08:58 am
تیری رتی او ڈھول میریا لنگی

تیری رتی او ڈھول میریا لنگی

08:58 am

ایک زمانہ تھا، کوئی زیادہ پرانی بات بھی نہیں صرف چند دہائیاں پہلے کی بات ہے خوشحالی بھی نہیں تھی مگر غربت بھی نہیں تھی لوگ اپنے حال میں خوش رہنے کے عادی تھے۔ ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں میلے ہوا کرتے اور عام لوگ اس انتظار میں رہتے کہ آئندہ بیساکھی میلے پر فلاں تھیٹر آئے گا، فلاں سرکس آئے گی، میلے ٹھیلوں کا انتظار رہا کرتا تھا مگر ترقی اور خوشحالی کی خواہش نے عام آدمی کی زندگی سے امنگ ہی چھین لی۔ ترقی تو ہوئی اور ساتھ ساتھ خوشحالی بھی لائی مگر یہ ترقی اور خوشحالی پوری قوم کو طبقوں میں بانٹ گئی۔ وہ جو غریب ہو کر بھی خوشحال رہنے میں خوش رہا کرتے تھے ان میں احساس غربت کے ساتھ ساتھ احساس محرومی بڑھنے لگا اور پھر ستر کی دہائی میں جب جمہوریت نے اپنے آپ کو عوام سے روشناس کرانا شروع کیا تو پہلی بار عوام کو اپنے عام ہونے کا احساس ہوا اور چھوٹے بڑے شہروں میں بھی عام اور خاص کی تخصیص پیدا ہونا شروع ہوئی۔
 
وہ جب کچھ شہروں میں کانونٹ سکول ہوا کرتے تھے جہاں محض چند لوگوں کے بچے ہی پڑھنے جایا کرتے ان پر کسی کو نہ کبھی رشک آتا اور نہ ہی حسد کیونکہ سرکاری سکولوں میں بھی معیاری سہولیات میسر تھیں اور تعلیم بھی اعلیٰ معیار کی دی جاتی تھی اور پھر ہر اہم آدمی کا بچہ بھی تو بالعلوم انہی سرکاری سکولوںمیں جاتا تھا۔ شہروں میں ڈاکٹرز کے کلینک تو تھے مگر ہسپتال رواج نہیں پا سکے تھے کیونکہ شہر کا سول ہسپتال عام شہریوں کی ضروریات کے لئے کافی تھا۔ ہر شہر میں ایک میونسپل لائبریری بھی ہوا کرتی تھی جس میں روزانہ کے اخبارات، میگزین اور لائف اور ٹائم میگزین بھی پڑھنے کو ملتا تھا۔
شہر کے کمپنی باغ میں ہر صبح سیر کرنے والوں کی کثرت ہوا کرتی اور بعض کونوں میں لگے بنچوں پربزرگ گئے وقتوں کی یاد میں تبادلہ خیالات کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی کمپنی باغ کی کینٹین سے چائے بھی پی لیتے۔ گائوں اور دیہات میں تو صبح بہت سہانی ہوتی اور گرمیوں کی ڈھلتی دوپہر میں بیلے میں چرواہے ڈھولے اور ماہئے گا کر اپنا رانجھا راضی کرتے۔ رہٹ کی روں روں اور پھر ٹپے گاتے جوان لڑکے لڑکیاں اک سہانا منظر پیش کرتے۔ کبھی کسی کو یہ دکھ نہیں ہوتا کہ دوپہر کو پیاز اور اچارکے ساتھ تنور کی روٹی کھائی ہے۔ غربت میں خوشحالی تھی کیونکہ احساس غربت نہ تھا۔
پھر یوں ہوا کہ خواب بیچنے والے آگئے اور سنہرے خوابوں کی مارکیٹنگ شروع ہوگئی اور اس کا پہلا شکار غربت میں خوشحالی کا احساس ہوا۔ لوگوں کو پہلی بار احساس غربت ہونے لگا اور یہ احساس محرومی میں بدلنے لگا۔ ستر کی دہائی میں پاکستانیوں پر مڈل ایسٹ ۔ یو اے ای اور یورپ کی مارکیٹ کھلی۔ نوجوان آنکھوںمیں خوشحالی کے خواب سجائے باہر جانے لگے۔ وہ گائوں جو کبھی سکون اور بھائی چارے کا گھر ہوا کرتے تھے وہ مسابقت اور آگے بڑھنے کی خواہش میں بے سکون ہو کر رہ گئے۔ پھر ملک کے اندر بھی تاجروں نے تجارت کے نئے طریقے ایجاد کر لئے۔ تعلیم بکنے لگی۔ علاج بکنے لگا۔ سکیورٹی بھی  تجارت بن گئی اور ظاہر ہے پھر انصاف بھی اسی زد میں آگیا اور پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ مملکت خداداد پاکستان میں رہنے والوں کو یقین ہونے لگا کہ اگر دولت ہے تو سب کچھ ہے دولت سے تعلیم، عزت ، مرتبہ سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔
ملک کے اندر بھی اعلیٰ اور مہنگے تعلیمی ادارے بننے لگے۔ ڈگریاں اور مارکس بکنے لگے۔ ایسے میں ضروری ہو گیا کہ اشرافیہ کی اولادوں کو برطانیہ امریکہ اور یورپ کی نامور جامعات میں تعلیم دلائی جائے تاکہ آنے والے وقتوں میں وہ وطن عزیز کو اکانومی ، گورنس  اور دیگر اہم امور پر مشاورت کے لئے اعلیٰ مشاہروں پر مشیر آسکیں ۔ یہی نوجوان فارغ التحصیل ہو کر بیرونی اداروں میں ابتدائی  تربیت پاتے ہیں اور پھر انہی اداروں کے نمائندے بن کر ملک و قوم کی خدمت کیلئے میسر ہوتے ہیں۔
بھارتی اشرافیہ کے بچے بھی امریکہ کی جامعات میں بھی بھیجے جاتے ہیں مگر وہ تعلیم کیساتھ ساتھ امریکی سینٹ اور امریکی کانگریس کے ممبران کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر بکثرت کام کرتے دکھائی دیتے ہیں سینیٹر اور کانگریس مین کا ہوم ورک کر کے دیتے ہیں اور یوں وہ وقت کے ساتھ ساتھ یو ایس کانگریس، یو ایس سینٹ میں بھارت کی ایک موثر لابی بن جاتے ہیں۔
لیکن ہمارے نوجوان چونکہ پروفیشنلزم پر یقین رکھتے ہیں اس لئے وہ آئی ایم ایف ورلڈ بینک کے ایسے سیکشن میں جاتے ہیں جو بالعموم تھرڈ ورلڈ ممالک سے ڈیل کرتے ہیں اور ایک خاص لابی انہیں پروموٹ بھی کرتی ہے۔
بہرحال اب نیا زمانہ ہے۔ نیا پاکستان۔ نئی امنگیں۔ نئے راستے۔ لیکن یہ کیسے نئے راستے ہیں کہ اچھے خاصے خوشحال معاشرے میں بھی احساس غربت بڑھ رہا ہے وہ سہانا خواب کیوں ٹوٹ رہا ہے؟