09:05 am
کچھ تذکرہ اسمبلیوں میں پیش کردہ بلز کا

کچھ تذکرہ اسمبلیوں میں پیش کردہ بلز کا

09:05 am

قومی اسمبلی میں مولانا اکبر چترالی  جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے الحمد للہ سود کے خلاف بل پیش کیا ہے ۔ہم انہیں مبارکباد بھی دیتے ہیں اور ان کی بھرپور حمایت بھی کرتے ہیں۔اللہ کے خلاف اگر ہم حالت جنگ میں ہوں تو کیا ہماری اس صورتحال میں ہمارے ملک کے لئے کوئی خیر و بھلائی نہ دنیا میںہوسکتی ہے اور نہ آخرت میں۔بالخصوص کوئی مسلمان ایسا کرے گا تو اس کی دنیا بھی برباد ہوگی۔غیر مسلموں کو کھلی چھوٹ ہے۔تنظیم اسلامی ایک عرصے سے ملک میں سود کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہی ہے اور اس حوالے سے مسلمانان پاکستان کی ذہن سازی کے لئے بھرپور کوششیں ہمارے پروگراموں کا مستقل حصہ ہیں۔اللہ کی توفیق اور اس کے فضل سے کوئی ڈیڑھ سال قبل ہم نے سود کے خلاف ایک بھرپورمہم ملک گیر سطح پر چلائی تھی ۔
 
اسلام آباد کے درودیوار بھی آیات قرآنی اور سود کے خلاف جو احادیث مبارکہ آئی ہیں جن میں اس کی شناعت آئی ہے جس کا بیان کرنا بھی مشکل ہے ،آویزاں کردی گئی تھیں اور الحمد للہ اس طرح پور ے ملک میں ایک بھرپور پیغام پہنچا ۔ویسے تو ہمارے حکمرانوں کا یہ فرض بنتا تھا کہ سود کی مکمل انسداد کے لئے اقدامات کرکے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف حالت جنگ سے نکلیں ، ریاست مدینہ کے طرز کی ریاست کے اپنے عزم کو سچا ثابت کرنے کے لئے موجودہ حکومت کے لئے تو یہ انتہائی ضروری ہے۔اتنے بڑے عزم کی تکمیل کے لئے موجودہ حکومت کو سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ سے نکلنا انتہائی اہم ہے۔
حکومت پنجاب نے الحمد للہ ماہ رمضان المبارک کے دوران خصوصی ٹرانسمیشن میں شو بز کے افراد کی شرکت پر پابندی کی قرارداد منظور کی ہے ۔اس کی ہم تحسین کرتے ہیں ۔پچھلے سال اس کے خلاف احتجاجی آواز بلند کرنے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔اللہ کا شکر ہے کہ اس مرتبہ حکومت پنجاب نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔اصل مسئلہ اس قرارداد پر عمل درآمدکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت پنجاب اور پیمرا دونوں اس کو یقینی بنائیں گے۔ ایسے خصوصی ٹرانسمیشنز میں صرف جیداور مستند علماء کرام جو دینی درس گاہوں سے فارغ التحصیل ہوں،کی شرکت کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ایسے علماء اس علم کے حامل ہیں جس کا سلسلہ حضورﷺ سے صحابہ کرامؓ، تابعین و تبع تابعین سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔ہمارے اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں دینی تعلیم نام کو کوئی شے تو ہے ہی نہیں۔ان کے نصاب میں دینیات کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب رکھی گئی ہے جو ایک مذاق سے کم نہیں۔ بچوں کودینی تعلیم دینا نہ والدین اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور نہ ہمارا موجود نظام اسے ضروری سمجھتا ہے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے۔کارواں کے دل سے احساس زیاں ہی جاچکا ہے۔
سینیٹ میں کم عمری کی شاد ی پر پابندی کا بل پاس ہونا قابل مذمت ہی نہیں انتہائی شرمناک بھی ہے۔یہ شرعی معاملہ ہے جس کے خلاف بل پاس ہوا ہے۔  ۔آج کل کے حالات میں بچے جلد ہی بلوغت تک پہنچ جاتے ہیں۔بل میں کہا گیا ہے کہ 18سال سے کم عمر کے افرادکو بچہ قرار دیا جائے گا۔اس سے زیادہ کوئی بچگانہ اور شرمناک بات نہیں ہوسکتی ۔اسلامی تعلیمات تو یہ ہیں کہ جب لڑکا یا لڑکی بلوغت کی عمر کو پہنچے تو شادی میں تاخیر نہ کی جائے بلکہ یہاں تک آیا ہے کہ اگر تاخیر کے نتیجے میں بچے بے راہ روی کا شکار ہوں گے تو اس کا وبال والدین پر بھی ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کا سیکولر اور لبرل طبقہ ہمارے معاشرتی نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔یہ طبقہ اس مصرعے کے مصداق ہے کہ     ؎    چہ بے خبر بمقام محمد عربیست ۔ اللہ تعالیٰ کو تقاضا تویہی ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائو۔اللہ کو آدھا تیتر اور بٹیر والا معاملہ قبول نہیں۔وما علینا الا البلاغ۔