06:46 am
سیرت فاطمہ اور شرم وحیاء

سیرت فاطمہ اور شرم وحیاء

06:46 am

حضرت سید ہ فاطمۃ ُ الزہرہ طاہرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سید دوعالم نبی اکرم  ﷺکی نور نظر لخت جگر ہونے کے ناطے جملہ صفات قدرتی طورپر آپ کی شخصیت مطہرہ کا جزلاینفک تھیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک با ر سرور کا ئنات ﷺنے حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے پو چھا ،سناؤ علی!شریک حیات کیسی ملی ؟ عرض کیا میری شریک حیات فاطمہ
حضرت سید ہ فاطمۃ ُ الزہرہ طاہرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سید دوعالم نبی اکرم  ﷺکی نور نظر لخت جگر ہونے کے ناطے جملہ صفات قدرتی طورپر آپ کی شخصیت مطہرہ کا جزلاینفک تھیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک با ر سرور کا ئنات ﷺنے حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے پو چھا ،سناؤ علی!شریک حیات کیسی ملی ؟ عرض کیا میری شریک حیات فاطمہ میری عبادت گزاری میں بہترین معاون ہیں۔حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جس طرح اﷲکی عبادت کو فریضہ سمجھتی تھی اسی طرح میری اطاعت بھی کرتی تھی۔ عبا دت وریاضت کے انتہائی سخت معمولات میں اس نے میری خدمت میں ذرہ بھر بھی فرق نہ آنے دیا،وہ ہمیشہ گھر کی صفائی کرتی،چکی پرگردوغبار نہ پڑھنے دیتی،صبح کی نما زسے پہلے بچھونہ تہہ کرکے رکھ دیتی گھر کے برتن صاف ستھرے ہوتے،ان کی چادر میں پیوندضرورتھی مگر وہ کبھی میلی نہیں ہوتی تھی،ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گھر میںسامان خوردونوش موجو د ہو اور انہوں نے کھانا تیا ر کرنے میں دیر کی ہو ،خو دکبھی پہلے نہ کھا تی ،زیور اور ریشمی کپڑوں کی کبھی فرمائش نہ کی،طبیعت میں بے نیازی رہی،جو ملتا اس میں صبر شکر کرتی،میری کبھی نافرمانی نہیں کی،اس لئے میں جب بھی فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کو دیکھتاتومیرے تمام غم غلط ہوجاتے‘‘
نقوش سیرت بطورماں :۔حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا جیسی ماں نے اولا د کی تربیت کا جو سبق دیاہے وہ ا س دنیا میں کون دے سکتا ہے ،جہاں فقر وزہد وعبا دت کی انتہا ہو جا تی ہے وہا ں اس مامتا کی تربیت کے پروردہ سادات کی ابتد اء ہو تی ہے،حضرت امام حسن رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہما ری والدہ ماجدہ پوری رات عبا دت میں گزاردیتیں اور دعا مانگتے ہوئے اپنا نام بھی نہ لیتی،یہ ہے خود غرضی سے پاک خالص رضائے الٰہی کی خاطر عبادت کی عملی تربیت۔
ماں اگرحضرت فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا جیسے کردارکی مالکہ ہو گی تو پھر سید ناحسن وحسین رضی اﷲتعالیٰ عنھمااور سید ہ زینب رضی اﷲعنہا جیسی مجاہدہ اور بہادر اولا د پید اہوگی جو وقت کی پکا ر پر طاغوتی سازشوں اور یزیدیوں کے مقابلے میں اپنے خون کاہدیہ دے کر دین کی شجر کو سرسبز وشاداب رکھے گی،یہی آغوش مادر تھی جس کے پرودہ جگر گوشے امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ،کسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والا صرف علم سے آشنا ہوتاجبکہ آغوش مادرکا کرداریہ ہے کہ یہاں سے فارغ ہونے والا علم کے ساتھ ساتھ عملی اور تربیتی پہلو ؤں سے مزین ہوتاہے۔
حضرت سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں ’’میں نے فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے بڑھ کر روزمرہ زندگی کے معمولات میں حضور نبی کریم ﷺسے مشابہ کسی کونہیں پایا۔(ترمذی) مراد یہ ہے کہ حضرت سید ہ فاطمہ الزہراء رضی اﷲتعالیٰ عنہا اپنے اخلاق،ذات،صفات ،عبادت وطاعت اور قول وفعل میں رسول خدا ﷺکے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ تھیں ۔ایسا کیوں نہ ہوتا،آپ رضی اﷲتعالیٰ عنہا بچپن سے لیکرآخری وقت تک حضور ﷺکے جتنی قریب رہی ہیں اس کا لازمی تقاضا بھی یہ تھا اور پھر آپ سے ہی حضور ﷺکا نسب مبارک آگے چلنا تھا۔اس لئے قدرت نے آپ کو رسالت محمدی ﷺکا مکمل پرتوبنادیا تھا۔یہی حالت سیدنا امام حسن،سیدناامام حسین رضی اﷲتعالیٰ عنہما اور بقیہ ائمہ اہل بیت کی تھی جس کوبھی دیکھیں وہ قول وعمل میں حضور ﷺکی مکمل شبیہ لگتا تھا۔
حضرت سید ہ فاطمہ الزہراء رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی پوری حیات مقدسہ بناوٹ ،تکلف اور زیب وزینت سے پاک تھی۔حتیٰ کہ عمدہ کھانے یازرق برق لباس پہنے کی بھی کبھی تمنا نہ ہوئی۔اس سلسلے میں بعض کتب سیر میں ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ایک بارحضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کوکسی تقریب میں جانا تھا،حضرت سیدہ فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کیلئے نیا لباس یادیگر سامان زیب وزینت نہ تھا۔دل میں خیال نہ آیا کہ مکہ کی رئیسہ اور بنو ہاشم کے چشم وچراغ کی اہلیہ ہوں،فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا اپنی ہم عمرسہیلیوں کوآراستہ وپیراستہ دیکھ کر احساس کمتری کاشکار نہ ہوجائے،یہ سوچ کر تقریب میں جانے کا پروگرام ملتوی کردیا،سیدہ فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہانے پوچھا ’’امی جان آپ کیوں نہیں جاتیں ؟فرمایا’’بیٹی !میںتمہیں اس حالت میں کیسے لے کرجاؤں؟عرض کرنے لگیں میرے سامنے اس سامان کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ مجھے اپنے والد بزرگوارنے فرمایاہواہے کہ’’مسلمان بیٹی کازیور تقویٰ اور پرہیز گاری ہے‘‘حضرت سید ہ طاہرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا بچپن سے ہی غیبت اور عیب جوئی سے نفرت کرتی تھیں۔ایک بارکچھ عورتیںاکٹھی ہوئیں اور حسب عادت دوسری عورتوں کی غیبت کرنا شروع کردی،آپ فوراً اُٹھ چلی گئیں۔
(جاری ہے)
سبب پوچھنے پرفرمایا۔’’میرے والدگرامی ﷺنے غیبت کرنے اور سننے سے منع فرمایاہے‘‘
حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺنے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ عورت کیلئے کون سی چیز بہترہے؟تمام صحابہ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اسی وقت سیدہ فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور آکر پوچھا:ترجمہ ’’کہ عورتوں کیلئے سب سے بہتر کیاچیز ہے؟سیدہ نے فرمایا کہ نہ وہ مردوں کودیکھیں اور نہ مردان کودیکھیں فرماتے ہیں میں نے سیدہ کاجو اب حضور ﷺسے عرض کیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کاٹکڑا ہے۔‘‘(دارقطنی)
نبی پاک ﷺ نے اس فرمان کے مطلب یہ ہے کہ وہ خوب سمجھتی ہیں اور ان کا جو اب بالکل درست ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا آخر وہ میراجز وبدن جو ہیں ۔نگاہوں سے نیچے رکھنے کاحکم تومردوعورت دونوں کیلئے تھا اس کے بعد خاص عورتوں کوچہرہ چھپانے کا حکم دیا گیا ارشاد ہو تا ہے ۔
 ترجمہ ’’اے نبی (ﷺ)اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنو ں کی عورتوں سے فرمادیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادرسے گھو نگھٹ ڈال لیا کریں اس سے ان کی پہچان ہوجا یا کرے گی اور ان کوستایا نہیں جائے گا۔‘‘
شرم وحیاء :۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’حیاء ایمان کاایک جزوہے اور ایماندار جنت میں جائے گا اور بے حیائی بدی سے ہے اور بدکار دوزخ میں جائے گی۔(ترمذی )
حضرت عمران حصین رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور  ﷺ نے فرمایا ’’حیاء ایمان دونوں لازم وملزوم ہیں جب ان دونوں میں سے ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا خودبخود اُٹھ جا تا ہے۔(مشکوٰۃ )
حضرت عبد اﷲبن مسعود ﷺفرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’یہ بات انبیائے سابقین کے کلام میں سے ہے’’کہ جب تو نے شرم وحیانہیں کی تواب جو تیرا دل چاہے کر‘‘(بخاری )
نبی کریم ﷺکے اوصاف حمیدہ میں ایک وصف یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺکنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرم وحیاء والے تھے۔
کنو اری لڑکیوں کی شرم وحیاء مشہو ر تھی چنا نچہ لوگ مثال دیا کرتے تھے فلاں تو کنو اری لڑکیوں کی طرح شرماتا ہے،لیکن آج کل اسکولوں، کالجوںمیں پڑھنے والی کنو اری لڑکیا ں اور لڑکے جو کچھ کررہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے (الاماشاء اﷲ)نامعلوم مسلمان قوم غیرت وشرافت اور شرم وحیاء کوچھوڑ کر کیوں بے غیرت وبے حیا ہوتی جا رہی ہے۔
حقیقت میں یہ ساری خرابی سینما بے پردگی اور آج کل کی تعلیم کی ہے ۔کتاب وسنت اوربزرگان دین کی مقدس زندگیوں کے حالات کی بجائے ہمارے پیش نظر ناول عشقیہ افسانے اورفلمی ستاروںکے حالات ہیںا سکولوں اور کالجوں میں ڈرامہ ،ناچ اور گانا وغیرہ بھی سکھایاجاتاہے۔ان چیزوں کے تاثرات کے خطرناک نتائج ہما رے سامنے ہیں خدا کرے کہ مسلمان بچے اور بچیاں ناولوں اور افسانوں کی بجائے کتاب وسنت اور بزرگان دین کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں اور والدین کی دینی تعلیم دلانے کا شوق ہو۔
جسم انسانی میں چونکہ سب سے زیادہ خوبصورت اور اعلیٰ مقام چہرہ ہوتا ہے اور چہرہ دیکھ کرہی قلبی میلان ہوتا ہے اسی لئے چہرہ کو چھپانے کا حکم دیا گیا تاکہ نہ کسی کی نظر پڑے اور نہ قلبی میلان ہو۔گھروں میں عام طور پر عورتیں بے تکلفی سے رہتی ہیں کیونکہ گھر میں کوئی غیر محرم نہیں ہوتا اس لئے اجنبی لوگوں کوحکم دیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے گھر بغیر اجازت نہ جائیں فرمایا:اگرکوئی ایسا موقعہ پیش آجائے کہ غیر محرم عورت سے کچھ پوچھنا ہویا لینا ہو تو فرمایا:’’اور جب تم عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو اس میں زیادہ پاکیزگی ہے تمہا رے دلوں کیلئے بھی ۔کیونکہ اس طرح تمہا ری نظر ان کے چہرے اور حسن وجما ل اور زینت وآرائش پر نہیں پڑے گی اور ان کی نظر تم پرنہیں پڑے گی اور مفاسد کے دروازے نہیں کھلیں گے اور قلوب ناپاک جذبات سے پاک رہیں گے ۔
حکایت فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا :۔حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے کسی بچہ نے کچھ مانگا تو آپ نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھادیا(فتح القدیر)حالانکہ حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ حضور ﷺکے خادم خاص تھے اور عزیزوں کی طرح آپ ﷺکے پاس رہتے تھے پھر بھی سیدہ نے ان سے پردہ فرمایا اور سامنے نہ ہوئیں ۔اﷲتعالیٰ کے ارشاد ’’من ورآء حجاب ‘‘اور سیدہ کے مبارک اور پاکیزہ عمل سے معلوم ہو ا کہ روبرو ہونا فتنہ کا موجب ہوسکتا ہے،یہ بھی معلوم ہواکہ بوقت ضرورت اجنبی مردعورتوں سے کوئی چیز وغیرہ لے سکتے اور گفتگو بھی کرسکتے ہیں اور عورتوں کوبھی بوقت ضرورت ان سے گفتگو کرنے کی اجازت ہے مگر اس میں یہ شرط ہے فرمایا ۔’’غیروں سے نرم ودلکش لہجہ میں بات نہ کرو،ورنہ جس کے دل میں بیما ری ہے،وہ تمہارا لالچ کرے گا ‘‘چونکہ عورت کی آواز میں قدرتی طور پر ایک نرمی اور حلاوت ونزاکت ہوتی ہے جواثر کئے بغیر نہیں رہتی ۔اس لئے اﷲتعالیٰ نے عورتو ں کو حکم دے دیاکہ غیر مردوں سے جب گفتگو کروتو نرم ونازک اور شیریں لہجہ اختیار نہ کروبلکہ اپنی الفاظ میں قدرسختی اور روکھا پن پیداکروتاکہ کوئی بدباطن غلط فہمی کاشکارہوکر تم سے کوئی امید وابستہ نہ کرے۔