06:47 am
ٹرمپ کانیافتنہ

ٹرمپ کانیافتنہ

06:47 am

ٹرمپ کی گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی حاکمیت تسلیم کرنے کی ٹویٹ نے دنیامیں ایک نیافتنہ پیداکردیاہے،
ٹرمپ کی گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی حاکمیت تسلیم کرنے کی ٹویٹ نے دنیامیں ایک نیافتنہ پیداکردیاہے،دراصل ٹرمپ نے یہ اعلان انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے کیااورنیتن یاہوکی انتخابی مہم میں اس کی کامیابی میں بڑاکرداراداکیاہے اور ’’باربرا‘‘جوبرکلے میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سینئرفیلواور انسپائیرنگ پاکستان نامی ایک ترقی پسندپالیسی یونٹ کے سربراہ ہیں کے مطابق"یہ ایک بڑا سرپرائز تھاجوہم نے نیتن یاہوکے گھرمیں بیٹھ کرسنا۔ہم یروشلم کے مقدس مقامات کے دورے پرامریکی وزیر ِخارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ تھے اوردن کے آخرمیں کام ختم کرنے سے پہلے ان کے اورنیتن یاہو کے بیان کے منتظر تھے۔ان دونوں نے پریس کانفرنس میں آنے میں خاصی دیرلگا دی جس پرہم سوچنے پرمجبورہو گئے کہ آیاٹرمپ کی ٹوئٹ نے انہیں بھی بری طرح چونکادیاہے۔ اگرایساہے تویہ نیتن یاہوکیلئے ایک خوشخبری تھی اورہم سے بات کرتے ہوئے ان کا پہلا جملہ تھا میں بہت خوش ہوں"۔
نیتن یاہواس فیصلے سے نہیں بلکہ اس کی ٹائمِنگ سے حیران ہوئے ہوں گے کیونکہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پراسرائیل کے حق کوتسلیم کرنے کامعاملہ ٹرمپ انتظامیہ میں کافی عرصے سے زیرغورتھااورحالیہ مہینوں میں اسرائیلی اہلکاراس کی منظوری کی پرزورکوششیں کررہے تھے۔دہائیوں سے امریکہ اوردنیا کے بیشترممالک گولان پراسرائیل کے قبضے کومسترد کرتے آرہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹرمیں درج اصول کے مطابق کوئی ملک کسی علاقے پرقبضہ کرکے اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتابلکہ اس کامستقبل مذاکرات سے طے ہوگامگرٹرمپ نے یہ صورتحال بدل دی ہے۔گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کاحق تسلیم کرکے دراصل ٹرمپ علاقے پراسرائیل کے قبضے کوتسلیم کررہے ہیں،اس کے بعددوسرے ممالک کوایسا کرنے سے روکنے کاان کے پاس کیاجوازہوگامثلا کرائمیا پرروس کا قبضہ۔دوسرایہ کہ انہوں نے کہاہے کہ وہ یہ فیصلہ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے کررہے ہیں یہاں ان کا مطلب ایران ہے۔ٹرمپ انتظامیہ اس بات پریقین رکھتی ہے کہ ایران اسرائیل کوہدف بنانے کیلئے شام کااستعمال کررہاہے اورگولان کی پہاڑیاں فرنٹ لائن پر ہیں۔
وائٹ ہائوس اورکانگریس کے کچھ ارکان کی یہی دلیل ہے اوراسرائیل بھی یہی دلیل دیتاآیاہے لیکن گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کے قبضے کوتسلیم کیے جانے سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اسرائیل پہلے سے ہی وہاں فوجی قبضہ جمائے ہوئے ہے اوراسرائیل شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔ایک طرف شام خانہ جنگی کے سبب کمزور پڑچکاہے اورایران امریکی پابندیوں سے متاثر ہوا ہے،جس کے بعداسرائیل کوامریکامیں اپنے دوستوں کی حمایت سے اپنی دھونس جمانے کاموقع مل رہاہے،دوسری جانب گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کے قبضے پرکھلے عام کوئی تنازع بھی نہیں ہے۔اس معاملے کواچھالاجائے تواسرائیل کے ساتھ ایران اوراس کے علاقائی اتحادی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔روس بھی اس ساری صورتحال سے خوش نہیں ہوگا۔
مقبوضہ غربِ اردن گولان کی پہاڑیوں سے مختلف ہے۔اس پراسرائیل نے1967میں قبضہ کیاتھالیکن یہاں فلسطینیوں کی بڑی آبادی ہے جوحقِ خودارادیت کا مطالبہ کررہی ہے ۔ بیس سال سے اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اوران مذاکرات کے حامیوں کوتشویش ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پراسرائیلی حق کے تسلیم سے غربِ اردن کے اسرائیل سے الحاق کامطالبہ زورپکڑ سکتا ہے۔یہ تشویش بے بنیادنہیں ہے کیونکہ نیتن یاہوکے دائیں بازوکے اتحادکے اراکان اس الحاق پر زوردے رہے ہیں۔خود نیتن یاہوکی سیاسی جماعت میں29میں سے28ارکان اس الحاق کی حمایت کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات لڑ رہے ہیں۔نیتن یاہوان 28ارکان میں شامل نہیں لیکن انہیں اپوزیشن کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات اورسخت مقابلے کاسامناتھااورانہوں نے یہ ظاہرکیاتھاکہ طاقت میں رہنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
گولان کے بارے میں ٹرمپ کے اس فیصلے سے یہ تاثرملتاہے کہ ان کی انتظامیہ امریکی پالیسی اسرائیل کے حق میں بدل رہی ہے۔ٹرمپ پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کر چکے ہیں اورانہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے کی فنڈنگ کم کردی ہے۔انتظامیہ نے فلسطینی مقتدرہ کوہرطرح کی امداد روک دی ہے اوران پردہشت گردوں کی مالی مدداورامن کی کوششوں کوتباہ کرنے کاالزام عائد کیا ہے۔ اگرفلسطینی اتھارٹی پیش کی جانے والی تجاویزکومسترد کرتی رہی توممکن ہے اس سے اسرائیل کے مؤقف کومزید تقویت ملے گی تاہم اس منصوبے کیلئے عرب ممالک کی تائید ضروری ہوگی جو کافی عرصے سے اسرائیل کے زیرِ تسلط علاقوں کی واپسی کے خواشمند ہیں۔بہت سے ممالک نے مسئلہ فلسطین کی بجائے ایران سے مبینہ خطرے کے پیشِ نظرٹرمپ کے امن معاہدے کی حمایت ظاہر کرنے کااشارہ دیاہے لیکن ٹرمپ کے گولان کے بارے میں بیان کے باعث وہ عوامی سطح پرمشکل صورتحال کا شکارہوجائیں گے۔