07:57 am
کتاب فرقان

کتاب فرقان

07:57 am

اللہ نے قرآن کو ’’کتاب فرقان‘‘ کہا ہے اور اس نے ’’یوم بدر‘‘ کو ’’یوم فرقان‘‘ قرار دیا ہے۔ یعنی حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا دن‘ حق و باطل کے درمیان ہونے والی کشمکش میں دونوں قوتوں کو پہچاننے کا دن‘ قرآن کی نظر میں اہل ایمان کے لئے کشمکش کی اصل قوتوں اور اس کی قیادت کی پہچان بہت ضروری ہے‘ اس فرق کو جانے بغیر ظلم کے نظام سے نجات اور غلبہ اسلام کا سفر ایک قدم بھی طے نہیں ہوسکتا‘ اسی لئے ماہ رمضان میں نازل ہونے والے قرآن نے خود کو ’’فرقان‘‘ اور 17رمضان المبارک کے معرکہ بدر کے دن کو ’’یوم فرقان‘‘  قرار دیا ہے۔
 
قرآن کی بنیاد پر سماج میں پیدا ہونے والی سیاسی تقسیم اور صف بندی کے فرق میں ’’یوم فرقان‘‘ اسلام کی حقیقی قوت اور قیادت  کو نمایاں کرتا ہے اور اہل ایمان کو درمیانی قوتوں اور قیادتوں کے مخمصے اور فریب سے نکالتا ہے۔ ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر نظام ظلم کے ساتھ مفاہمت سے کنارہ کشی کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ بہت  سے کھوٹے سکے ‘ درمیانی عناصر اور قوتیں جو ذاتی منفعت کے اسیر ظالم طبقات کے مفادات کے محافظ اور ابوجہل کے کیمپ کے سپاہی ہوتے ہیں‘ اپنے چہرے پر حق اور اسلام کا نقاب پہن کر مسلمانوں کو دھوکے اور فریب میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں‘قرآن ایسے لوگوں کی سخت گرفت کرتا ہے ان کے مکروہ چہروں کے خوشنما نقاب اتار کر حق و باطل کے فرق کو واضح اور نمایاں کر دیتا ہے‘ یوم فرقان سیاسی کشمکش کی دھند کو صاف کرتا ہے اور ذہنی و عملی پراگندگی دور کر دیتا ہے‘ اس فرق کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیںکیونکہ ابوجہل جب تک ابوجہل بن کر سامنے آتا ہے‘ اہل ایمان کے لئے اس کا مقابلہ کرنا مشکل نہیں ہوتا‘ لیکن جب وہ عبداللہ بن ابی اور میر جعفر بن کر سامنے آتا ہے تو تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اہل ایمان کے لئے ان کا مقابلہ بہت مشکل قرار پاتا ہے‘ بظاہر مسلمان اور صاحب ایمان نظر آنے والے یہ عناصر... لیکن اصلاً ابوجہل اور نظام جہل کی یہ کٹھ پتلیاں اہل ایمان کو ان کی اصل قیادتوں سے متنفر اور محروم کر دیتی ہیں‘ قیادت کھروں کی بجائے کھوٹے سکوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے اور نتیجہ ناقابل تلافی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ انہی کھوٹے سکوں پر قرآن نے تبصرہ کیا ہے کہ :جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لائو تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ’’کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لائیں۔‘‘ خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں‘ مگر جانتے  نہیں ہیں۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے مذاق کر رہے ہیں... اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے‘ وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے‘ اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ‘ مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اس سے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ  تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ (بقرہ: 17-13)
باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بنائو اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ (البقرہ42:)
اے اہل کتاب کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو‘ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔ (آل عمران71:)
قرآن کھوٹے سکوں کی جانب اہل ایمان کو متوجہ کر رہا ہے کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جس کا ایک چہرا  ایوان میں کھڑے ہو کر اہل ایمان سے کئے ہوئے اپنے عہد اور وعدوں سے منحرف ہو کر اعلان کرتا ہے کہ میں بنیاد پرست نہیں‘تو دوسرا چہرہ مسلمانوں کو لبرل اسلام کے فریب میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن حقیقتاً یہ دونوں چہرے ایک ہی کھوٹے سکے کے دورخ ہیں اور اپنے در پردہ اقدامات کے ذریعہ اپنے آقائوں کے احکامات اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ یہ کھوٹے سکوں پر مشتمل مسلمانوں کی قیادتوں پر قابض یہ طبقہ جن طاقتوں کو اپنا رب مانتا ہے‘ انہی طاقتوں کا طواف کرتا اور انہی کو خوش رکھنے کے اقدامات میں ہمہ تن مصروف رہتا ہے کیونکہ وہ اپنے اقتدار کے حصول اور تحفظ کا ذریعہ اپنے انہی طاغوتی آقائوں  کو سمجھتا ہے‘ چنانچہ قرآن اس طبقہ کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اہل ایمان کو ان سے خبردار رہنے کا حکم دے رہا ہے۔
17رمضان کے معرکہ بدر میں اسلامی انقلاب کی محبت اپنے دل میں رکھنے والے ایک کیمپ اور ایک قیادت کے تحت جمع تھے تو جمے جمائے نظام ظلم کی قوتوں اور ان کے مددگار ابوجہل کے کیمپ میں جمع تھے‘ لوگوں کے سامنے انہی دو کیمپوں میں سے کسی ایک کیمپ کی چوائس رہ گئی تھی‘ صفیں منظم تھیں‘ فرق واضح تھا‘ قیادت اصلی اور حقیقی تھی اور منظر بالکل صاف تھا کہ نہ کوئی ابہام تھا نہ کنفیوژن۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
سارے کھوٹے سکے‘ ایک طرف تھے اور تمام کھرے  دوسری طرف ‘سارے پیٹ بھرے سرمایہ دار اور بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا جاگیردار‘ عیش و عشرت میں مست سردار اور انسانوں پر اپنی خدائی کا سکہ جمانے والے نظام جہل کے علمبردار ابوجہل کی قیادت میں حملہ آور تھے تو دوسری طرف انسانوں کو انسانوں کی بندگی اور غلامی سے نجات دلانے والے خالی پیٹ مجاہد روزہ دار‘ مظلوموں کے ہمدرد غمگسار‘ نظام عدل کے علمبردار‘ کتب علیکم الصیام کے ساتھ ساتھ کتب علیکم القتال کے فرض کو ادا کرنے کے لئے رحمت للعالمین پیغمبر انقلاب محمد مصطفی ﷺ کی قیادت و امانت میں مقابلہ کے لئے تیار تھے۔
رمضان المبارک‘کتاب فرقان کا مہینہ ہے‘ غزوہ بدر کے یوم فرقان کا مہینہ ہے‘ وقت کے ابوجہلوں کو مسترد کرنے کا مہینہ ہے اور بالآخر نصرت و کامیابی اور فتح مکہ کا مہینہ ہے۔