07:14 am
سیرت فاطمہ اور شرم وحیاء 

سیرت فاطمہ اور شرم وحیاء 

07:14 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
سبب پوچھنے پرفرمایا۔’’میرے والدگرامی ﷺنے غیبت کرنے اور سننے سے منع فرمایاہے‘‘
حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺنے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ عورت کیلئے کون سی چیز بہترہے؟تمام صحابہ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اسی وقت سیدہ فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور آکر پوچھا:ترجمہ ’’کہ عورتوں کیلئے سب سے بہتر کیاچیز ہے؟سیدہ نے فرمایا کہ نہ وہ مردوں کودیکھیں اور نہ مردان کودیکھیں فرماتے ہیں میں نے سیدہ کاجو اب حضور ﷺسے عرض کیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر
کاٹکڑا ہے۔‘‘(دارقطنی)
نبی پاک ﷺ نے اس فرمان کے مطلب یہ ہے کہ وہ خوب سمجھتی ہیں اور ان کا جو اب بالکل درست ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا آخر وہ میراجز وبدن جو ہیں ۔نگاہوں سے نیچے رکھنے کاحکم تومردوعورت دونوں کیلئے تھا اس کے بعد خاص عورتوں کوچہرہ چھپانے کا حکم دیا گیا ارشاد ہو تا ہے ۔ ترجمہ ’’اے نبی (ﷺ)اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنو ں کی عورتوں سے فرمادیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادرسے گھو نگھٹ ڈال لیا کریں اس سے ان کی پہچان ہوجا یا کرے گی اور ان کوستایا نہیں جائے گا۔‘‘
شرم وحیاء :حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’حیاء ایمان کاایک جزوہے اور ایماندار جنت میں جائے گا اور بے حیائی بدی سے ہے اور بدکار دوزخ میں جائے گی۔(ترمذی )
حضرت عمران حصین رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور  ﷺ نے فرمایا ’’حیاء ایمان دونوں لازم وملزوم ہیں جب ان دونوں میں سے ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا خودبخود اُٹھ جا تا ہے۔(مشکوٰۃ )
حضرت عبد اﷲبن مسعود ﷺفرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’یہ بات انبیائے سابقین کے کلام میں سے ہے’’کہ جب تو نے شرم وحیانہیں کی تواب جو تیرا دل چاہے کر‘‘(بخاری )
نبی کریم ﷺکے اوصاف حمیدہ میں ایک وصف یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺکنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرم وحیاء والے تھے۔
کنو اری لڑکیوں کی شرم وحیاء مشہو ر تھی چنا نچہ لوگ مثال دیا کرتے تھے فلاں تو کنو اری لڑکیوں کی طرح شرماتا ہے،لیکن آج کل اسکولوں، کالجوںمیں پڑھنے والی کنو اری لڑکیا ں اور لڑکے جو کچھ کررہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے (الاماشاء اﷲ)نامعلوم مسلمان قوم غیرت وشرافت اور شرم وحیاء کوچھوڑ کر کیوں بے غیرت وبے حیا ہوتی جا رہی ہے۔ 
حقیقت میں یہ ساری خرابی سینما بے پردگی اور آج کل کی تعلیم کی ہے ۔کتاب وسنت اوربزرگان دین کی مقدس زندگیوں کے حالات کی بجائے ہمارے پیش نظر ناول عشقیہ افسانے اورفلمی ستاروںکے حالات ہیںا سکولوں اور کالجوں میں ڈرامہ ،ناچ اور گانا وغیرہ بھی سکھایاجاتاہے۔ان چیزوں کے تاثرات کے خطرناک نتائج ہما رے سامنے ہیں خدا کرے کہ مسلمان بچے اور بچیاں ناولوں اور افسانوں کی بجائے کتاب وسنت اور بزرگان دین کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں اور والدین کی دینی تعلیم دلانے کا شوق ہو۔جسم انسانی میں چونکہ سب سے زیادہ خوبصورت اور اعلیٰ مقام چہرہ ہوتا ہے اور چہرہ دیکھ کرہی قلبی میلان ہوتا ہے اسی لئے چہرہ کو چھپانے کا حکم دیا گیا تاکہ نہ کسی کی نظر پڑے اور نہ قلبی میلان ہو۔گھروں میں عام طور پر عورتیں بے تکلفی سے رہتی ہیں کیونکہ گھر میں کوئی غیر محرم نہیں ہوتا اس لئے اجنبی لوگوں کوحکم دیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے گھر بغیر اجازت نہ جائیں فرمایا:اگرکوئی ایسا موقعہ پیش آجائے کہ غیر محرم عورت سے کچھ پوچھنا ہویا لینا ہو تو فرمایا:’’اور جب تم عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو اس میں زیادہ پاکیزگی ہے تمہا رے دلوں کیلئے بھی ۔کیونکہ اس طرح تمہا ری نظر ان کے چہرے اور حسن وجما ل اور زینت وآرائش پر نہیں پڑے گی اور ان کی نظر تم پرنہیں پڑے گی اور مفاسد کے دروازے نہیں کھلیں گے اور قلوب ناپاک جذبات سے پاک رہیں گے ۔
حکایت فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا :۔حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے کسی بچہ نے کچھ مانگا تو آپ نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھادیا(فتح القدیر) حالانکہ حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ حضور ﷺکے خادم خاص تھے اور عزیزوں کی طرح آپ ﷺکے پاس رہتے تھے پھر بھی سیدہ نے ان سے پردہ فرمایا اور سامنے نہ ہوئیں ۔اﷲتعالیٰ کے ارشاد ’’من ورآء حجاب ‘‘اور سیدہ کے مبارک اور پاکیزہ عمل سے معلوم ہو ا کہ روبرو ہونا فتنہ کا موجب ہوسکتا ہے،یہ بھی معلوم ہواکہ بوقت ضرورت اجنبی مردعورتوں سے کوئی چیز وغیرہ لے سکتے اور گفتگو بھی کرسکتے ہیں اور عورتوں کوبھی بوقت ضرورت ان سے گفتگو کرنے کی اجازت ہے ۔