07:55 am
طلاق و خلع کی شرح میں مسلسل اضافے پر ایک اہم سیمینار

طلاق و خلع کی شرح میں مسلسل اضافے پر ایک اہم سیمینار

07:55 am

22اپریل 2019 ء کو فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی راولپنڈی میں منعقدہ ایک اہم سیمینار کی رپورٹ مولانا حافظ سید علی محی الدین کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں۔


گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے معاشرتی مسائل میں جو مسئلہ نہایت شدت اور تیزی سے سر اٹھا کر ہمارے خاندانی نظام کو شدید طور پر عدم استحکام، بے سکونی، لاینحل مسائل کی جانب مسلسل بڑھا رہا ہے وہ طلاق و خلع کی رفتار میں نہایت تیزی سے مسلسل اضافہ ہے۔ نکاح و شادی کے بعد کچھ ہی عرصہ نہیں گزرتا کہ دوریاں، ناچاقیاں، مسائل، غلط فہمیاں اور بدگمانیاں سر اٹھانے لگتی ہیں اور ایک دوسرے سے استطاعت سے بڑھ تقاضے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور پھر جذباتیت، جلد بازی  اور تربیت کے فقدان کی بنا پر انجام کار کے طور پر نوبت ترک تعلقات، ناراضگیوں اور بالآخر طلاق یا خلع تک پہنچ جاتی ہے۔ اس نازک اور سنگین صورتحال کے اسباب و وجوہات کا تعین اور ان کی اصلاح اور بہتری کی راہیں تلاش کرنا اور اس سے جڑی کچھ مزید چیزوں  میں کسی نہ کسی لحاظ سے کردار علما ء کرام، دونوں خاندانوں، فریقین اور اگر عدالتی معاملہ بن جائے تو قانون، وکلا اور عدالتوں کا بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ کردار اس لحاظ سے ہوتا ہے کہ خاندان کو وجود میں لانے والا یہ بنیادی رشتہ اور معاملہ یوں ہی دا پر لگا رہنے دیا جائے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فیملی مسائل و مشکلات سے نظریں چرا لی جائیں یا اس میں بہتری کی گنجائش تلاش کر کے، جس خلا سے یہ خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، اس کی نشاندہی کر کے اس کو ایک حد میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔
مولانا زاہد الراشدی اور ان جیسی چند دیگر مخلص اور درد دل رکھنے والی شخصیات کی یہ پختہ فکری سوچ ہے کہ ان معاشرتی مسائل پر صرف تقاریر اور خوبصورت انشاپردازی کے ذریعے غم و غصے یا نفرت کا اظہار کافی نہیں ہے بلکہ اس معاملے میں اور اس سے ملتے جلتے دیگر مسائل میں جب تک متعلقہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر ان مسائل و مشکلات کا کوئی مشترکہ عملی حل تلاش کر کے اس جانب پیشرفت نہیں کریں گے تب تک یہ تباہ کن مسائل ہماری سوسائٹی کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ اور اگر انہیں مسلسل نظر انداز کرنے کا موجودہ رویہ اور طرز عمل ہی برقرار رہے گا تو ہماری سوسائٹی کے تمام امتیازی خصائص رفتہ رفتہ تحلیل ہو کر کتاب و اوراق ہی کا موضوع بن جائیں گی۔  
انہیں مخلص شخصیات کی مسلسل توجہ دلانے کے نتیجے میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی لیگل کمیٹی نے علما کرام، ماہرین قانون، وکلا و ججز اور ویمن یونیورسٹی کی اساتذہ و طالبات کے لیے ایک نہایت موقر اور سنجیدہ سیمینار کا اہتمام فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی  کے آڈیٹوریم ہال میں کیا، جو اس نوعیت کا پہلا ٹھوس اور عملی سیمینار نظر آیا کہ جس میں بہترین مقام اور محل وقوع پر معاملے کے اصل فریقوں کو اکٹھا کر کے ایک دوسرے کا موقف سننے، سمجھنے اور مسئلے کا حل پیش کرنے کی جانب پیشرفت کا آغاز کیا گیا۔ ہائیکورٹ بار کی لیگل کمیٹی کی چیئرپرسن محترمہ سیدہ عظمیٰ گیلانی ایڈووکیٹ تمام انتظامات کی نگرانی کر رہی تھیں۔ جبکہ مولانا زاہد الراشدی  کی قیادت میں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، قاری عبید اللہ عامر اور قاری محمد عثمان رمضان پر مشتمل وفد لاہور سے آیا جن کے ساتھ یہاں اسلام آباد سے مولانا محمد ثنا اللہ غالب اور راقم الحروف شامل ہوئے اور یونیورسٹی کے مین ہال میں پہنچے۔ فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی بقول منتظمین کے خواتین کی پہلی یونیورسٹی تھی جو صرف طالبات کی اعلی تعلیم کے لیے قائم ہوئی اور ہماری یہاں حاضری بھی پہلی مرتبہ ایسے وقت میں ہوئی کہ جب چھٹی کا وقت تھا اور طالبات بھی حیران تھیں کہ وہاں کے ماحول کے برعکس علما حضرات کیسے پہنچ گئے ہیں۔
مرکزی ہال میں پہنچے تو پہلے سیشن کی کاروائی  ڈاکٹر قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی زیرصدارت خاتمے کے قریب تھی اور سیمینار کا عمومی ماحول سنجیدہ، پر وقار اور سیکھنے سکھانے پر مشتمل معلوم ہوا۔ نماز ظہر کا وقفہ کیا گیا اور مہمان شخصیات کی ضیافت پر تکلف کھانوں سے کی گئی اور دو بجے آخری نشست کا آغاز ہوا جو مولانا زاہد الراشدی  کی زیر صدارت رہی۔ اس آخری نشست میں لا سیکرٹری  بیرسٹر ظفر اللہ، ویمن یونیورسٹی کی متعدد خواتین اساتذہ، نوجوان وکلا اور علما کرام میں سے مولانا محمد ثنا اللہ غالب  اور راقم الحروف نے بھی اظہار خیال کیا۔ ان تمام شخصیات کی گفتگو میں ایک درد دل، مسئلے کی حساسیت کا شدید احساس اور اس کے اسباب و وجوہات کی تعیین شامل تھیں جس سے اس کا اظہار ہوتا تھا کہ ہمارے جدید تعلیم کے ان اداروں میں بھی ان چیزوں پر گہری سوچ رکھنے والی خواتین اساتذہ موجود ہیں۔
اس نشست میں کلیدی خطاب مولانا زاہد الراشدی  کا تھا جس میں انہوں نے اس معاملہ  سمیت سوسائٹی کے تمام مسائل و مشکلات کا حل مل جل کر افہام و تفہیم کے ماحول ہی کے ذریعے ممکن بتایا، اور فرمایا کہ ہمارے بیشتر قانونی مسائل صرف اس وجہ سے پیدا ہوئے اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ علما کرام، قانون ساز اداروں، کمیٹیوں اور اس سے منسلک وکلا اور ججز کے درمیان ایک خلیج حائل ہے، جو بعض قوتوں کی خواہش بھی ہے، ہمیں اس کو ختم کرکے روابط کو مستحکم کرنا ہوگا۔ ان تمہیدی کلمات کے بعد انہوں نے سیمینار میں کلیدی کردار ادا کرنے والی خاتون شخصیت سیدہ عظمیٰ گیلانی ایڈوکیٹ کو، جو بار کی لیگل کمیٹی کی چیئرپرسن ہیں، اس کام کی پرزور تحسین کے ساتھ یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ اس محنت کی سرپرستی مسلسل جاری رکھیں گے۔   اور پھر متعلقہ موضوع پر نہایت شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی اور مشرق کے خاندانی نظام کے ادارے کو برقرار رکھنے، مضبوط کرنے اور اس میں داخل ہوجانے والی مشکلات و مسائل کا گہرا تجزیہ فرمایا اور فیملی قوانین اور مذہب سے وابستہ تمام قوانین و ضوابط پر بین الاقوامی دبا اور  معاہدات کو  بھی مسائل کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جس کی جانب توجہ کی ضرورت ہے۔
پروگرام کی تکمیل پر معزز مہمانان گرامی کا منتظمین کی جانب سے خاص طور پر محترمہ سیدہ عظمیٰ گیلانی ایڈوکیٹ کی جانب سے پرزور انداز میں شکریہ ادا کیا گیا اور ان میں شیلڈز کی تقسیم کے بعد فوٹو سیشن ہوا۔ مجموعی تاثر ہر ایک کا نہایت امید افزا رہا اور ہال میں موجود طالبات کی کثیر تعداد نہایت سنجیدگی، پر وقار انداز اور توجہ و دھیان سے خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتی ہوئی محسوس ہوئیں اور یہ نہایت حوصلہ افزا بات سامنے آئی کہ مذہب اور اہل مذہب کے خلاف شدید منفی پروپیگنڈے کے باوجود علم و تحقیق کی بنیاد پر ٹھوس بات اگر مرتب انداز میں سلیقہ مندی کے ساتھ  پیش کی جائے تو سننے والے لوگ ہر طبقے میں موجود ہیں، اور اہل دین اور تربیت کے عمل سے وابستہ افراد و شخصیات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ محض مفروضوں اور غیر حقیقی تاثرات کی بنا پر معاشرے کے ان تمام طبقات سے لاتعلقی اختیار کرکے اپنا دائرہ مختصر، محدود اور خود کو مقید نہ کریں بلکہ نہایت وسعت خیال کے ساتھ خود پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے سیکھنے اور سکھانے کے اس سفر کو جاری و ساری رکھیں۔

 

تازہ ترین خبریں