08:35 am
تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

08:35 am

  تحریک انصاف کی حکومت اور پاکستانی قوم آج اس دوراہے پر کھڑی ہے  جہاں’’نا جائے ماندن،نا پائے رفتن‘‘کی سی کیفیت ہے۔عمران خان کی  حکومت کو ہوا   کا خوشگوار جھونکا سمجھا جا رہا تھا،الیکشن میں انہوں نے  قوم کے ایسے طبقے کو باہر نکالا جن کو کبھی سیاست اور حکومت سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی،عمران  خا ن  کے    وزیر اعظم بننے کے بعد امید جاگی کہ اب کرپشن،رشوت ،اقرباء پروری، سفارش ، ڈنگ ٹپائو پالیسیوں  کا گرم بازار ٹھنڈا ہو گا اور ملک صحیح معنوں میں حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا،مہنگائی،بیروزگاری،بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ،امن قائم،انصاف عام ہو گا،قانو ن کی بالادستی ہو گی،سرکاری عمال عوام کے آقا نہیں خاد م ہونگے،عام شہری بلا خوف و خطر سر اٹھا کر جی سکے گا،مگر یہ ساری امیدیں اب قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں ،اگر چہ امید کا دیا اب بھی ٹمٹا رہا ہے مگر بقول  مصطفیٰ زیدی امیدوبیم ،دست و  بازوئے قاتل میں رہتے ہیں تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں
 
  تاہم یہ بھی ایک کھری حقیقت ہے کہ عمران خان کے چاہنے والوں کی امید کا چراغ اب بھی قاتل کے ہاتھ میں ہے،کوئی امید بر نہیں آتی کے مصداق عمران خان کے چاہنے والے آج بھی مشکل میں ہیں  اورستم یہ کہ بہتری کی کوئی    صورت بھی دکھائی نہیں دے رہی۔اگر چہ تحریک انصاف حکومت کو عشروں سے پڑا ہواء گند صاف کرنے کیلئے مناسب وقت ملا نہ ساز گار حالات،نہ ہی فرینڈلی اپوزیشن،لیکن تحریک  انصاف حکومت کے کارپردازان بھی معاملات کو درست ڈگر پر لانے کی کوئی سائینٹفک تھیوری نہیں اپنا سکے،حالانکہ ضروری تھا اپوزیشن کی تنقیدکو پس پشت ڈال کر حکومتی ذمہ داران اپنے مشن پر توجہ دیتے،ٹیکس چوری روکنے کی پالیسی وضع کر کے محصولات میں اضافہ کی کوئی صورت نکالی جاتی،مصنوعی مہنگائی کا سد باب کیا جاتا،لیز کی آڑ میں عرصہ دراز سے سرکاری زمینوں پر قابض  جاگیر داروں سے سرکاری اراضی واگزار کرائی جاتی،بینکوں کے قرضے ہڑپ کرنے یا معاف کرانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کر کے وصولی کی جاتی،سرکاری محکموں میں سرکار کے نام پر سرکاری فنڈز کا خورد بردروکا جاتا،مگر حکومت اس طرف توجہ دینے کے بجائے سابق حکومتوں کی تقلید میں گیس،بجلی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کر کے آمدن میں اضافے کا آسان حل تلاش کر نے پر لگ گئی۔
         سیانے کہتے ہیں مشورہ تب دیا جائے جب کوئی مانگے اور اسے دیا جائے جو مشورے کو مانے مگر راقم بھی اس ملک کا شہری ہے اس لئے ایک مفت مشورہ پیش خدمت ہے جس کے ذریعے سالانہ پانچ سو ارب روپے سے زائد کی بچت کی جا سکتی ہے،
مانو نہ مانو جان جہاں اختیار ہے 
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
  حکومت اگر صرف دوسال کیلئے ترقیاتی اخراجات کے غیر ترقیاتی فنڈز پر پابندی عائد کر دے تو حکومتی اخراجات چلانے کیلئے اسے گیس،بجلی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں غیر ضروری اضافہ کی ضرورت نہ پڑے،ایک عام شہری بھی اس صورتحال سے آگاہ ہے معلوم نہیں اسد عمر کی نگاہ سے یہ سب کیوں اوجھل ہے،ترقیاتی فنڈز میں سے تقریباً 50فیصد تو محکموں کے افسروں کی جیب میں چلا جاتا ہے،25فیصد ٹھیکیدار کا منافع باقی 25فیصد منصوبے کے حصے آتا ہے،سالانہ مرمت اور چھوٹی موٹی تعمیرات میں سے تو بعض اوقات 100فیصد ہی خوردبرد کر لیا جاتا ہے،خاص طور پر 25ہزار سے کم جتنے ٹینڈر ہوتے ہیں وہ سب کے سب بوگس اور افسر،ٹھیکیدار  کی جیب میں جاتے ہیں،اگر صرف دو سال کیلئے ان اخراجات پر پابندی لگا دی جائے تو نہ صرف قومی خزانے کا تحفظ ہو گا بلکہ عوام پر پڑنے والا بوجھ بھی کسی حد تک کم ہو جائے گا،اور حکومت کو گیس،بجلی،پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
      شائد اس بات کا احساس وزیر اعظم اور انکی کابینہ کو ہو کہ اس وقت بجلی اور گیس کے بلوں کی وجہ سے متوسط اورغریب طبقہ کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے،عوام بل جمع کرانے کیلئے قرض اٹھانے پرمجبور ہوچکے ہیں،بچوں کی تعلیم کا سلسلہ چلانا دو بھرہو گیا ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کے بعد رسمی اعلا ن ہوتا ہے ، غریب آدمی متاثر نہیں ہو گا مگر کھلی حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ غریب آدمی ہی متاثر ہوتا ہے،اس لئے کہ منافع خوراشیائے ضرورت کی ہر چیز کی قیمت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کو جواز بنا کراضافہ کر دیتے ہیں اور   سارابوجھ عام شہری کی جیب پر پڑتا ہے۔ حکومتی مشینری قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کو روکنے کا نہ تو کوئی میکنزم رکھتی ہیں نہ اس حوالے سے ضروری اقدامات بروئے کار  لائے جاتے ہیں اور غریب شہری مہنگائی کی چکی میں خاموشی سے پستا چلاجاتا ہے۔
تحریک انصاف حکومت پٹرولیم مصنوعات میں تین بار اضافہ کر چکی ہے جبکہ صرف ایک بارمعمولی کمی کی گئی،یہ بات درست ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی سے منسلک ہیں،مگر اس  سے  بھی انکار ممکن نہیں کہ سابق ادوار میں ان مصنوعات پر بلا جواز اور غیرمتعلقہ ٹیکس اور ڈیوٹیز عائد کی گئی تھیں انکے خاتمہ سے عوام کو ریلیف دیا جا سکتاہے۔
        مہنگی بجلی کی ایک وجہ زرداری دور میں پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز سے کئے گئے معاہدے بھی ہیں جن کی ایک شق عقل و سمجھ سے عاری ہے، اس شق کے مطابق حکومت ایک پاور پراجیکٹ کی صلاحیت کی 60فیصد بجلی خریدنے کی پابند ہے اوراگر 60فیصد پیداوار نہیں خریدی جائیگی تو حکومت بند پاور پراجیکٹ کو پیداوری صلاحیت کے سو فیصد ادائیگی کی پابند ہو گی،دلچسپ نہیں المناک صورتحال یہ ہے کہ سابق اور موجودہ حکومت ایسے متعدد بند منصوبوں سے 60فیصد بجلی حاصلکر کے عوام کو سستی فراہم نہیں کر رہی جس سے خسارہ کم کیا(باقی صفحہ نمبر6 بقیہ نمبر1)
 جاسکتا ہے مگر ا ن پاور پلانٹس کوبجلی حاصل کئے بغیر 100فیصد پیداوارکی ادائیگی کر رہی ہے اور اس کا سارا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے،زیادہ بہتر ہوتا اگر ان پاور پلانٹس کو آپریشنل کر کے 60فیصد بجلی حاصل کی جائے تاکہ بجلی کی قلت بھی نہ ہو اور ان پلانٹس کو بغیر بجلی لئے 100فیصد ادائیگی بھی نہ کرنا پڑے۔
         حکومت آئی یم ایف کی طرف دیکھ رہی ہے جس کا پہلا مطالبہ ہی بجلی،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے،اگر حکومت کو عالمی مالیاتی ادارہ سے قرض لینا پڑ گیا تو یہ قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی اور عام شہری خود کشی پر مجبور ہو جائیں گے اس لئے ضروری  ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے فطری اور حقیقی اقدامات عمل میں لائے،اخراجات اور کرپشن میں کمی لائی جائے او رآمدن کے ذرائع  پر توجہ دی جائے،  مصنوعی اقدامات سے تبدیلی لانا ممکن نہیں۔

 

تازہ ترین خبریں