایک ایسی قوت ہیں کہ جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں‘ اس لئے نوجوانوں کے لئے  نعمت ہے کہ وہ ایسے عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں جو انہیں گمراہی کی طرف لے جائیں۔ امام کعبہ کہتے ہیں کہ دنیا کے دُھوں کا علاج بھی یہی ہے کہ دین مبین کی تعلیمات کی روشنی میں معاشرے کو جنت کا نمونہ بنا دیا جائے‘ حضور نبی کریمﷺ کی دعوت پوری نوع انسانی کے لئے خیر و برکت کا ذریعہ ہے اور نوجوان اس دعوتی سلسلے کی سب سے اہم کڑی ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ نے نوجوانوں کی تربیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی‘ امام کعبہ نے علماء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ  حق اور سچ پر مبنی فتویٰ دیں کیونکہ علماء کا کام اللہ کے بندوں کو آپس میں جوڑنا ہے‘ علماء نے صبر ویقین سے امت کی رہنمائی کرنی ہے‘ علماء  نے ہر دور میں علم پہنچایا۔‘‘
امام کعبہ شیخ عبداللہ بن عواد الجہنی  کے خطابات تو بہت تفصیلی ہوئے لیکن اس خاکسار نے برکت کے لئے مختصراً ان خطابات کی بعض جھلیکوں کو اپنے کالم کی زینت اس لئے بنایا تاکہ قارئین بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں‘ یقین کیجئے انہوں نے نوجوانوں اور علماء کے حوالے سے جو بصیرت افروز گفتگو کی اسے اگر مشعل راہ بنا لیا جائے تو پاکستان میں مثبت انقلاب پیدا ہو جائے۔
یاد رہے کہ طاغوتی طاقتوں نے بھی اصل ٹارگٹ مسلمان نوجوانوں کو کر رکھا ہے اور وہ این جی اوز کے ذریعے تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کرکے مسلم نوجوانوں کو گمراہی کے راستے پر ڈالنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔
کاش کہ پاکستانی اور سعودی میڈیا بھی امام کعبہ کی اس بات کی اہمیت کو سمجھ لیں کہ پاکستان اور سعودی عرب توحید کی بنیاد پر قائم ہوئے‘ زمینی خدائوں کی نفی کرکے معبود حقیقی کے سامنے سربسجود ہونے کا نام توحید ہے اور علماء امت نے اس کی طرف امت مسلمہ کی رہنمائی کرنی ہے۔
مساجد کے منبر ومحراب سے گو کہ توحید کی صدائیں انفرادی طور پر گونجتی بھی رہتی ہیں‘ لیکن بدقسمتی سے چونکہ میڈیا کی ترجیحات میں اول و آخر پیسہ‘ پیسہ اور پیسہ کمانا ہی شامل ہے... اس لئے مروجہ میڈیا  حقیقی علماء امت سے بھی دور دور ہی رہتا ہے‘ کاش کہ ہم سب بحیثیت مسلمان توحید و سنت کے فلسفے کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر خود بھی عمل کرنے والے بن جائیں تو ہر طرف امن و سکون کی صدائیں چلنا شروع ہو جائیں‘ امت مسلمہ کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس تو بیت اللہ کی دولت موجود ہے اور اس گئے گزرے دور میں بھی ’’امام کعبہ‘‘ سیاست دانوں ‘ نوجوانوں‘ علماء غرضیکہ  زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا کنکشن ’’رب کعبہ‘‘ سے جوڑنے کی جستجو میں  ہیں۔(فاللہ الحمد)

تازہ ترین خبریں