07:38 am
روزہ اور اس کا فلسفہ

روزہ اور اس کا فلسفہ

07:38 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 ان پر عمل پیرا ہونا‘قرآن حکیم کی تفہیم اور اس کی تدریس سے غافل ہونا‘ قرآن کو سمجھ کر نہ پڑھنا‘ یہ اتنے بڑے گناہ ہیں کہ ان کے مقابلے میں نیکیوں کا پلڑا ممکن ہے نیچے رہ جائے۔ اسی طرح روزے کا معاملہ ہے کہ ہم اس کی برکات کے امیدوار تو ہیں لیکن جھوٹ سے، غیبت سے اور دوسری برائیوں سے باز آنے والے نہیں ہیں۔
 یہ آدم زاد دو چیزوں کا مرکب ہے ۔ ایک اس کا حیوانی وجود ہے جو کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔ انسان اگر شرم و حیا کو اتار کر پھینک دے تو کوئی حیوان‘ حیوانیت میں انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت ہے اورپرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کے سب سے بڑے گواہ ہیں۔ ایسی ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ آدمی تصور نہیں کر سکتا کہ کوئی انسان یہ کام کر سکتا ہے۔ واقعتا حیوانوں سے بھی گئے گزرے ہیں اور انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے: ’’پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف‘‘۔گویا شرفِ انسانیت کا لبادہ اتار کے پھینک دیا اور مکمل حیوان بلکہ حیوان سے بھی گئے گزرے بن گئے۔
دوسری طرف ایک ہمارا روحانی وجود ہے جس کے بارے میں سورۃ التین میں ہی فرمایا گیا:’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا‘‘۔احسن تقویم اور اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر ایک روح موجود ہے جس کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے: ِ ’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔آپؐ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے ‘‘ ۔ یہ روح ہی ہے جو ہمیں باقی حیوانات سے ممیز کرتی ہے اور اسی روح ربانی کی وجہ سے ہمارے اندر نیکی اور بدی کی تمیز پیدا ہوئی ہے اور اسی وجہ سے ہمارے اندر ایک ضمیر نامی شے ہے جس کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا تمہارے اندر ایک مفتی اللہ نے پیدا کر رکھا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط‘ لہٰذا اپنے دل کے مفتی سے پوچھ لیا کرو۔
 ہمارے خاکی وجود کو زندہ رہنے کے لیے ہوا‘ پانی اورخوراک چاہیے۔ ان میں سے کسی ایک کو سلب کر لیں تو ہماری موت واقع ہو جائے گی۔ اسی طرح ہمارے روحانی وجود کو بھی خوراک کی ضرورت ہے‘لہٰذا ہمیں اپنی روح کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ وہ روح اگر کہیں بالکل لاغر ہو چکی ہے یاسسک رہی ہے، ہمارے حیوانی تقاضے اس درجے غالب آگئے ہیں کہ روح کو اندر سانس لینے اور اپنے رب سے تعلق قائم کرنے کا موقع نہیں مل رہا تو اس روح کو  زندۂ جاوید رکھنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اس      ماہ مبارک میں ہمیں موقع میسر آتا ہے کہ ہم اپنی روح کا اپنے رب کے ساتھ ایک تعلق قائم کرلیں۔
 ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں حیوانی وجود کی تو خوب فکر ہے اور اگر اسے تھوڑا سا بھی کوئی مسئلہ ہوجائے تو اس کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیںلیکن اس روحانی وجود کی ہمیںکوئی فکر نہیں ہوتی جس کا تعلق ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ خاص اس ماہِ مبارک میں ہمیں موقع ملتا ہے کہ اپنے روحانی وجود کا تعلق پھر سے اپنے رب کے ساتھ جوڑ لیں۔ اس کے لیے رمضان میں دو آتشی پروگرام ہے: دن بھر روزہ رکھنا اور رات کا ایک بڑا حصہ قرآن حکیم کے ساتھ بسر کرنا۔ بیس تراویح پڑھنا تو کم سے کم نصاب ہے جبکہ قیام اللیل کا اصل اطلاق ایک تہائی رات، نصف رات یا دو تہائی رات پر ہوتا ہے۔اگر رات کا اتنا حصہ قرآن کے ساتھ بسر کریں گے تو کل قیامت کے دن قرآن ہماری شفاعت کرے گا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’روزہ اور قرآن (قیامت کے روز) بندے کے حق میں شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا : اے ربّ! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے پینے اور خواہشاتِ نفس سے روکے رکھا‘ تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! اور قرآن یہ کہے گا کہ اے پروردگار! میں نے اسے رات کے وقت سونے(اور آرام کرنے ) سے روکے رکھا‘ لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! چنانچہ (روزہ اور قرآن) دونوں کی شفاعت بندے کے حق میں قبول کی جائے گی(اور اس کے لیے جنت اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا)۔‘‘(بیہقی)
قرآن کے ساتھ رات بسر کرنے کے لیے ہم نے ایک اجتماعی نظام دورۂ ترجمہ قران کی شکل میں وضع کیا ہے ، جو لوگوں کے نزدیک بڑا اچھا ہے اور بہت سے لوگ اس سے بڑی سہولت محسوس کرتے ہیں۔ ایک مہینے میں پورا قرآن ترجمے کے ساتھ آپ پڑھیں گے تو اس کی برکات لازماً ظاہر ہوں گی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص رات کی تنہائی میں قرآن پڑھ رہا ہے‘ قرآن کا ترجمہ دیکھ رہا ہے اور قرآن پر غور و فکر کر رہا ہے‘ اللہ سے دعا کر رہا ہے کہ اے پروردگار اس قرآن کو میرا ہادی اور راہ نما بنا دے ،تو یہ بھی بہت ہی اجر و ثواب اور با برکت کام ہے۔ الغرض اگر اس ماہ مبارک میں دن کا صیام اور رات کا قیام ہو تو رمضان کا پروگرام مکمل ہو گا اور پھر رمضان کی برکات کا حصول ہو گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجھے‘آپ کو اور پوری امت مسلمہ کو مکمل آداب کی رعایت رکھتے ہوئے دن کے صیام اور رات کے قیام کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی پیدا فرمادے ، اور ہمیں سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں مساجد کو آباد کرنے والا اور حرام سے بچنے والا بنا دے۔آمین یارب العالمین!

تازہ ترین خبریں