08:16 am
مقامی سطح پر ٹیکس نظام

مقامی سطح پر ٹیکس نظام

08:16 am

 کینیڈا کا ایک شہر مسسی ساگا ہے جس کی میونسپللٹی کینیڈا کی امیر ترین میونسپلٹیوں میں سےایک ہے ،کیوں ؟ اس لئے کہ ایک تو ٹورنٹو ایرپورٹ اس کے علاقے میں ہے دوسرا وہاں آبادی کافی زیادہ ہے جسکی وجہ سے کاروبار بھی زیادہ ہے اور اس کاروبار کی وجہ سے وہاں ٹیکس زیادہ اکٹھا ہوتا ہے۔مسسی ساگا کینیڈا کا چھٹا،صوبہ انٹاریوکا تیسرا اور گریٹر ٹورنٹو کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ 
دوسر ی طرف پاکستان کے میونسپل اداروں کو دیکھیں تو یہ بھوکے مر رہے ہیں ،ٹیکس نظام نہ ہونے کے سبب ہر وقت صوبائی حکومت کے مرہون منت رہتےہیں۔حال ہی میں یہ ادارے تحلیل ہوئے تو محتاجی کی حالت میں تھے۔اپنا ٹیکس نطام فرسودہ اور اپنی جماعت ہی کی سابقہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی فنڈز تک نہ دئے جو ان کا حق تھا۔
   موثرء،مضبوط،با اختیاربلدیاتی ادارے کسی بھی معاشرے کی نچلی سطح پر ترقی اور عوامی خوشحالی کے ضامن ہو تے ہیں،ترقی یافتہ ممالک نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حکمران طبقہ کوشہنشاہ معظم بنانے کی بجائے عوام کا خادم بنایا جس کے نتیجے میںحکومتی ادارں کو عوامی  سہولیات فراہم کرنے کا ذمہ دار ٹھرایا،اس کا نتیجہ نکلا کہ عوام میں با اختیار ہونے کا احساس اجاگر ہوا اور  اختیار اپنے ہاتھ میں لیکر امور مملکت چلانے کی ذمہ داری سنبھالنے کی سوچ نے جنم لیا۔ اس حوالے سے بہترین کوشش ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوئی مگر عوام کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بہتری کے بجائے طوائف الملوکی نے جنم لیا،سرکار نے تعلیمی ادارے، ہسپتال، فیکٹریاں ،کارخانے سنبھال لئے تو عوام نے سرکاری،نجی اراضی پر قبضہ کر لیا،سب سے بڑی برائی شہری ہونے کے احساس کا خاتمہ تھا،عوام کی اکثریت نے سمجھ لیا کہ ر یاست سے صرف لینا ہی ہے دینا کچھ نہیں،لہذٰا نچلی سطح پر دئیے جانے والے معمولی محصولات کی ادائیگی بھی رک گئی جس کے نتیجے میں قومی معیشت پر دبائو بڑھا اور بحرانوں کا آغاز ہواء۔
دور انگلشیہ میں نافذ کیا جانے والا نظام اگر چہ کالونئیل تھا،مگر ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک توازن قائم تھا،دیہی اور شہری علاقوں کا ہر مکین اپنی ذمہ داری سمجھتا اور ادا بھی کرتا تھا،انگریز دور میں محکمہ پولیس کا قیام بھی ٹیکس کی وصولی کے لئے عمل میں آیا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے فوجداری معاملا ت کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی،برٹش دور میں مقامی حکومتوں یا بلدیا تی اداروں کو خود مختاری حاصل تھی،شہری ٹیکس ،آبیانہ،مالیہ سب کی ادائیگی تواتر سے ہوتی تھی اور ریاست مالی طور پر خود کفیل تھی،ایوب دور تک یہ نظام معمولی ترامیم کیساتھ قائم رہا،مگر بھٹو صاحب کے عوامی دور میں سب کچھ’’عوامی ‘‘ہو گیا۔
بلدیاتی اداروں کی آمدن میں  اضافہ آج بھی ناممکن نہیں صرف تھوڑی سی ہمت اور موثرء حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
 اس حوالے سے کسی بڑے اقدا م کی بھی ضرورت نہیں،صرف انگریز دور کے نظام کے سرسری مطالعہ کی ضرورت ہے،قیام پاکستان سے قبل بلدیاتی ادارے چھوٹی بڑی دکانوں،رکشہ،ٹیکسی یہاں تک کہ ہتھ ریہڑی،گھوڑا گاڑی،تانگہ،بیل گاڑی کے بھی لائسنس جاری ہوتے اور سالانہ معمولی ٹیکس عائد ہوتے تھے،جن کی ادائیگی عوام کیلئے مشکل نہ ہو تی مگر اس قطرہ قطرہ سے بلدیاتی اداروں کا دریا بھر جا تا تھا،آج بھی اگر مقامی حکومتوں کو اس معمولی ٹیکس کی وصولی کا اختیار دیدیا جائے تو ان حکومتوںکو صوبہ اور مرکز سے صرف بڑے منصوبوں کیلئے فنڈز مانگنا پڑیں گے،ایک رکشہ پر اگر 500روپے سالانہ مقامی ٹیکس عائد کر دیا جائے توجو رکشہ مالک روزانہ 500سے800روپے کماتا ہے اس کیلئے ادائیگی مشکل نہیں ہو گی،مگر مقامی حکومت کوکروڑوں کی وصولی ممکن ہو سکے گی،ایک ٹیکسی مالک روزانہ ہزار روپے سے زیادہ کماتا ہے اگر اس پر ایک ہزار روپے ٹیکس عائد کر دیا جائے تو کروڑوںکی آمدن حکومتی خزانے میں جمع ہو سکتی ہے،مگر اس سے قبل ہر ٹیکسی ،رکشہ، موٹر سائیکل رکشہ کی رجسٹریشن لازامی قرار دی جائے اور سالانہ ٹیکس کے برابر رجسٹریشن فیس مقرر کر دی جائے تو خاطرخواہ رقم مقامی حکومت کو مل سکتی ہے،رجسٹریشن کرانے اور ٹیکس ادئیگی کا سٹیکر گاڑی پر نمایاں جگہ آویزاںکیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کس نے ادائیگی کی اور کون نا دہندہ ہے،عدم ادائیگی پر چالان کئے جائیں اور یہ رقم بھی مقامی حکومت کے اکائونٹ میںجمع کرائی جائے۔
ہر بلدیاتی حکومت کو اپنے علاقوں میں پان سگریٹ کے کھوکھوں،پرچون کی دکانوں،ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز،بڑے مالز کی رجسٹریشن کا پابند کیا جائے ،رجسٹریشن فیس دکان کی آمدن،سائز اورکاروبا رکی مطابقت سے مقرر کی جائے،پان سگریٹ کے کھوکھوں، پرچون کی چھوٹی دکانوں کی رجسٹریشن فیس ایک ہزار مقرر کر کے سالانہ تجدیدی فیس بھی اتنی ہی مقرر کردی جائے،بڑے سٹورز اورمالز کی رجسٹریشن اور سالانہ تجدیدی فیس پانچ ہزار مقرر کردی جائے تو ہر یونین کونسل مالی طور پر خود کفیل ہو سکتی ہے،اس آمدن میں سے ایک مخصوص حصہ تحصیل اور ضلعی حکومت کا بھی مقرر کیا جا سکتا ہے تاکہ ان کی بھی مالی ضروریات پوری ہوتی رہیں،دیہی علاقوں میں مالیہ اورآبیانہ کے نظام کو فول پروف بنانے کی ضرورت ہے،اگربڑے ڈیری فارمز اور پولٹری فارمز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جائے تو دیہی یونین کونسلز بھی خود کفیل ہو سکتی ہیں،البتہ چھوٹے زمینداروں کو سہولیات دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایک زرعی ملک کا کاشتکار نہ صرف ملکی غذائی ضروریات پوری کر کے بر آمدات میں بھی اپنا حصہ ڈال سکے۔
 مقامی سطح پرترقی کیلئے مقامی عوام کو با اختیار بنا کر ہی ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پرگامزن کیا جا سکتا ہے،اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک مقامی سطح پر قومی آمدن نہیں بڑھائی جا تی اور جب تک نچلی سطح پر عوام کو اس میں شریک نہیں کیا جاتا،یہ کوئی نئی اور انہونی بات نہیںہو گی پوری دنیا میں اس حوالے سے کام ہو رہا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں