09:13 am
’’آئی ایم ایف‘‘ نے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لیں

’’آئی ایم ایف‘‘ نے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر لیں

09:13 am

٭’’آئی ایم ایف‘‘ نے آئی ایم ایف کی ساری شرائط منظور کر لیںO اس سال کوئی نیا ترقیاتی پروگرام پیش نہیں کیا جائے گاO سب دھوکے بازار، ہر جگہ جُھوٹ، خاتون ٹیچر دو جگہ تنخواہیں لیتی رہی۔ چیف جسٹس برہمO آٹھ ماہ میں کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس O وزیراعظم کی پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کے لئے لاہور میں آمدO تھرپارکر: مزید چار بچے مر گئے، اس سال مرنے والے بچوں کی تعداد 303 ہو گئیO شہباز شریف کی واپسی ڈاکٹروں کی اجازت سے مشروط O شریف خاندان نے دوبارہ نوازشریف کے علاج کا معاملہ نہیں اٹھایاO پنجاب اسمبلی کے 65 فیصد ارکان پارلیمانی قواعد سے ناواقف!
 
٭تمام اخبارات کی ایک جیسی سرخیاں!آئی ایم ایف کے نمائندوں نے ملک میں سٹیٹ بنک، ایف بی آر وفاقی بورڈ آف (ریونیو) اور خزانے کا نظام سنبھال کر آئی ایم ایف کی ساری شرائط مِن و عَن تسلیم کر لیں۔ اب کیا ہو گا؟ ملک کے غریب عوام پر کیا بیتے گی؟ مزاحیہ شاعر انور مسعودکا کلام یادآ رہا ہے جس میں بیمہ کمپنی والے ایک ’’شکار‘‘ کو اس کے لواحقین کی دیکھ بھال کے لئے یقین دلاتے ہیں کہ ’’آپ تسلی سے مر جائیں، باقی کام ہمارا ہے!‘‘ ہندی زبان کے بول ہیں ’’چڑھ جا بچہ سُولی پر رام بھلی کرے گا!‘‘ قارئین کرام! اس ملک کے ساتھ کیا کچھ ہوا، سب جانتے ہیں۔ سابق شریف حکومت نے قرضے لینے کے لئے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ہوائی اڈے، ٹیلی ویژن اور موٹر وے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے پاس گروی رکھ دیئے۔ پھر گوادر کی باری آئی۔ موجودہ حکومت نے ملک کا خزانہ، سٹیٹ بینک اور ایف بی آر پیش کر دیئے۔ لاکھوں قربانیوںکے بعد حاصل ہونے والے ملک کا یہ حال؟ اقتدار کا جو بھی ہوس پرست مگر مچھ قوم پر سوار ہوا، اس نے پہلے والے ستم گروں کو مات دے دی! اور رسمی سا اعلان ہوا ہے کہ وزیراعظم نے ہدائت کی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط نرم کرائی جائیں! کون کرائے گا؟ ایسا کرنے والو ںکو تو آپ نے تبدیل کر دیا! ’’ایسٹ انڈیا کمپنی، کے سامنے کون دَم مار سکے گا؟پھر وہی ماتمِ یک شہر آرزو!
٭ایک شائع شدہ خبر! پنجاب اسمبلی کے 65 فیصدارکان پارلیمانی قواعد سے ناواقف ہیں۔ قراردادیں پیش کرنے کے قواعد سے لاعلمی کے باعث اسمبلی میں 285 قراردادیں مسترد ہو چکی ہیں! اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ اسمبلی کی رکنیت کے لئے پڑھا لکھا ہونے کی کوئی پابندی ہی نہیں۔ پارلیمانی قواعدویسے بھی انگریزی میں لکھے ہوتے ہیں۔ ویسے ملک بھر کی تمام اسمبلیوں کے کسی رکن نے مکمل آئین پڑھا ہے؟ ایک رپورٹ کافی ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 156 ارکان میں سے صرف چار افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں!! دوسری پارٹیو ںکا حال اس سے بھی گیا گزرا ہے!
٭سپریم کورٹ میںایک خاتون کی ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل آئی۔ چیف جسٹس نے یہ جان کر سخت ریمارکس دیئے کہ یہ خاتون تین سال تک دو سرکاری ملازمتوں کی تنخواہیں لیتی رہی۔ محاسبہ ہوا تو سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سب دھوکے باز ہیں، ہر جگہ جھوٹ بولا جاتا ہے۔ تین سال تک دو جگہوں سے تنخواہ لی گئی! اس پر وکیل صفائی نے کہا کہ ساری تنخواہیں واپس کر دی گئی ہیں۔ وکیل نے عدالت کا موڈ دیکھ کر اپیل ہی واپس لے لی!
٭ملک بھر کے دفاتر میں بے شمار سکیورٹی گارڈوں کا نظام چل رہا ہے یہ گارڈ عام طور پر فوج کے ریٹائر ہونے والے بعض افسروں کی قائم کردہ سکیورٹی ایجنسیوںکے ہوتے ہیں۔ انہیں بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی پر صرف چھ سے آٹھ ہزار روپے ماہوار تنخواہ دی جاتی ہے، ہفتہ میں کوئی چھٹی نہیں ۔ کھانا اپنی جیب سے کھانا پڑتا ہے۔ علاج معالجہ کچھ نہیں اس پر ستم یہ کہ کئی کئی ماہ یہ معمولی تنخواہ بھی نہیں دی جاتی! گزشتہ روز داتا دربار لاہور کے باہر دھماکے میں دربار پر ڈیوٹی دینے والا جو گارڈ شہید ہوا، اسے پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی۔ (دوسرے گارڈوں کا بھی یہی حال تھا)۔ شہید ہونے والے گارڈ کی بیوہ نے حالت زار بیان کی تو اس کے مالکان نے پانچ ماہ کی تنخواہ ادا کر کے جان چھڑا لی! ستم یہ کہ ان بے چارے مظلوموںکی دادرسی کا کوئی نظام، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں!
٭شہباز شریف صرف 10 روز کے لئے لندن گئے تھے کہ وہاں دونوں بیٹوں کے نوزائیدہ بچوںکو دیکھنا اور اپنا رسمی طبی معائنہ کرانا تھا۔ یہ معائنہ ہو گیا۔ دس روز گزر گئے۔ واپسی نہ ہو سکی کہ اچانک کوئی ایسا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے جس کے علاج کے لئے لندن میں طویل عرصہ تک ٹھہرنا ضروری ہو گیا ہے۔ پھرمعائنے پر معائنے ! اب پھر اعلان آیا ہے کہ 16مئی کو ایک معائنہ ہو گا۔ اس کے بعد ڈاکٹراجازت دیں گے تو واپسی ہوگی! پتہ نہیں ملک سے باہر جاتے ہی سیاسی نوابوں کوایسی کون سی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیںکہ ڈاکٹر پرویز مشرف، اسحاق ڈار، عشرت العباد، ایان علی اور اب شہباز شریف کو ڈاکٹر واپس آنے کی اجازت ہی نہیں دیتے؟ ایان علی کے ذکر پر فردوس عاشق اعوان کا انکشاف یاد آیا ہے کہ بلاول زرداری اور ایان علی کا مشترکہ بنک اکائونٹ چل رہا ہے! وہ دوبار یہ بات بیان کر چکی ہیں، کوئی تردید نہیں آئی!
٭ ایک بزرگ کالم نگار نے سوال کیا ہے کہ شریف خاندان والوں نے بہت عرصہ ہنگامہ کئے رکھا کہ جیل میں نوازشریف کا علاج نہیں ہو رہا اور حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔ وہ چھ ہفتے کی رہائی کے دوران گھر پر رہے، گھر والوںنے کوئی علاج نہیں کرایا۔ اب پھر جیل میں 5 واں دن ہے مگر کسی طرف سے علاج کے بارے میں کوئی شکائت نہیں آ رہی!؟
٭معزز قارئین! میں ایک عجیب سے مسئلے سے دوچار ہوں۔ میں بہت عرصے سے گھرکی دیوار پر چڑیوں کے لئے ڈبل روٹی یا دوسری چیزوں کا تھوڑا سا چوغہ ڈال دیتا تھا۔ چار پانچ چڑیاں شام تک کھاتی رہتی تھیں۔ مگر کچھ عرصے سے حالات اچانک مختلف ہو گئے ہیں۔ ڈبل روٹی 50 روپے سے 65 روپے کی ہو گئی۔ چوغہ جاری رہا۔ اب ڈبل روٹی 90 روپے کی ہو گئی ہے، چوغہ تو پھر بھی جاری ہے مگر چڑیوں کی تعداد اک دم بہت بڑھ گئی ہے۔ اب کم از کم 25,20 چڑیاں آ دھمکتی ہیں۔ ’ناشتہ‘ ذرا لیٹ ہو جائے تو چُوں چڑ چُوں، کا شور مچا دیتی ہیں۔ سارا ناشتہ فوراً چٹ کر جاتی ہیں۔ اب دوبارناشتہ ڈالنا پڑتا ہے۔ چڑیوں کی تعداد کئی گنا ہو گئی ہے۔ ان کو کیسے بتایا جائے کہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے؟ ڈبل روٹی 90 روپے کی، خربوزہ 120 روپے کلو (ایک کلومیں صرف ایک دانہ) لیموں 400 روپے کلو، پکے ہوئے چنے کی پلیٹ 130 روپے کی ہو گئی ہے اور چڑیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے!
٭قرآن مجید سے عقیدت و محبت کا نادر مظاہرہ: انڈونیشیا کے ایک مسلمان شوف ولی اللہ نے برسوںکی محنت سے اعلیٰ قسم کی لکڑی سے ایک قرآن مجید تیار کیا ہے۔ تقریباً چھ فٹ بلند اور پانچ فٹ چوڑے لکڑی کے اوراق میں آیات کے الفاظ کھود کر ان میں سنہری رنگ بھرا گیا ہے۔ یہ دنیا بھر میں سب سے بڑا قرآن ہے۔ جکارتہ میں اسے دیکھنے کے لئے ہر وقت عقیدت مندوں کا بھاری ہجوم جمع رہتا ہے۔
٭قومی اسمبلی کی سب سے کمزور کشمیر کمیٹی کے پہلے اجلاس کی تصویرچھپی ہے۔ کمیٹی بہت عرصہ پہلے قائم ہوئی تھی۔اس کے نئے چیئرمین سید فخرامام ہیں۔ان کا خانیوال میں ڈیری کی مصنوعات کا بہت بڑا کارخانہ ہے۔ کچھ اندازہ نہیں کہ نئی کشمیر کمیٹی کیا کرے گی البتہ یہ کہ اس کا تقریباً پانچ کروڑ روپے سالانہ کا بجٹ ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان دس سال کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ کسی بھی کمیٹی کے واحد چیئرمین تھے جنہیں وزیر کا درجہ، شاندار وزارتی بنگلہ، چار اعلیٰ گاڑیاں اور 10 برسوں میں تقریباً 50 کروڑ کے فنڈز ملے۔ اس کمیٹی کی کارکردگی کیا رہی؟ آج تک کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ کمیٹی کا چیئرمین یا کوئی رکن کبھی آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر نہ گیا، کبھی آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کی طرف کوئی ریلی، کوئی جلسہ؟؟