07:20 am
قومے فروختندو چہ ارزاں فروختند!

قومے فروختندو چہ ارزاں فروختند!

07:20 am

٭قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند! چھ ارب ڈالروں کا نیا طلائی پنجرہ تیار ہو گیا! ملک کا سارا مالیاتی نظام آئی ایم ایف کے حوالے اسٹیٹ بینک کا سابق گورنر طارق باجوہ اور وزیرخزانہ اسد عمر آئی ایم ایف کی سخت شرائط کی مزاحمت کر رہے تھے، آئی ایم ایف نے قرضہ لٹکا دیا، اس کے حکم پر ان دونوں افراد کو چندسطری احکام کے ذریعے فارغ کر دیا گیا اور آئی ایم ایف کے موجودہ اور سابق ملازموں کو ان اداروں پر بٹھا دیا گیا۔ فوراً قرضہ منظور ہو گیا۔ چھ ارب ڈالر! اکٹھے نہیں، 39 مہینوں میں ہر ماہ 15 کروڑ 38 لاکھ ڈالر (22 ارب روپے) ملا کریں گے۔ اس کے لئے ہر ماہ آئی ایم ایف کو اس رقم کے استعمال کی رپورٹ پیش کرنا ہو گی۔ بہت سی روح فرسا شرائط خبروں کے صفحات میں موجود ہیں۔ بقول بابا ظہیر کاشمیری، غلاموںکے کوئی حقوق نہیں ہوتے، اس لئے کہ انہیں اپنی غلامی کا شعور ہی نہیں ہوتا۔ امریکہ میں کچھ عرصہ پہلے افریقہ سے لائے جانے والے سیاہ فام غلاموں کی نسلی تحقیق کے بارے میں مشہور ناول ’رُوٹس‘ (Roots) پر ایک ٹیلی ویژن نے دستاویزی فلم دکھانا شروع کی تو امریکہ سمیت دُنیا بھر میں اسے دیکھنے کے لئے سیاہ فام ملکوں میں سارا کاروبار بند ہوجاتا تھا۔ اس فلم کا مرکزی کردار افریقہ سے لایا گیا ایک سیاہ فام امریکی کردار تھا۔ وہ ناول میں بیان کرتا ہے کہ اس کا آقا اس سے بارہ گھنٹے سخت کام لیتا اور اتنی غذا دیتا تھا جس سے وہ زندہ رہ کر محنت کر سکے۔ وہ دوبار اس غلامی سے فرار ہوا، ہر بار پکڑا گیا۔ بالآخر اس نے تسلیم کر لیا کہ غلامی اس کا ازلی مقدر ہے، وہ اس سے باہر نہیں جا سکتا۔ قارئین کرام! غلاموں کے اس آقا کا نام ’آئی ایم ایف‘ رکھ دیں۔ وضاحت کی ضرورت نہیں پڑے گی! ’’بندہ مکڑی، ہَتھ وِچ لکڑی، تولے تکڑی! کردا سلام! نام جپو۔ مولا نام نام نام!‘‘
 
٭قارئین کرام: میں نے تقریباً 53 سالہ صحافت میںبہت سے دور دیکھے۔ بڑے بڑے ناموروں سے ملاقاتیں رہیں۔ بہت کچھ دیکھا سنا! بہت سے سکینڈل، خزانے کی بار بار لوٹ مار! بیرون ملک اثاثے، بہت کچھ پڑھا اور لکھا! بہت سی باتیں ہیں۔ میں صرف پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول زرداری کو کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں جو شائد اس کے علم میں نہ ہوں! سنو بلاول! تم نے گزشتہ روز طنزاً کہا کہ پرویز مشرف کے لوگ حکومت میں شامل ہیں۔ یہ بات درست ہے مگر برخوردار! کسی نے تمہیں کبھی نہیںبتایا کہ 1988ء میں (جب تم اس سال ابھی پیدا ہی ہوئے تھے) تمہاری والدہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو ضیاء الحق کے فوجی وزیرخارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں کو اپنا وزیرخارجہ مقرر کرنا پڑا اور فوج کی شرائط ماننا پڑیں کہ وہ کبھی فوج کے ہیڈ کوارٹر اور کہوٹہ لیبارٹری نہیں جائیں گی۔ (وہ نہیں گئیں) یہی نہیں، جس جنرل اسد درانی نے ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے اور انجام تک پہنچانے میں جنرل ضیاء الحق کا بھرپور ساتھ دیا تھا اسے بے نظیر بھٹو نے جرمنی میں اپنی حکومت کا سفیر بنا دیا اور ہاں برخوردار کیا کسی نے یہ بھی بتایا کہ تمہارے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر جس شخص نے راولپنڈی میںمٹھائی بانٹی اور پھر ضیاء الحق کی موت پر اپنے گھر میں اس کا چہلم منایا، اسے تمہارے والد صاحب کی صدارت کی زیر کمان پیپلزپارٹی کی کابینہ میں وزیر رکھ لیا گیا تھا۔!
چلیں چھوڑیں یہ سیاسی باتیں ہیں۔ ساری سیاسی پارٹیاں ایسی چال بازیوں سے آلودہ ہیں۔ میں تم سے ایک اہم سوال پوچھنا چاہتا ہو ںکہ کیا تم جانتے ہو کہ سوئٹزرلینڈ کی ایک عدالت کے جج ’’ریوڈیس چاڈرونیرس‘‘ نے کس جرم میں 30 جولائی 2003ء کو تمہارے والد آصف زرداری اور والدہ بے نظیر بھٹو کو الگ الگ ایک ایک کروڑ، 17 لاکھ ڈالر جرمانہ اور چھ چھ ماہ کی قید سزا سنائی تھی؟ جرم جاننا چاہتے ہو تو اس عدالت کا فیصلہ پڑھو جس کی ایک مصدقہ نقل میرے سامنے پڑی ہے۔ ماں باپ کے سر سے یہ سزا کیسے ٹلی؟ یہ الگ طویل کہانی ہے۔ اب ایک تیسری بات سنو! بلاول کیا تمہیں علم ہے کہ امریکہ کے سینٹ نے تمہارے والد کی امریکی سٹی بنک کے ذریعے مبینہ ایک ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کے بارے میں کیا قرارداد منظور کر رکھی ہے؟ یہ قرارداد بھی میرے سامنے پڑی ہے۔ مزید سنو! 2003ء میں امریکہ کی سرکاری تحقیقاتی کمیٹی PSIنے دُنیا بھر میں منی لانڈرنگ کرنے والے متعدد بڑے ناموںکی ایک فہرست جاری کی۔ ان میں خاص طور پر چار بڑے ناموں کا ذکر کیا گیا ان میں پاکستان کے ’آصف زرداری‘، نائیجیریا کے سابق صدر ’جنرل رباچہ‘ افریقی ملک کیون کے سابق صدر ’الحاج عمر بونگو‘ اور میکسیکو کے سابق صدر کارلوس کے بھائی ’راول سالیناس‘ کے نام نمایاں تھے۔ آصف زرداری اور سالیناس پر امریکہ سے ایک ایک ارب ڈالر سے زیادہ، جنرل اباچہ پر تین ارب 50 کروڑ ڈالر اور الحاج عمر بونگو پر اس سے بھی زیادہ منی لانڈرنگ کا الزام تھا۔ ایک خاص بات یہ کہ جنرل اباچہ دل کے دورے سے مر گیا۔ اس کی بیوی نے ملک سے بھاگنے کی کوشش کی، ایئرپورٹ پر اس کے ڈالروں سے بھرے ہوئے 38 بکس پکڑے گئے!اس کے سامنے بے چاری ایان علی صرف پانچ کروڑ روپے دبئی لے جاتے ہوئے پکڑی گئی ہے!! ایک ہی بکس میں پورے آ گئے تھے! اور ہاں بلاول یہ فردوس عاشق اعوان کیا کہہ رہی ہیںکہ ’’بلاول اور ایان علی کے مشترکہ اکائونٹ میں باہر سے پیسے آتے تھے!!‘‘ یہ صرف امریکہ سے ہونے والی منی لانڈرنگ کی رپورٹ ہے ورنہ ایران کا ملک بدر بادشاہ رضا شاہ پہلوی ایران سے بھاگتے وقت طیارہ ڈالروں سے بھر کر لے گیا۔ انڈونیشیا کے معزول اور گرفتار صدر جنرل سوہارتو نے ملکی خزانے سے 35 ارب ڈالر کی لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کی بالآخر اس طرح موت آئی کہ سارا جسم مفلوج تھا، آنکھوں کی پُتلیاں بھی حرکت نہیں کرتی تھیں صرف سانس چلتا تھا! استغفار! تاریخ کتنی ظالم ہے، کسی کو معاف نہیں کرتی!
٭ایک خبر: اسلام آباد کے ہوائی اڈے پرایک مسافر سے لاکھوں روپے مالیت کی دو مکڑیاں پکڑی گئیں جو وہ چین سے خرید کر لایا تھا۔ یہ نہائت نایاب اور مہنگی مکڑیاں کینسر کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ خبر میں مکڑیوں کی مزید تفصیل موجود نہیں۔ مجھے لیبیا کے صحرا میں پائی جانے والی ایک مکڑی یاد آ گئی ہے۔ جس کا ذکر امریکہ سے شائع ہونے والی ایک کتاب ’زمین کے راز‘ (Secrets of the earth) میں کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ اس مکڑی کا جسم ایک مردانہ انگوٹھے سے ذرا بڑا ہوتا ہے۔ صحرا میں ایک چھوٹی سی زہریلی مکھی اس کے پیچھے ایک گڑھا کھودتی ہے۔ مکڑی بڑی دلچسپی سے یہ گڑھے کو دیکھتی ہے۔ اچانک مکھی مکڑی کے گلے پر ڈنک مارتی ہے۔ مکڑی گھبرا کر پیچھے والے گڑھے میں گر کر بے ہوش ہو جاتی ہے۔ مکھی اس کے پیٹ پر انڈے دیتی ہے۔ ان میں سے نکلنے والے بچے مکڑی کے گوشت پر پلتے ہیں۔ قارئین! یہ کہانی یہیں چھوڑتا ہوں! آپ کہیں گے پھر آئی ایم ایف کا مقدمہ لے بیٹھا!

تازہ ترین خبریں