07:59 am
مائوں کی عظمت کا پرچم قیامت  تک لہرائے گا!

مائوں کی عظمت کا پرچم قیامت  تک لہرائے گا!

07:59 am

وہ 1439ھ 9رمضان المبارک جمعۃ المبارک کا مقدس دن تھا کہ جس دن میری امی جان دنیا سے منہ موڑ کے اللہ کے حضور جا پہنچیں‘ لاریب ہمارا ایمان ہے کہ دنیا میں جو بھی آیا اس نے ایک نہ ایک دن ضرور موت کا ذائقہ چھکنا ہے...لیکن اس کے باوجود اپنے دل پہ بیتنے والی قیامت کے بعد دل سے بے اختیار دعا نکلتی ہے کہ اولاد کی زندگی میں ماں مر جائے خدا نہ کرے‘ ماں جیسی عظیم ہستی کی وفات اولاد کے لئے سب سے بڑا سانحہ ہوا کرتی ہے اور میری والدہ ماجدہ تو ابر رحمت کی طرح تھیں۔
 
شدید علالت کی حالت میں بھی  جب تک ہوش میں رہیں ان کی زبان ذکر اللہ سے غافل نہ ہوئی...امی جان کو رمضان المبارک کا انتظار رہتا تھا‘ قرآن پاک سے ان کا تعلق رمضان المبارک میں مزید مضبوط ہو جاتا تھا‘ رمضان المبارک میں دو مرتبہ قرآن پاک کا ختم فرمایا کرتی تھیں‘ گزشتہ رمضان المبارک کے پہلے روز ہی امی جان پر بیماری نے یلغار کر دی۔ بخار اور کمزوری کی وجہ سے ہم نے انہیں روزہ نہ رکھوایا۔
افطارکے دستر خوان پر ہمیں بیٹھا دیکھ کر انتہائی نقاہت بھرے لہجے میں فرمایا ’’نوید! توں مینوں روزہ کیوں نہیں رکھوایا؟‘‘ اور پھر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے‘ وہ والدین بالخصوص مائیں کتنی اچھی ہوتی ہیں کہ جو اپنے بچوں کے مزاج کو بچپن ہی سے اسلام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں‘ وہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے سمجھاتی ہیں کہ بیٹا! تم بڑے ہو کر ڈاکٹر بنو‘ انجینئر بنو‘ تاجر بنو‘ کرنیل بنو یا جرنیل! لیکن رہنا اسلام کے تابع‘ کیوں کہ اسلام سے ہٹ کر‘ اسلام  سے بالاتر ہونے کی سوچ گمراہی اور بربادی کے سو ا کچھ بھی نہیں۔
مائیں تو سب ہی اچھی ہوتی ہیں‘ لیکن جو بہت اچھی ہوتی ہیں وہ بچپن ہی سے اپنے بچوں کو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد سے بھی روشناس کرواتی ہیں‘ حضرت محمد کریمﷺ ‘ صحابہ کرامؓ کی محبت کو اپنی اولاد کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھر دیتی ہیں‘ بہنوں کے حقوق‘ رشتہ داروں کے حقوق‘ باپ کے حقوق‘ استاد کے حقوق‘ عورتوں کا احترام  ان سارے حقوق کی پہچان مائیں اپنے بچوں کو کروایا کرتی تھیں‘یہ ڈالر خور  این جی اوز کا مکروہ جال  کیا جانے انسانی حقوق ‘ جن گھرانوں میں والدین بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کرتے ہیں وہ گھرانے ’’انسانی  حقوق‘‘ کے مراکز بن جاتے ہیں۔
مجھے حیرت ہوئی گزشتہ دو روز قبل یہ دیکھ کر کہ کچھ سیاست دانوں  نے مائوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنی ماں کی تصویریں جاری کرکے انہیں یاد کرنے کی کوشش کی۔آہ! یورپ کی فکری غلامی میں معاشرہ کس قدر پستی کی گہرائی  میں اترتا چلا جارہا ہے‘ اولاد کا تو ایک ایک سانس ماں کا مقروض ہوتا ہے‘ ماں اگر جسمانی طور پر زندہ ہو تو زندہ باد‘ لیکن ماں اگر مر کر قبر کی لحد میں بھی اتر جائے تب بھی  اولاد کے دلوں میں زندہ و جاوید رہتی ہے۔
بچپن میں بیٹی یا بیٹے  کو انگلی پکڑ کر قدم بہ قدم چلانے والی‘ توتلے بچے کو الفاظ سکھانے والی‘ ماں کی انگلی تھامنے والا بچہ گر جائے تو جیسے ماں گر گئی‘ بچے کو چوٹ لگ جائے تو جیسے ماں کو چوٹ لگی‘ بچہ رو پڑے تو جیسے ماں خود روپڑی‘ بچہ بیمار ہوجائے تو جیسے بیماری نے ماں کے وجود پر یلغار کر دی ہو‘ بچہ کھانا نہ کھائے تو ماں بھوکی رہے‘ بچہ بستر گیلا کرے‘ ماں اسے اپنی سوکھی جگہ پر سلا کر خود اس کی گیلی جگہ پر سو جائے اور بچہ جب بڑا ہو تو سال میں ایک دفعہ مائوں کے عالمی دن کے موقع پر ٹویٹ کرکے مطمئن ہو جائے ‘ یورپ کے ان فرزندوں کو کوئی بتائے کہ ’’ماں‘‘  یوٹیلٹی سٹور پہ رکھے ہوئے کسی آئیٹم کا نام تھوڑا ہی ہے کہ جسے سال بعد یاد کرلیا جائے؟
ایک سال بیت گیا امی جان کے انتقال کو‘ مگر ماں ہر نماز کی دعا میں‘ قرآن پاک کی تلاوت کے بعد کی دعائوں میں؟ یہی نہیں بلکہ ہفتے میں کئی بار ان کی قبر مبارک پہ حاضری کی صورت میں بھی ہمارے ساتھ ہے‘ اور آخری سانسوں تک رہے گی(ان شاء اللہ)
ہم کیا جانیں اس ایک دن کو کہ جس دن مائوں کو ٹویٹ کے ذریعے یاد کیا جاتا ہے؟ ہماری مائوں نے ہماری تربیت اس اسلام کے مطابق کی ہے کہ جس اسلام نے والدین کے حقوق بتا کر قیامت تک کے انسانوں پر احسان عظیم فرمایا...قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’اللہ نے فیصلہ کرلیا کہ تو عبادت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا اور والدین کے ساتھ نیکی کرو‘ حسن سلوک کرو‘ اگر ان میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پائے تو ان کے سامنے اُف تک بھی مت کہو‘ ان دونوں کو مت جھڑکو‘ ان کے لئے اچھی بات کہو‘ عاجزی اور انکساری ظاہر کرو‘ ان پر مہربانی کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں عرض کرو کہ اے رب ! جس طرح انہوں نے میرے بچپن میں میرے ساتھ رحم والا معاملہ کیا۔ اسی طرح ان کے ساتھ رحم والا معاملہ فرمایا۔ آج کے والدین اگر اپنے بچوں کو بچپن ہی سے اسلام کے بتائے ہوئے انسانی  حقوق سکھانے کی کوشش کریں گے‘ ان کے ذہنوں میں اگر قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے فرامین پختہ کریں گے‘ انہیں انگریز بنانے کی بجائے ایک اچھا مسلمان بنانے کی کوشش کریں گے تو  کل جب ان کا انتقال ہوگا تو مجھے یقین ہے کہ ان کی اولادیں سال کے صرف ایک دن انہیں ٹویٹ پر یاد کرنے کی بجائے پورا سال ہی نہیں بلکہ پوری زندگی ان کی قبر کو منور کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے گی۔
 اس بیٹے سے بڑھ کر بدبخت اور کم ظرف اور کون ہوسکتا ہے کہ جو زندہ ہو اور پھر بھی اس کا بوڑھا باپ یا بوڑھی ماں ایدھی یا کسی سرکاری اولڈ ہائوس میں سسک‘ سسک کے زندگی گزارنے پر مجبور ہو؟
ہمیں ٹی وی چینلز‘ موبائلز اور نیٹ وغیرہ کی علتوں کو نکال کر اپنے گھرانوں میں ایک دفعہ پھر اسلام کی تعلیمات کوپوری شان و شوکت سے زندہ کرنا پڑے گا تاکہ مائوں کی عظمتوں کا پرچم تاقیامت سربلندی سے لہراتا رہے۔

تازہ ترین خبریں