08:50 am
افطار پارٹیاں

افطار پارٹیاں

08:50 am

دین میں روزہ کی بہت اہمیت ہے۔یہ اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ روزہ دار کو افطار ی کرانے کی اپنی افادیت ہے۔ اسلام کے ہر رکن میں، ہر ایک ہدایت میں ، ہر ایک فعل میں انفرادیت سے زیادہ اجتماعیت کا تصور اجاگر ہوتاہے۔ کسی کی انفرادی حیثیت پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج تمام کے تمام کا پیغام اجتماعیت ہے۔ یہ اجتماعیت ایک گائوں محلہ شہر سے لے کر ملک اور دنیا تک ہے۔ نماز محلہ کی مسجد، جمعہ شہر کی جامع مسجد، حج دنیا کے مرکز مکہ المکرمہ میں ادا کرنے کا یہی واضح پیغا م ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد عبادت ہی نہیں بلکہ انسانی معاملات ہیں۔جن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ حقوق اللہ سے حقوق العباد کی زیادہ اہمیت اسی لئے ہے۔عبادات اور معاملات کیا ہیں۔ اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ عبادات کا بھی بنیادی مقصد معاملات کو سنوارناہے۔ انسان کا انسان کے کام آنا، اس کے دکھ درد، خوشی غمی میں شریک ہونا، اس کے ساتھ تعاون کرنا، اس کی تیمار داری کرنا، اس کے لئے تحائف کا اہتمام کرنا، اس کو اپنے دسترخوان میں شامل کرنا، کفن ودفن میں شرکت وغیرہ ان میں شامل ہے۔ 
 
روزہ کا بھی ایک بڑا مقصد ہے۔ ایک مالدار، خوشحال، کشادہ رزق شخص روزہ رکھتا ہے ،اسے بھی ایک بھوکے اور پیاسے کی بھوک پیاس کا احساس ہوتا ہے۔ اس پر بھی بھوک پیاس کا دور گزرتا ہے۔ وہ اپنے مال اور رزق میں غریب اور محتاج، مستحقین کو بھی شامل کرتا ہے۔ اسے دلی سکون حاصل ہوتا ہے۔ یہی سکون قلب ہے جس کی ہر کسی کو تلاش ہے۔زکوٰۃ بھی نیکی کا سلسلہ ہے۔ یکم رمضان کو بینک اور دیگر مالیاتی ادارے سیونگ کھاتوں پر زکٰوۃ کٹوتی کرتے ہیں۔ جس کسی کے کھاتے میں 44ہزار 415روپے موجود ہوں گے وہ صاحب نصاب ہو گا اور اس سال اس کی رقم پرزکوٰۃ کٹے گی۔حکومت یہ زکوٰۃ کٹوتی کر کے غریبوں پر خرچ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ تا ہم یہ بات تحقیق طلب ہے۔
روزہ دار افطاری میں غریبوں کومدعو کرتا ہے۔ ان کے لئے اپنا دستر خوان بچھا دیتا ہے۔چھپ کر غرباء کی مدد کرتا ہے۔ تا کہ کسی کو پتہ نہ چلے اور غریب کا دل نہ دکھے۔ آج کی افطار پارٹیاں اور ان میں شریک لوگوں کا جائزہ لیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اچھائی میں ملاوٹ کر دی ہے۔ ہمارے دسترخوان پر غریب اور یتیم، محتاج کتنے نظر آتے ہیں۔ ہماری پارٹی میں شہر کے خوشحال لوگوں، وزراء، مشیر، سیکرٹری، مالدار، امراء وزراء شامل ہوتے ہیں۔ان میں فقراء کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ خلوص نیت اپنی جگہ ،ان لوگوں کو کیا ہم اس لئے بھی مدعو کرتے ہیں تا کہ یہ ہمارے کام آئیں۔یا ہمیں مفاد اورمراعات میں معاونت کریں۔ ہماری ملازمت، ترقی، تبادلے ، کاروبار کے فروغ ، مراعات، مفادات کا بندوبست کر سکیں۔ مگر لوگ اب الحمد للہ تعلیم یافتہ ہیں،خدا ترس ہیں۔ وہ نیکی اور دکھاوے میں فرق کر سکتے ہیں۔ 
آپ افطار پارٹی کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھیں۔ ایک منٹ کے لئے اپنی آنکھیں بند کر دیں۔ اور اب بتائیں آپ کن لوگوں کو مدعو کریں گے۔ آپ کے مقاصد کیا ہوں گے۔ سیاسی مقاصد، ذاتی مقاصد، مفادات اور مراعات کے لئے یا خالص اللہ کی رضا کے لئے، مال کی پاکیزگی کے لئے۔۔ کیا آپ کی افطاری کا مقصد پورا ہوگا۔مگر ہم اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کے دسترخوان پر غریب اور مسکین، یتیم زیادہ تعداد میں جمع ہوں۔ مستحق کو آپ افطاری کرائیں، آپ کا عمل اللہ کی خوشنودی کے لئے ہو گا۔ رحمان کی خوشنودی مطمئن نفس کی خواہش ہوتی ہے۔ اطمینان قلب کا باعث بنتی ہے۔
حسن ظن کا تقاضا ہے کہ شہر میں ہونے والی ہر افطاری صرف اللہ کی رضا کے لئے ہوتی ہے۔ آپ نے مال خرچ کیا۔ اللہ پاک قبول فرمائے اور آپ کو اس کا بہتر اجر عطا کرے۔ ہم نے اپنا جائز ہ لینا ہے۔ اپنی اصلاح کرنی ہے۔ اپنا احتساب کرنا ہے اپنے معاملات کو درست کرنا ہے۔ اس کا علاج ہے۔ توبہ استغفار۔ توبۃالنصوۃ۔ توبہ وہی قبول ہوتی ہے جس کے بعد مزید غلطی، گنائی سے بچنے کا عہد اور عزم ہو۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ توبہ کر لی۔ اب پھر وہی عمل، پھر توبہ کریں گے، غلطی کر لیں۔ پھر توبہ ہے تو ایسی توبہ ایک دھوکا ہے۔ کیا ہم اللہ تعالیٰ کو دھوکا دے سکتے ہیں ۔ کیا ہم ملک الموت کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ کیا حکیم لقمان ایسا کر سکے۔ سلطان سکندر بھی نہ کر سکے۔کیا آج تک اس روئے زمین پر کوئی ایک بھی ایسا کر سکا ۔ کوئی سخی یا بخیل ایسا نہ کر سکا، نہیں کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ تو پھر بھلائی کی طرف لوٹ آنا ہی بہتر ہے۔ ہمارے وزیر، مشیر، بیوروکریٹ بھی افطاری دیں گے۔جس کو اللہ نے توفیق دی، اپنے مال سے نوازا، وہ افطاری دے گا۔اس کا دسترخوان بہت کشادہ ہوتا ہے۔ مال اللہ کا تو اس کو جمع کرنے کے بجائے اللہ کے بندوں پر خرچ کرنے میں کس نے روکا ہے۔نیک انسان پڑوس میں نادار اور غریب کا خیال رکھتا ہے۔اپنے عزیز و اقارب کا حق سب سے زیادہ ہے، ان کا خیال رکھے گا۔ اللہ مزید توفیق دے۔
اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندے اپنے مفادات کے لئے۔ اپنی شہرت کے لئے، دکھاوے کے لئے کوئی بھی کام نہیں کرتے۔جس نے ریاکاری کی اس نے خود کو ہی دھوکا دیا۔با شعور فرد افطاری میں، اپنے مال میں غریبوں، مسکینوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کرتا ہے۔ ہماری نیت، ہمارا خلوص اللہ بہتر جانتا ہے۔ صدر، وزیراعظم بھی افطاری دیتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم ، مریکی صدر بھی افطاری دیتے ہیں۔ ایک اہم دینی فریضہ پر سیاست چمکانے کی بھی کوشش ہوتی ہے۔ رئیس لوگ ان میں مدعو ہوتے ہیں۔ بڑے تاجر، صنعتکار بلائے جاتے ہیں۔ ان سے چندہ لیا جاتا ہے ۔ پھر یہ سب سیاست کی نذر ہو جاتا ہے۔ روزہ، افطاری، شب کی تلاش سب پر سیاست، دکھائوا غالب آ جائے تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اس کی جزا یا سزا کیا ہو گی۔ اللہ ہماری نیت کو خالص کر دے اوراجتماعیت کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے تو ایسا ہو سکتا ہے۔اللہ پڑوسیوں، غرباء، محتاجوں، مسکینوں، مسافروں، طلباء سمیت تمام مستحقین کے ساتھ بھر پور تعاون کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری افطاریوں کو قبول اور نیتوں کو خالص کر دے۔
عظیم لوگ ہیں جو ایک ہاتھ سے ایسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہیں ہو تی۔ اللہ پاک ان کے مال و دولت میں برکت دیتا ہے اور رزق کو کشادہ فرماتا ہے۔اپنے خزانوں کے منہ ان پر کھول دیتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جو معاشرے کے چمکتے ستارے ہیں۔ ان نیک لوگوں کی وجہ سے ہم بھی اللہ کے عذاب اور قہرسے بچے رہتے ہیں۔یہی نیک لوگ اللہ کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ خیر اور نیکی کو عام کرتے ہیں۔اللہ پاک ہمیں بھی نیکی کو عام کرنے کی ہدایت اور توفیق دے۔رمضان کی برکتوں سے فیض یاب ہونے کی طاقت دے۔ 

تازہ ترین خبریں