08:02 am
پاکستان کے سمندر میں تیل گیس کے روشن امکانات!

پاکستان کے سمندر میں تیل گیس کے روشن امکانات!

08:02 am

٭فاٹا: اسمبلیوں میں فاٹا کی سیٹیں بڑھانے پر قومی اسمبلی میں حیرت انگیز اتفاق رائےO کوئٹہ، پھر دھماکا، پولیس کے 5 جون شہید، گاڑی تباہ O آئی ایم ایف، قرضے کی نئی شرط، ایف اے ٹی ایف سے این او سی لائوOپیپلزپارٹی کی نامزدگی سے اسد عمرقومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین منتخب O پشاور، سابق وزیراعلیٰ امیر مقام کا بیٹا کرپشن کے الزام میں گرفتار 62 کروڑ 26 لاکھ کی واپسی کا ریفرنس O سمندر میں تیل کی کھدائی ختم، رپورٹوں کی تیاری شروع! O لاہور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست: نوازشریف کو برطانوی حکومت کو سَر کا خطاب واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔
 
٭ساری خبریں بہت اہم اور چٹ پٹی ہیں مگر میں ایک دُعا کے ساتھ ایک خبر درج کر رہا ہو ںکہ خدائے بزرگ و برتر اس خبر کو بار آور کر دے۔ خبر یہ ہے کہ تیل کی تلاش کے لئے کراچی سے 280 کلو میٹر دور گہرے سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کیلئے 11 جنوری میں شروع ہونے والا کھدائی کا کام مکمل ہو گیا ہے اب یہاں سے حاصل ہونے والے مواد کے تجزیہ کا کام شروع ہو گا جو تقریباً دوتین ہفتے میں ہو گا۔ خبر کے مطابق اب تک 18 ہزار 233 فٹ تک کھدائی ہو چکی ہے۔ پاکستان کی آئل اینڈ گیس کارپوریشن O.G.D.C اور پاکستان پٹرولیم سمیت چار کمپنیاں (دو غیر ملکی) اس منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ اب تک 14 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر گہرے پریشر کی نشان دہی ہوئی ہے جس سے کامیابی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس زیر آب ذخیرہ سے 9 کھرب کیوبک گیس مل سکتی ہے۔ ایسا ہو گیا تو پاکستان کے تیل و گیس کے بجٹ میں چھ ارب ڈالر (آٹھ کھرب 64 یارب روپے) سالانہ کی بچت ہو سکے گی۔ اس کے ملکی معیشت پر بہت خوش گوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو آئندہ 50 برس سے زیادہ مدت تک تیل کی درآمد سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ ابتدائی اندازے کے مطابق پاکستان کے زیر سمندر تیل کے ذخائر دنیا کے چند بہت بڑے ذخائر جیسے ہیں۔
منصوبے کے خلاف بعض پاکستان دشمن قوتوں نے سازشیں بھی شروع کر دی ہیں۔ تیل کے یہ ذخائر ایران کے ساحل سے کچھ فاصلے پر ہیں۔ بھارت ایران کو اکسا رہا ہے کہ وہ پاکستان کو اس منصوبے پر عمل کرنے سے روکے۔ امریکہ اس لئے روکنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی سے اس کا اور آئی ایم ایف وغیرہ کا پاکستان پر دبائو ختم ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر تیل اور گیس کے ان متوقع ذخائر کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔ دنیا بھر میں اس قسم کی بہت سی ڈرلنگ ناکام بھی ثابت ہوئی ہیں۔ آئل کمپنیاں اس قسم کی ناکامیوںکے لئے اپنے الگ بجٹ بناتی ہیں تاہم وہ اپنے حاصل شدہ تیل کی قیمتیںبڑھا کر اپنے ناکام منصوبوں کے نقصانات پورے کر لیتی ہیں۔ تاہم پاکستان کے اس منصوبے کے بارے میں اس لئے اچھی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس منصوبے میں نصف حصہ (50 فیصد) لینے والی دو غیر ملکی کمپنیوں Exon اور ENN کا شمار دنیا کی تیل کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے یہ کمپنیاں خاص طور پر Exon ایسے منصوبے میں شریک نہیں ہوتی جس کی کامیابی کا یقین نہ ہو۔ قارئین کرام، آیئے اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا مانگیں کہ ہم نے بہت سخت حالات دیکھ لئے اب اس منصوبے کو کامیاب کر دے! کوئی تو اچھی خبر ملے!
٭قارئین محترم: میرے لئے دوسری بڑی خبر یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ایک ڈی ایس پی کے بیٹے شاہ زیب کے قتل کے دو مجرموں شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ عدالت کا معاملہ ہے، اس پرکوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ ایک اخبار نے خبر کی سرخی لگائی ہے کہ ’’دولت مند باپ کا بیٹا پھانسی سے بچ گیا!!‘‘ میں کسی تبصرہ کے بغیر اس واقعہ کی کہانی بیان کر رہا ہوں۔ 6 سال 18 روز پہلے کراچی کی ایک طالبہ نے اپنے بھائی شاہ زیب سے شکائت کی کہ شاہ رخ جتوئی اور دوسرے لڑکوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ شاہ زیب کا باپ ایک ڈی ایس پی تھا (اب مرحوم) شاہ زیب نے شاہ رخ جتوئی کو سخت سست کہا۔ شاہ رخ نے اپنے ساتھیوں سراج تالپور، سجاد تالپور اور مرتضیٰ لاشاری کے ساتھ شاہ زیب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ شاہ رخ جتوئی بہت بڑے زمیندار وڈیرے کا بیٹا ہے۔( جتوئی خاندان کو سندھ کا سب سے بڑا زمیندار خاندان بتایا جاتا ہے۔  25 سال پہلے غلام مصطفی جتوئی (سابق نگران وزیراعظم) کی سندھ میں تقریباً چھ ہزار ایکڑ کی صرف چراگاہ تھی)۔شاہ زیب کے قتل کا واقعہ آصف زرداری کے صدارتی دور میں ہوا۔ پولیس نے ایک بڑے وڈیرے کے رعب اور دبائو کے تحت قتل کی اس بہیمانہ واردات کو کسی طرح ختم کرنے کی کوشش کی۔ مقتول شاہ زیب کے خاندان کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ اس سے گھبرا کر مقتول کے خاندان نے جان بچانے کے لئے چاروں قاتلوںکو معاف کر دیا اور صلح نامہ لکھ دیا۔ مقتول کے والد کا دل کے دورے سے انتقال ہو گیا۔ مقتول کی شدید خوف زدہ والدہ اور دو بہنیں ملک چھوڑ گئیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے قتل کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپورکو سزائے موت اور سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنا دیں۔ گزشتہ روز مقتول خاندان کے وکیل محمودعالم رضوی نے عدالت میں بیان دیا کہ اس مقدمے کا مدعی فوت ہو چکا ہے۔ اس کی بیوہ اور دونوں بیٹیاں ملک چھوڑ چکی ہیں۔ وہ نہائت خوف زدہ ہیں۔ عدالت میں پیش ہونے یا آن لائن بیان دینے سے بھی گھبرا رہی ہیں۔ ان کا خاندان قتل گروپ سے صلح بھی کر چکا ہے۔ اس بیان پر قتل کے مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر بھر قید میں تبدیل ہوگئی ہے۔ باقی دونوں مجرموںکی عمر بھر قید کی سزا برقرار ہے۔ ان سزائوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گنجائش باقی ہے۔ قارئین کرام! میں نے اس کیس کے صرف ماضی کے واقعات بیان کئے ہیں۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا، صرف ایک اخبار کی شائع شدہ مختصر سرخی کا ذکر کیا ہے کہ ’’دولت مند باپ کا بیٹا شاہ رخ جتوئی پھانسی سے بچ گیا۔‘‘
٭چند مختصر باتیں: شدیدجانی و مالی نقصانات سے گھبرا کر بھارتی فوج نے پاکستان کی فوج کو سرحدوں پر گولہ باری روکنے کی درخواست کی ہے۔
٭حیرت انگیز اتفاق رائے: قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدہ کے لئے پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے اسد عمر کا نام پیش کیا۔ پیپلزپارٹی کی ہی نفیسہ شاہ اور حنا ربانی نے بھرپور حمائت کی اور اسد عمر کی بہت تعریف کی!
٭بلاتبصرہ: لاہور خربوزہ 140 روپے کلو (ایک کلو میں ایک دانہ) آڑو 310 روپے کلو، لیموں 450 روپے کلو، فالسہ 480 روپے کلو آلو بخارا 600 روپے کلو!
٭ایک دلچسپ بات: سابق وزیر خزانہ، موجودہ مشیر خزانہ سندھ کے ایک گائوں ’’چار پائی‘‘ میں پیدا ہوئے۔ چارپائی کے بارے میں دلچسپ محاورے اور کہاوتیں عام ہیں۔ ایک تو یہ کہ شادی کے بعد آدمی چارپائی کی دوسری طرف نہیں اتر سکتا۔ بزرگ شاعر اثر چوہان نے دلچسپ شعرکہا ہے کہ ’’ایک ہم کہ چارپائی سے نیچے ہی گر پڑے… ایک وہ کہ اپنی ٹانگ پسارے چلے گئے۔‘‘ پرانی بات ہے۔ نارووال میں ایک سبزی فروش محمد الیاس ہر مشاعرے میں یہ شعر ضرور پڑھا کرتا تھا اس میں چارپائی کا بالواسطہ ذکر ہوتا تھا۔ شعر تھا کہ ’’رقیبوں نے پہلو دبایا تو چُپ، میں بیٹھا تو ظالم کھسکنے لگا۔‘‘ ایک اور دلچسپ بات کہ’’ چارپائی والا‘‘ کے معنی ہیں ’کھٹمل‘ (فیروز اللغات!)
٭پشاور: ایک اور بلا تبصرہ خبر: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر مقام کابیٹااور پانچ ٹھیکیدار گرفتار۔ دس سال پہلے ایک سڑک کا ٹھیکہ ’’امیر مقام اینڈکمپنی‘‘ نے حاصل کیا۔ 85 کروڑ کا منصوبہ ایک سال میںمکمل ہونا تھا۔ دس سال میں مکمل نہ ہوا، لاگت دو ارب 80 کروڑ ہو گئی۔ نیب نے ریفرنس میں بیٹے سے 62 کروڑ 60 لاکھ روپے وصول کرنے کی سفارش کی ہے۔

تازہ ترین خبریں