07:34 am
ریڈیو پاکستان کا نوحہ  

ریڈیو پاکستان کا نوحہ  

07:34 am

دنیا بھر میں ریڈیو ایک  طاقتوراور موثر ترین  میڈیم آف کمیونیکشن  مانا اور جانا جاتا  ہے پروپیگنڈا کے لیے بھی ممالک اور تنظیمیں ریڈیو  کو ہی پیغام  رسانی کا ذریعہ بناتے ہیں اور سوچے سمجھے منصوبوں  کے تحت بنائے گئے پروگراموں کے ذریعے سامعین  کے ذہن بدلتے  ہیں ۔ ایک عرصہ ہوا  ریڈیو کو تعلیم اور تربیت کے فروغ  کے لیے بھی بڑے موثر انداز میں استعمال کیا جا رہا  ہے ۔ شارٹ  ویو پر  دور دراز  اور دشوار گذار علاقوں مین ریڈیو کی آواز ہی دنیا سے رابطے میں رکھتی ہے اور قبائلی اورغیر ترقی یافتہ  معاشرہ مہذب اور  ترقی یافتہ دنیا کے بارے میں جو رائے  بناتا ہے اور  جو رائے رکھتا ہے وہ اسی ریڈیو کی آواز  سے بنتی اور بگڑتی ہے۔
 
آج کل دنیا  بھر مين ففتھ جنریشن وار ،ہائبرڈ دار اور گرے زون کی باتیں ہو رہی ہیںجب بڑے ممالک  محض پروپیگنڈے  اور تحریک کی بنیاد پر چھوٹے ممالک کے خلاف سیاسی  معاشرتی اور  معاشی عدم استحکام  پیدا کر رہے  ہیں ۔  اس کا بھی ایک بڑا موثر  اور طاقتور   ہتھیار بھی ریڈیو  ٹیکنالوجی  ہی ہے ۔  مختلف تنظیمین  بھی اسی موثر رابطے سے منظم اور  موثر رکھی جاتی ہیں۔
ایف ایم  ٹیکنالوجی نے تو پروپیگنڈا  کیلئے مزید آسانیاںپیدا کردیں  دشوار گزار علاقوں میں ریڈیو  ٹرانسمیٹر  گدھوں اور خچروں کے ذریعے منتقل  کیے جا تے رہے ہین۔ یہی  وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر چھوٹا   بڑا ملک ریڈیو  پر خصوصی توجہ دیتا ہے ۔ بی بی سی ۔ وائس آف امریکہ ،  وائس آف جرمنی اور  دیگر بڑے براڈ کاسٹ   نظام  وقت کے ساتھ ساتھ مزید  ترقی کرتے جا رہے ہیں ۔ قدرتی آفات  ہوں تو صرف ریڈیو  ہی رابطے کا ایک موثر ذریعہ  ہوتاہے جو امدادی تنظیموں کی  رہنمائی کرتا ہے   کوہ پیمائی  میں بھی ریڈیو ہی  رابطے کے کام آتا ہے ۔
بدقسمتی سے  پاکستان میں ریڈیو  پاکستان کئی سالوں سے تنزلی کاشکار ہے ۔  سابقہ حکومت کے دور سے ریڈیو کو بند کرنے  کی باتیں شروع ہو  گئیں  اور پھر حالیہ تبدیلی  نے تو رہی سہی کسر بھی پوری   کردی ۔ ریڈیو پاکستان  جسے آج بھی  بھارتی وزیراعظم  نریندر مودی   کہتے ہیں کہ بھار ت کے خلاف  موثر پروپیگنڈا  کررہاہے ۔ ریڈیوپاکستان جس نے ہمیشہ کشمیریوں  کی جدوجہد مین  ان کے حوصلے بلند  رکھنے مین بھرپور اور  موثر کردار ادا کیا ہے   آج اسی ریڈیو  سٹیشن کو بند کیا جا رہا ہے۔  دنیا بھر میں ریڈیو   کو زرعی ترقی ، صنعتی ترقی  اورتعلیم وتربیت کے فروغ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔  اور موجودہ  جیو سٹرٹیجک  صورت حال کے پیش نظر   پاکستان کے لئے اپنے سرحدی   علاقوں اور بالخصوص  نوجوانوں کی نظریاتی   تربیت اور رہنمائی کے لیے ریڈیو  کو بڑے  موثر انداز میں استعمال  کرنے  کی ضرورت ہے ۔  مگر بدقسمتی سے حکومت  اخراجا ت مین بچت کے نام  پر اتنا بڑا  قومی نقصان کرنے پرآمادہ نظرآتی ہے۔
 ریڈیو پاکستان  کو گزشتہ کئی سالوں سے ہر آنے والی حکومت نے  نوکریاں مہیا کرنے   والا ادارہ بنا دیا ۔  وزیر ہوں  پارلیمانی سیکرٹری  یا متعلقہ کمیٹیوں کے ممبران  ہر ایک ریڈیو میں بھرتیاں کروا تا رہا    انتظامی اخراجات بڑھتے  گئے  اور پھر بالعموم   پروگرام کی مد سے  ان نئے  بھرتی کیے جانے والوں  کو تنخوا ہیں ادا  کی جاتی رہیں  اور یوں پروگرامنگ   اورپلاننگ  بری طرح متاثر ہوتی رہی ۔ ریڈیو پاکستان   کے مارکیٹنگ شعبے کو کبھی  ماڈرن لائیز  پر  منظم کرنے کی کوشش   نہیں ہوئی  اور نہ ہی پروگرام پروڈیوسرز کو تربیت دی گئی کہ وہ پروگرام پلاننگ کرتے وقت  مارکیٹنگ  کو  بھی  پیش نظر رکھیں۔ 
اب جبکہ  ہائبرڈ  وار اور ففتھ جنریشن  وار کے دور  میں   ریڈیو کو زیادہ  منظم اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔  حکومت  اس ادارے  کے پر کاٹ  رہی ہے ۔ ریڈیوپاکستان   کی جتنی  ضرورت  آج ہے اتنی شاید  ہی کبھی ماضی میں  رہی ہو ہم چاروں جانب سے جس   پروپیگنڈے  کا شکار  ہیں   ہمیں بھی اپنا ایک  موثر نیرٹیو اور بھرپور جواب دینے  کی ضرورت ہے ۔ ریڈیو   کی اپنی ایک  ماڈرن  تربیت گاہ  ہو جہاں کمیونیکیشن ۔ پروپیگنڈا  کی ماڈرن تیکنیک  سکھائی جا ئیں چھوٹے  بڑے شہروں   میں  ریڈیو  کو منظم کیا جائے تاکہ نوجوان نسل  کی تربیت اور رہنمائی  کر سکے ۔ زراعت اور تعلیم کے فروغ  میں اپنا موثر کرادر ادا کر سکے ۔  ریڈیو کو محض حکومت کا  نہیں بلکہ وطن  کا نیرٹیو  عام کرنا ہے ملک کے خلاف پروپیگنڈے کا  بھرپور جواب دینا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے سٹیشن بند کردینے یا  ٹریننگ اکیڈمی بند کردینے ہیں   براہ نام مالی فائدہ تو شاید ہو گا  مگر جو قومی سطح پر نقصان ہو گا وہ ناقابل تلافی ہوگا۔ بات محض چند سٹیشن بند کرنے کی نہیں   اورآل تخلیقی سوچ  کی حوصلہ شکنی  کی ہے ۔  ادارے بنانے میں وقت لگتا ہے مگر ادارے  ختم تو پل بھر مین ہو جاتے ہیں لیکن اس سے جونقصان ہوتا ہے وہ ناقابل تلافی  ہوتا ہے ۔ اداروں کو فعال ، متحرک  اور موثر بنانے کے لیے منصوبہ بندی  کرنے اور قومی سطح پر ڈائیلاگ   کی  ضرورت ہے تاکہ ان اداروں سے قومی  مفاد میں بہتر کام لیا جا سکے۔
 

تازہ ترین خبریں