08:53 am
آئی ایم ایف، چہرہ نمایاں، ارکان اسمبلی کی دہائیاں

آئی ایم ایف، چہرہ نمایاں، ارکان اسمبلی کی دہائیاں

08:53 am

٭لاہور، داتا دربار دھماکہ، انکشافات، گرفتاری O آئی ایم ایف کے احکام پر عمل شروع بجٹ ملتوی، 11 جون کو آئے گا O چینی لڑکوں کی شادیاں، گرفتار شدگان کی تعداد 40 سے بڑھ گئی سینکڑوں شادیوںکے انکشافاتO سندھ، گندم کی ایک لاکھ 30 ہزار بوریاں غائب O نوازشریف ریلی، ٹرین پر حملہ 827 مقدمات Oبلاول کی قومی اسمبلی کی رکنیت،الیکشن کمیشن میں چیلنج O تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ارکان پھٹ پڑے۔
 
٭ملک بھر میں دھماکوں کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ہے۔ لاہور، پشاور چارسدہ اور چمن میں ایک ہی روزمیں دھماکے ہوئے۔ لاہور میں 11 افراد شہید 24 زخمی ہوئے۔ گورنر اور وزیر صحت زخمیوں کا حال پوچھنے ہسپتال چلے گئے، وزیراعلیٰ کو فرصت نہ مل سکی۔ دفتر میں بیٹھ کر احکام جاری کرتے رہے۔ تحقیقات کے مطابق خودکش حملہ آور کا ہاتھ مل گیا، فرانزک لیبارٹری میں تجزیہ ہو رہا ہے۔ ایک سہولت کار بھی پکڑا گیا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملہ آور اور سہولت کاروںکے نام افغانستان سے کالیں آ رہی تھیں۔ پھر وہی سوال کہ پاکستان میں مختلف ناموں والی16 انٹیلی جنس  ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں؟ بیرون ملک پاکستان میں کارروائی کے لئے بننے والے دہشت گردی کے منصوبے ایک دن میں نہیں بن جاتے، مسلسل کالیں چلتی ہیں۔ کہاں ہے ایف آئی اے کا سائبر کرائم کا شعبہ؟ اس وقت جاگتا ہے جب جرم ہو چکتا ہے۔ بارود بھری جیکٹ والا خود کش بمبار پولیس کی گاڑی کے پاس بڑی آسانی سے چلتا آیا، شدید گرمی میں کوٹ اور اس کے نیچے کم از کم 10 کلو وزنی جیکٹ پہنے ہوئے تھا، داتا دربار کمپلیکس کے سکیورٹی کیمروں میں اس کا نیلے رنگ کا لباس بھی صاف دکھائی دے رہا تھا، وہ داتا دربار والی گلی سے نکلا، اسے ایک شخص ہدایات دے رہا تھا۔ یہ سب کچھ کیمروں پر آ رہا تھا، ایسے میں کیمروں پر نظر رکھنے والی سکیورٹی کدھر تھی؟ رات کا اندھیرا بھی نہیں تھا۔ 9 بجے صبح دھوپ بہت تیز اور روشن تھی! اور…اور سخت نکتہ چینی کے باوجود ایک سابق فوجی افسر کو ملک بھر کے داخلہ امور کی کمان دے دی گئی۔ یہ وزیرداخلہ کہاں تھا؟ خود کش لڑکا افغانستان سے طویل سفر کر کے لاہور پہنچا؟ راستے کی ناکہ بندیاں کہاں تھیں؟ جیکٹ پاکستان میں بنی تو پاکستان کی نگران 16 ایجنسیاں کہاں تھیں؟ حسب معمول اوپر سے نیچے تک مذمتی بیانات آ رہے ہیں ان کے ساتھ تصویریں لگانے کی ہدایات بھی مل رہی ہیں۔ انتہا یہ کہ صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ کے بعد سندھ سے بلاول اور لاہور سے عظمیٰ بخاری (ن لیگ) کے احکام آ رہے ہیں کہ زخمیوں کا علاج بہتر کیا جائے؟ مجھے اپنا رپورٹنگ کا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک بڑا سیاسی رہنما میرے پاس آیا۔ کہا کہ شاہ جی حکومت کے خلاف کوئی بیان آیا ہو تواس میں میرا نام بھی لکھ دینا۔اور۔اور یہ کہ لاہور کے دھماکے کے بعد غیر ملکی ٹیمیں پاکستان کھیلنے آئیں گی۔
٭سندھ: نیب نے سندھ میں گوداموں سے ایک لاکھ 30 ہزار گندم کی بھری بوریوں کے غائب کئے جانے کی تفتیش مزید تیز کر دی ہے۔ کچھ گرفتاریاںہو چکی ہیں، مزید ہونے والی ہیں۔ سندھ کا کوئی شعبہ بھی اربوں کے گھپلوں سے محفوظ نہیں۔ اس صوبے پر مسلسل دس برسوں سے پیپلزپارٹی حکمران ہے۔ مگر جس صوبے کا گورنر جان بچانے کے لئے باہر بھاگ گیا ہو، وزیراعلیٰ عدالتوں میں طلب ہو رہا ہو، اصل حکمران باپ اور اولاد عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہوں، وہاں گندم سے بھرے گودام خالی ہوجانے پر کیا لکھا جائے؟ ویسے پنجاب کا بھی یہی حال ہے۔ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ کے عہدیدار کیسی رسوائیاں جھیل رہے ہیں!
مجھے سیاسی ہوس گزیدہ ملک کے کچھ ’بڑے‘ ناموں کے بارے میں کچھ باتیں کہنا ہیں۔ ان سیاست دانوں کے چہروں کی بیزارکن نمائشیں، جنہیں دیکھ دیکھ کر عوام تنگ آ گئے ہیں۔ ان لوگوں کا اپنی ریلیاں نکالنے اور ٹیلی ویژنوں اور اخبارات میں بار بار فوٹو سیشن سے جی نہیں بھرتا اور ان ریلیوں کا انجام، ہر بار کوئی نہ کوئی انسانی المیہ، جماعت اسلامی نے 1990ء کے عشرہ میں نوازشریف کی جگہ حکومت سنبھالنے کے لئے قاضی حسین احمد کی قیادت میں راولپنڈی میں ریلی نکالی، پولیس کی فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہو گئے، ریلی وہیں ختم ہو گئی۔ بھارتی وزیراعظم واجپائی کی آمد پر لاہور کے گورنر ہائوس کے باہرمال روڈ پر اسی جماعت کی ریلی کا بھی ایسا ہی انجام ہوا ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ کراچی میں پیپلزپارٹی کے وصیت یافتہ نوجوان ولی عہد بلاول زرداری (بھٹو؟) کے ایک ہسپتال تک سفر کے لئے پارٹی کے کارکنوں کی ریلی نکلوائی گئی۔ ہسپتال کے گیٹ پر ایک غریب کم سن مریض بچی تڑپ تڑپ کر مر گئی اسے ریلی کی سکیورٹی نے اندر نہیں جانے دیا۔ سیدھے سیدھے بلاول کے خلاف مقدمہ بنتا تھا، کیسے بنتا؟ وزیراعلیٰ اپنا تھا، سیاں بھیئے کوتوال، بچی کے والد کو چند سکے دے کر زبردستی خاموش کرا دیا گیا۔ لواحقین روتے رہ گئے۔ عمران خان کے خوشامد پسندوں نے اس کی لاہور آمد پر ریلی نکال کر لاہور میں داخل ہونے والی مرکزی سڑک بند کر دی، قریبی بستی عبدالمالک کے ایک غریب شخص نہائت نازک حالت والے کم سن بیٹے کو ہسپتال جانے سے روک دیا۔ بچہ باپ کے بازوئوں میں تڑپتا، تڑپتا چل بسا، کسی کو رحم نہ آیا۔ عمران  خان نے مڑ کر نہ دیکھا، ہمدردی کے چند بول بھی نہ کہے! اور پھر نوازشریف کی نااہلی کے بعد اسلام آباد سے لاہور تک ’’تاریخی‘‘ ریلی جو راستے میں ضیافتیںکھاتی 24 گھنٹے میں لاہور پہنچی۔ راستے میں لالہ موسیٰ کے شہر کے باہر سڑک پر ایک 12 سالہ بچہ حامد، نوازشریف کے پیچھے آنے والی گاڑی کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا۔ ریلی کی کوئی گاڑی نہ رکی، نوازشریف کو اطلاع دی گئی۔ موصوف نے دو منٹ بھی رکنا گوارا نہ کیا، اس بچے کو مقامی صحافیوں نے اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔ نوازشریف کا کوئی چوبدار بھی ہسپتال نہ گیا۔ پوری شان و شوکت اور ڈھول ڈھمکے کے ساتھ جگہ جگہ تصویریں بنواتی ریلی لاہور پہنچی تو خواجہ سعد رفیق اور ایک دو دوسرے سیاسی طوطوں کے ذریعے نوجوان بچے کی المناک موت پر افسوس کا اظہار کر دیا گیا۔ ان تمام روح فرسا ریلیوں کے الم ناک نتائج پر آج تک کوئی گرفتاری، کوئی عدالتی کارروائی، کچھ نہیں! کراچی کی بچی، لاہور کے بچے، لالہ موسیٰ کے کم سن حامد کے لواحقین روتے روتے خاموش ہو گئے!! اور بس! اور اب نوازشریف کو جشن کے ساتھ جیل لے جانے کی ریلی، پاس گزرتی ٹرین کو روک کر اس پرقبضہ کر لیا!
٭تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں وزارتوں اور مشیروں و معاون خصوصی کے دولت لُٹ عہدوں سے محروم رہ جانے والے ارکان اسمبلی نے ہنگامہ کر دیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق یہ لوگ پھٹ پڑے کہ ’’باہر‘‘ سے 17 ’’اجنبی‘‘ غیر منتخب لوگوں کو لا کر مشیر اور خصوصی معاون بنا دیا (سٹیٹ بنک اور ایف بی آر کے سربراہ عہدے بھی!) کیا ہم دکھائی نہیں دیئے جو انتخابات میں کروڑوں خرچ کر کے اربوں کمانے کے لئے آئے تھے، ہمارے بھاری نقصان کا ازالہ کیسے ہو گا؟ بجلی، گیس، پٹرول، سبزیاں اور پھلوں کو شدید مہنگائی کے ذریعے غریب عوام کو ٹھکانے لگانا تھا تو یہ سلوک ہم انتخابات میں کروڑوں ضائع کئے بغیراپنی جاگیروں، سرداریاںزدہ علاقوں اور بڑی بزی زمینداریوں میں بسنے والی مخلوق کے ساتھ ویسے ہی کر سکتے تھے جیسے اب تک کر بھی رہے ہیں۔مجھے کراچی کا پرانا واقعہ یاد آگیا ہے۔ سابق سفیر شائستہ اکرام کی بیٹی ثروت کی شادی اوررخصتی اُردن کے ولی عہد شہزادہ حسن کے ساتھ ہوئی۔ کراچی کی لڑکیوں کا احتجاج آیا کہ شہزادے کوکیا یہی نظر آئی تھی؟ لڑکے احتجاج کرتے پھر رہے تھے کہ باہر سے دولہا منگوایا، کیا ہم مر گئے تھے؟