07:18 am
روزہ اور اس کا فلسفہ

روزہ اور اس کا فلسفہ

07:18 am

 آج ہم سورۃ البقرۃ کے23 ویں رکوع پر گفتگو کریں گے  جوروزے کے حوالے سے قرآن حکیم کا بہت جامع مقام ہے۔ رمضان المبارک کے روزے کیوں فرض کیے گئے‘ اس کی حکمت اور غرض و غایت کیا ہے‘ اس کے احکام کیا ہیں‘ آیا یہ روزے صرف مسلمانوں پر فرض کیے گئے یاپہلی اقوام پر بھی فرض کیے گئے تھے‘روزے کا اصل حاصل کیا ہے‘یہ تمام موضوعات قرآن مجید کے اس مقام پر سمیٹ دیے گئے ہیں۔ 
 
 اگر ہم اپنے ذہن میں وہ حدیث رکھیں جس میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں:’’روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا‘‘(صحیح بخاری) تو اس درجے کی مستند عبادت کے لیے رمضان المبارک کو منتخب فرمانے میں بھی کوئی حکمت ہے ۔ اس حکمت کو بھی اسی رکوع (آیت 185)میں بیان کردیا گیا:’’(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک میں جو قرآن نازل فرمایا‘اس کی بنیاد پر روزے جیسی افضل عبادت اس مہینے میں فرض کی گئی۔ پھر اسی ماہ میں      لیلۃ القدر ہے جس میں قرآن آسمانِ دنیا تک نازل ہوا اور اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی مسلسل عبادت پر بھاری ہے۔ ہم نے صرف 27 ویں شب کو لیلۃ القدر تسلیم کرلیا ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہؓ  فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ لیلۃ القدر کو ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ اس طرح کم سے کم رمضان کی پانچ راتیں تو ایسی ہیں جن کے بارے میں گمان ہوسکتا ہے کہ وہ لیلۃ القدرہے۔
آج رمضان ، قرآن اور تمام عبادات کے ساتھ ایک مسلمان کا تعلق صرف ظاہر کی حد تک رہ گیا ہے اور انسان کا باطن اس تعلق سے محروم ہے۔رمضان المبارک کے مہینے میں آپ کو مساجد کے اندر جو رونق نظر آتی ہے وہ رمضان کے بعد نظر نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں ہمیں اپنی نفسانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھنے کی مشق کرائی ہے تو اس کا تسلسل بر قرار رہنا چاہیے۔افسوس کا مقام ہے کہ اکثر و بیشتر معاملات میں یہ اثرات صرف ظاہر میںہوتے ہیں اور باطن خالی رہتا ہے۔ 
رہ گئی رسم اذاں، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی
 یہ عبادت صرف مسلمانوں پر فرض نہیں کی گئی‘ بلکہ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے اور ان کے ہاںتو روزے کے احکامات بڑے سخت تھے۔ رات کو جیسے ہی آنکھ لگ گئی تو روزے کا دورانیہ شروع ہو گیا۔ اب وہ روزہ چلے گا مسلسل پوری رات بھی اور اگلا پورا دن بھی اور پھر غروبِ آفتاب پر جا کر افطارکا وقت ہوگا۔اس طرح ان کے روزے کا دورانیہ ہمارے دور انیے سے کم ازکم بھی ڈیڑھ یا پونے دو گنا زیادہ تھا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور بڑا انعام ہے ہم پر کہ اُس نے ان احکامات میں ہمارے لیے تخفیف کردی۔لیکن ایک چیز دونوں میں مشترک ہے کہ روزے کی فرضیت کا اصل مقصد تقویٰ کا پیدا ہونا ہے۔
 نماز صرف ایک فزیکل ایکسرسائز نہیںہے۔  ڈاکٹر حضرات نماز کے ہر رکن کے جسمانی فوائد بھی بتائیں گے، لیکن اس کا اصل مقصد ’’اللہ کی یاد‘‘ ہے۔ اسی طرح روزے کی اصل روح تقویٰ ہے۔ آپ نے 16گھنٹے کا طویل روزہ رکھا ہے‘ لیکن اگر تقویٰ اور خدا خوفی کا احساس پیدا نہ ہواتو اس روزے کا کوئی حاصل نہیںہے۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: 
’’ جو شخص (روزہ رکھ کر) جھوٹی بات بنانا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ ‘‘  (سنن ابو دائود)
حضور ﷺ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ جس شخص کے اندر تقویٰ پیدا نہ ہو اس کا روزہ نہیں، لیکن آپؐ نے خاص طور پر فرمایا کہ جو شخص بھی روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور گناہوں پر عمل کرنا ترک نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو قطعاً کوئی غرض نہیں ہے کہ وہ صبح سے شام تک بھوکا پیاسا بیٹھا رہے۔ اس حدیث میں جن دو چیزوں کی نشاندہی کی گئی ان میں ایک جھوٹ بولنا ہے، اور یہ بہت عام ہے۔ اس معاشرے میں اگر آپ جھوٹ پکڑنے کی کوئی مشین نصب کریں تو معلوم ہوگا کہ یہاںکتنے بڑے پیمانے پر جھوٹ بولا جاتا ہے۔ 
دوسری بات آپﷺ نے یہ فرمائی کہ جو جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے۔اس میں ہر نوع کا منکر اور گناہ شامل ہے۔ اس میں بے حیائی بھی آ گئی ، فحش گفتگو بھی آ گئی، گالم گلوچ بھی آ گئی‘ وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت بھی آگئی۔اب جو شخص روزے کی حالت میںان باتوں پر عمل کرنا ترک نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے سے کوئی غرض نہیں۔یہ بڑے سخت الفاظ ہمیں جھنجوڑنے کے لیے ہیں،جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے روزے کے ظاہر پر پوری توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کن چیزوںسے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے‘ کن سے ٹوٹ جاتا ہے‘ کن سے قضا لازم آتی ہے اور کن سے کفارہ لازم آتا ہے لیکن روزے کی روح یعنی تقویٰ کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔
 ہم میں سے اکثر کا معاملہ یہ ہے کہ ہم نے نمازکے ظاہری ڈھانچے کو توبرقرار رکھا ہوا ہے‘لیکن نماز کی روح سے ہم بالکل عاری ہیں۔ ہم قرآن تو پڑھتے ہیں لیکن جن چیزوں سے قرآن روک رہا ہے ان سے رکنے کو ہم تیار نہیں ہیں ‘اوردوسری طرف ہم اس تلاوت پر ثواب کے امیدوار بھی ہیں۔ اس بارے میں مولانا یوسف بنوریؒ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص قرآن حکیم کی تلاوت کر کے ثواب کے بڑے ڈھیر جمع کر لے‘لیکن قرآن حکیم کی حرام کی ہوئی شے کو اپنے لیے جائز قرار دینا‘قرآن نے جن چیزوں سے منع کیا ہے۔
(جاری ہے)
 ان پر عمل پیرا ہونا‘قرآن حکیم کی تفہیم اور اس کی تدریس سے غافل ہونا‘ قرآن کو سمجھ کر نہ پڑھنا‘ یہ اتنے بڑے گناہ ہیں کہ ان کے مقابلے میں نیکیوں کا پلڑا ممکن ہے نیچے رہ جائے۔ اسی طرح روزے کا معاملہ ہے کہ ہم اس کی برکات کے امیدوار تو ہیں لیکن جھوٹ سے، غیبت سے اور دوسری برائیوں سے باز آنے والے نہیں ہیں۔
 یہ آدم زاد دو چیزوں کا مرکب ہے ۔ ایک اس کا حیوانی وجود ہے جو کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔ انسان اگر شرم و حیا کو اتار کر پھینک دے تو کوئی حیوان‘ حیوانیت میں انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت ہے اورپرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کے سب سے بڑے گواہ ہیں۔ ایسی ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ آدمی تصور نہیں کر سکتا کہ کوئی انسان یہ کام کر سکتا ہے۔ واقعتا حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہیں اور انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے: ’’پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف‘‘۔گویا شرفِ انسانیت کا لبادہ اتار کے پھینک دیا اور مکمل حیوان بلکہ حیوان سے بھی گئے گزرے بن گئے۔
دوسری طرف ایک ہمارا روحانی وجود ہے جس کے بارے میں سورۃ التین میں ہی فرمایا گیا:’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا‘‘۔احسن تقویم اور اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر ایک روح موجود ہے جس کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے: ِ ’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔آپؐ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے ‘‘ ۔ یہ روح ہی ہے جو ہمیں باقی حیوانات سے ممیز کرتی ہے اور اسی روح ربانی کی وجہ سے ہمارے اندر نیکی اور بدی کی تمیز پیدا ہوئی ہے اور اسی وجہ سے ہمارے اندر ایک ضمیر نامی شے ہے جس کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا تمہارے اندر ایک مفتی اللہ نے پیدا کر رکھا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط‘ لہٰذا اپنے دل کے مفتی سے پوچھ لیا کرو۔
 ہمارے خاکی وجود کو زندہ رہنے کے لیے ہوا‘ پانی اورخوراک چاہیے۔ ان میں سے کسی ایک کو سلب کر لیں تو ہماری موت واقع ہو جائے گی۔ اسی طرح ہمارے روحانی وجود کو بھی خوراک کی ضرورت ہے‘لہٰذا ہمیں اپنی روح کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ وہ روح اگر کہیں بالکل لاغر ہو چکی ہے یاسسک رہی ہے، ہمارے حیوانی تقاضے اس درجے غالب آگئے ہیں کہ روح کو اندر سانس لینے اور اپنے رب سے تعلق قائم کرنے کا موقع نہیں مل رہا تو اس روح کو  زندۂ جاوید رکھنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اس      ماہ مبارک میں ہمیں موقع میسر آتا ہے کہ ہم اپنی روح کا اپنے رب کے ساتھ ایک تعلق قائم کرلیں۔
 ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں حیوانی وجود کی تو خوب فکر ہے اور اگر اسے تھوڑا سا بھی کوئی مسئلہ ہوجائے تو اس کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیںلیکن اس روحانی وجود کی ہمیںکوئی فکر نہیں ہوتی جس کا تعلق ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ خاص اس ماہِ مبارک میں ہمیں موقع ملتا ہے کہ اپنے روحانی وجود کا تعلق پھر سے اپنے رب کے ساتھ جوڑ لیں۔ اس کے لیے رمضان میں دو آتشی پروگرام ہے: دن بھر روزہ رکھنا اور رات کا ایک بڑا حصہ قرآن حکیم کے ساتھ بسر کرنا۔ بیس تراویح پڑھنا تو کم سے کم نصاب ہے جبکہ قیام اللیل کا اصل اطلاق ایک تہائی رات، نصف رات یا دو تہائی رات پر ہوتا ہے۔اگر رات کا اتنا حصہ قرآن کے ساتھ بسر کریں گے تو کل قیامت کے دن قرآن ہماری شفاعت کرے گا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’روزہ اور قرآن (قیامت کے روز) بندے کے حق میں شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا : اے ربّ! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے پینے اور خواہشاتِ نفس سے روکے رکھا‘ تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! اور قرآن یہ کہے گا کہ اے پروردگار! میں نے اسے رات کے وقت سونے(اور آرام کرنے ) سے روکے رکھا‘ لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! چنانچہ (روزہ اور قرآن) دونوں کی شفاعت بندے کے حق میں قبول کی جائے گی(اور اس کے لیے جنت اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا)۔‘‘(بیہقی)
قرآن کے ساتھ رات بسر کرنے کے لیے ہم نے ایک اجتماعی نظام دورۂ ترجمہ قران کی شکل میں وضع کیا ہے ، جو لوگوں کے نزدیک بڑا اچھا ہے اور بہت سے لوگ اس سے بڑی سہولت محسوس کرتے ہیں۔ ایک مہینے میں پورا قرآن ترجمے کے ساتھ آپ پڑھیں گے تو اس کی برکات لازماً ظاہر ہوں گی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص رات کی تنہائی میں قرآن پڑھ رہا ہے‘ قرآن کا ترجمہ دیکھ رہا ہے اور قرآن پر غور و فکر کر رہا ہے‘ اللہ سے دعا کر رہا ہے کہ اے پروردگار اس قرآن کو میرا ہادی اور راہ نما بنا دے ،تو یہ بھی بہت ہی اجر و ثواب اور با برکت کام ہے۔ الغرض اگر اس ماہ مبارک میں دن کا صیام اور رات کا قیام ہو تو رمضان کا پروگرام مکمل ہو گا اور پھر رمضان کی برکات کا حصول ہو گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجھے‘آپ کو اور پوری امت مسلمہ کو مکمل آداب کی رعایت رکھتے ہوئے دن کے صیام اور رات کے قیام کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی پیدا فرمادے ، اور ہمیں سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں مساجد کو آباد کرنے والا اور حرام سے بچنے والا بنا دے۔آمین یارب العالمین!