08:38 am
جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار

08:38 am

حضرت اقبال ؒ نے ضرب کلیم میں ملازادہ ضیغم لولابی کی بیاض میں جو آفاقی کلام تخلیق کیا وہ دراصل اہلِ کشمیر کے دردِ قدیم کا بیان ہی تو ہے۔ 
 
آج وہ کشمیر ہے مجبور و محکوم و فقیر 
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
سینہ‘ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک 
مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر
کہہ رہا ہے داستاں بیدردیِ ایام کی 
کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ دہقانِ پیر
آہ یہ قومِ نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر 
مہاراجہ ہری سنگھ ہو یا ہندوتوا نظریے کے جنونی پیروکار ! سب نے اہلِ کشمیر کا لہو پانی کی طرح بہایا۔ شخصی آزادی ، جمہوری اصول اور انسانی حقوق کے رنگین نعرے کشمیر میں اپنے معانی کھو دیتے ہیں ۔ یہاں ایک ہی قانون رائج ہے ۔ جنگل کا قانون۔ یہ اُس اقوام متحدہ کا دور ہے جس کے فیصلوں سے مشرقی تیمور بھی یکا یک آزادی پا لیتا ہے اور سوڈان کی تقسیم بھی ممکن ہو جاتی ہے لیکن کشمیریوں اور فلسطینیوں کی آہ و بکا پر نام نہاد مہذب ادارے کا کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ مشرقی تیمور اور سوڈان میں مسیحی برادری آزادی اور علیحدگی کی طلب گار تھی ۔ فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کی گردن نوکِ خنجر پر ہے۔ 
مغرب سے دانشوری کی سند پانے والے چپڑ قناطی صبح و شام تسبیح فرماتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ دہشت گردی پر تو بعد میں بات کرلیں گے پر لے یہ تو معلوم کر لیجیے کہ آخر اس اقوام متحدہ کا مذہب کیا ہے؟ ظاہر ہے اقوام متحدہ کا بھلا کیا مذہب ہو گا ؟ یہ تو وہ پاک صاف ادارہ ہے جو مذہبی ، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تفریق کیے بنا انسانی حقوق کا محافظ ہونے کا دعویدار ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ برق ہمیشہ مسلمانوں کے آشیانوں پر ہی کیوں گرتی ہے؟ مسلمانوں کی آہ و فغاں پر ہی عالمی برادری کی سماعت اور قوت گویائی کیوں سلب ہو جاتی ہے؟ اسرائیل کو نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کا حق ہے ۔ بھارت کو کشمیریوں کا خون معاف ہے ! پھر سوال تو اُٹھے گا کہ آخر ظلم کی چکی میں مسلمان ہی کیوں پس رہا ہے؟ اگر دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں تو پھر عالمی میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد کیوں کہا جاتا ہے؟ ظاہر ہے جب ظلم مسلمانوں پر ڈھائے جائیں گے تو اُس کے خلاف صف آراء بھی مسلمان ہی ہوں گے۔ شاعر مشرق نے ملازادہ ضیغم لولابی کی بیاض میں فرمایا!
جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
دہشت گردی کے مذہب پر تحقیق سے بہتر ہے دہشت گردی کی وجوہات بیان کی جائیں ۔اُس سے بھی پر لے دہشت گردی کی تعریف کا تعین ضروری ہے۔ اسرائیل کی تعریف فلسطینیوں پر لاگو نہیں کی جاسکتی ۔ غاصب و قاتل بھارت کے مقرر کردہ پیمانوں پر کشمیر کی تحریک حریت کو نہیں تولا جا سکتا ۔ انسانی حقوق تمام دنیا پر یکساں لاگو کرنے ہوں گے ۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے پراسرار قتل پر عالمی سطح پر صف ماتم بچھانے والے طبقے بھارت اور اسرائیل کی جانب سے کی جانی والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بد تریں جرائم پر کیوں خاموش رہتے ہیں ؟ غیر ملکی ڈگڈگی پر سدھائے ہوئے بندر کی طرح ناچنے والے بعض نام نہاد انسانی حقوق کے مقامی چیمپین گذشتہ دنوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس پر لگا کے اپنے آقائوں کا حقِ نمک ادا کرتے دیکھے گئے۔ سوال یہ ہے کہ مارچ کے مہینے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے وحشیانہ تشدد سے شہید ہونے والے انسانی حقوق کے علمبردار جلیل اندرابی کی تئیسویں برسی تھی۔ جمال خاشقجی کی یاد میں صف ماتم بچھانے والے انسانی حقوق کے علمبرداروں نے جلیل اندرابی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت پر آواز کیوں نہیں اُٹھائی؟ 
 واضح رہے کہ انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کشمیری حریت پسند جلیل اندرابی کو آٹھ مارچ سن چھیانوے کو سری نگر میں گھر سے کچھ فاصلے سے بھارت فوج کی پینتیس راشٹریہ رائفلز کے میجر اوتار سنگھ نے گرفتار کیا ۔تقریباً تین ہفتے بعد دریائے جہلم سے جلیل اندرابی کی تشدد زدہ لاش ایک تھیلے سے برآمد ہوئی ۔ معاملہ دبانے کے لیے ایک جانب ڈھیلا ڈھالا مقدمہ درج کر دیا گیا اور دوسری جانب اصل مجرم میجر اوتار سنگھ کو بھارت سے فرار کر وا دیا گیا ۔تئیس برس سے بڈگام کورٹ میں زیرالتواء یہ مقدمہ بھارتی فوج کی دہشت گردی اور عالمی برادری کے دوغلے معیار کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ سن دو ہزار بارہ میں امریکہ میں روپوش جنونی میجر اوتار سنگھ نے اپنی بیوی اور تین بچوں کو قتل کرنے کے بعد پولیس کے سامنے خود کو گولی مار کے خود کشی کر لی۔ سچ ہے ظلم کا بدلہ دنیا میں مل کے رہتا ہے۔مظلوم ماں کی آہیں یقیناً اوتار سنگھ کا پیچھا کر رہی تھیں ۔ ہزاروں مائوں کی گودیں اجاڑنے والے بھارت کا انجام بد زیادہ دور نہیں ۔ غیر جانبدار تجزیہ کار بین الاقوامی میڈیا پر یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ جبر و تشدد کے ہتھیار سے بھارت کشمیر کی تحریک حریت کو زیادہ دیر نہیں دبا سکتا ۔ یہ تحریک اب چند جذباتی نوجوانوں کا جارحانہ رد عمل نہیں رہی بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیریوں کی شمولیت کی بدولت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ طاقت کے نشے میں چور مغربی اقوام کی منافقت اور چند سکوں کی جھنکار پر اپنے ضمیر کا سودا کرنے والے جعلی دانشور اس تحریک کا ادراک نہیں رکھتے۔ ملازادہ ضیغم لولابی کی بیاض سے فکر اقبال کے چند قیمتی موتی !
دراج کی پرواز میں ہے شوکتِ شاہیں
حیرت میں ہے صیاد یہ شاہیں ہے کہ دراج
ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلاطم 
مشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج
فطرت کے تقاضوں سے ہوا حشر پر مجبور 
وہ مردہ کہ تھا بانگ سرافیل کا محتاج
 
 

 

تازہ ترین خبریں