07:18 am
 اللہ کے راستے میں دل کھول کر خرچ کیجئے

اللہ کے راستے میں دل کھول کر خرچ کیجئے

07:18 am

قرآن و حدیث کے مطالعہ سے اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق فضائل اتنی کثرت سے سامنے آتے ہیں کہ انکو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مال و دولت پاس رکھنے کی شئے ہی نہیں ، بلکہ یہ پیدا کر کے انسان کو دیا ہی اسلئے گیا ہے کہ اس کو اﷲ کے راستہ میں خرچ کرے ، جتنی کثرت کے ساتھ انفاق فی سبیل اﷲ کے فضائل وارد ہوئے ہیں ان سب کا اگر احاطہ کیا جائے تو اس کیلئے تو ایک عظیم دفتر کی ضرورت ہے، اس مختصر مضمون میں تو ان سب کا احاطہ ممکن نہیں بطور نمونہ چند آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ ہدیۂ قارئین ہیں۔
 
قرآن کریم میں سورۃ البقرہ کے بالکل آغاز میں جہاں قرآن کریم اپنے امام رشد و ہدایت ہونے کا اعلان کرتا ہے وہیں ان خوش نصیب لوگوں کا بھی تذکرہ کرتا ہے جن کو قرآن کریم سے کما حقہٗ فائدہ ہوتا ہے، اور وہ متقین ہیں، اور متقین کی جو صفات قرآن مجید نے ذکر فرمائی ہیں ان میں تیسرے نمبر پر انفاق فی سبیل اﷲ کو ذکر فرمایا گویا قرآنی ہدایت  سے استفادہ کرنے والی متقین کی جماعت کی شان امتیازی یہ ہے کہ من جملہ دیگر صفات مذکورہ کے وہ اﷲ کے راستے میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں، اور اس خرچ میں وہ کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتے سورۃ البقرہ  میں ارشاد ہے ۔ ترجمہ اور تم لوگ اﷲ کے راستے میں خرچ کیا کرو  اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں نہ ڈالو اور (خرچ وغیرہ) اچھی طرح کیا کرو، بے شک اﷲ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔
اس آیت کی تفسیر مشہور صحابی حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کا مطلب یہ ہے کہ فقر کے ڈر سے اﷲ کے راستے میں خرچ کا چھوڑ دینا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اﷲ کے راستے میں قتل ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ اﷲ کے راستے میں خرچ کرنے سے رک جانا ہے، سورۃ البقرہ میں ہی ایک اور جگہ ارشاد ہے: یسئلونک ماذا ینفقون قل العفو۔ آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ خیرات میں کتنا خرچ کریں، آپ فرما دیجئے کہ جتنا (ضرورت سے) زائد ہو۔
اس آیت کی تشریح میں حضرت ابو امامہؓ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں اے انسان جو تجھ سے زائد ہے اس کو تو خرچ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے، اور تو ا س کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لئے برا ہے،  اور بقدر ضرورت پر کوئی ملامت نہیں اور خرچ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کر کہ جو تیرے عیال میں ہیں اور اونچا ہاتھ یعنی دینے والا بہتر ہے اس ہاتھ سے جو نیچے ہے یعنی لینے والا، سورہ البقرہ  میں اﷲ کے راستہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ایک اور عجیب انداز میں دی گئی ہے ارشاد ہے۔ترجمہ :کون ہے ایسا شخص جو اﷲ جل شانہ کو قرض دے اچھی طرح قرض دینا پھر اﷲ اسکو بڑھا کر بہت زیادہ کرے( اور خرچ کرنے سے تنگی کا خوف نہ کرو) کیونکہ اﷲ جل شانہ ہی تنگی اور فراخی کرتے ہیں( اسی کے قبضے میں ہے) اور اس کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
اس آیت کریمہ میں اﷲ کے راستے میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر کیا گیا اسلئے کہ جس طرح قرض کی واپسی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح اﷲ کے راستے میں خرچ کرنے کا اجر و ثواب اور بدلہ ضرورملتا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضرت ابوالاحداح انصاری ؓ  حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ اﷲ جل شانہ ہم سے قرض مانگتے ہیں ۔ حضور اقدسﷺ نے فرمایا بے شک وہ عرض کرنے لگے اپنا دست مبارک مجھے پکڑا دیجئے تاکہ میں آپ کے دست مبارک پر ایک عہد کروں حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا تو انہوں نے معاہدے کے طور پر آپ کا ہاتھ مبارک پکڑ کر عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ میں نے اپنا باغ اپنے اﷲ کو قرض دے دیا ان کے باغ میں چھ سو درخت کھجور کے تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے بھی رہتے تھے۔ گویا معاش کا دارومدار ہی اس باغ پر تھا یہاں سے اٹھ کر اپنے باغ میں تشریف لے گئے اور اپنی بیوی ام دحداحؓ کو کہا کہ چلو اس باغ سے نکل چلو، یہ باغ میں نے اپنے رب کو دے دیا ہے، آنحضرت ﷺ نے اس باغ کو چند یتیموں پر تقسیم فرما دیا۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ من جاء بالحسنہ فلہ عشر امثالھا کہ جو ایک نیکی کرے گا اسکو دس گنا ثواب ملے گا، تو حضورﷺ نے دعا فرمائی کہ یا اﷲ میری امت کا ثواب اس سے بھی زیادہ کر دے پھر یہ آیت اتری من ذالذی یقرض اﷲ ، حضورﷺ نے پھر دعا فرمائی کہ یا اﷲ میری امت کا ثواب اور بھی زیادہ کر، تو پھر مثل الذین ینفقون اموالھم الخ
’’جو لوگ اپنے مالوں کو اﷲ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک دانہ ہو جس میں سات بالیں اگی ہوں اور ہر بال میں سو دانے ہوں، تو ایک دانے سے سات سو دانے مل گئے، اور اﷲ تعالیٰ جس کو چاہیں زیادہ عطا فرمائیں۔
حضورﷺ نے پھر دعا فرمائی کہ اﷲ میری امت کا ثواب اور بھی زیادہ کر دے اس پر یہ آیت اتری انما یو فی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔ کہ صبر کرنے والوں کو پورا پورا دیا جائیگا جو بے حدو حساب ہو گا ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک فرشتہ ندا کرتا ہے کون ہے جو آج قرض دے اور کل پورا پورا بدلہ لے لے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا جب تک کہ حساب کا فیصلہ یعنی قیامت کے دن جب آفتاب سوا نیزہ پر ہو گا اور کسی چیز کا سایہ بھی نہ ہو گا تو ایسے سخت وقت میں ہر شخص اپنے صدقات کی مقدار سے سایہ میں ہو گا جتنا زیادہ صدقہ  دنیا میں کیا ہو گا اتنا ہی زیادہ سایہ ہو گا ایک حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ قبر کی گرمی کو دور کرتا ہے اور ہر شخص قیامت کے دن اپنے صدقہ سے سایہ حاصل کرے گا ایک حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے  ایک حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ اﷲ جل شانہ کے غصہ کو دور کرتا ہے اور بری موت سے حفاظت کرتا ہے ایک حدیث میں ہے کہ صدقہ عمرکو بڑھاتا ہے، اور بری موت کو دور کرتا ہے اور تکبر اور فخر کو مٹاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں