08:17 am
انتہا پسندی و تشدد‘ خودکش حملوں کے منتظم

انتہا پسندی و تشدد‘ خودکش حملوں کے منتظم

08:17 am

لاہور‘ داتا دربار پر سیکورٹی فراہم کرتی ریاستی انتظامیہ‘ پولیس پر خودکش حملہ ہوا‘ پھر کوئٹہ میں مسجد میں نمازیوں کی حفاظت پر مامور پولیس پر بھی خودکش حملہ ہوا ہے چند ہفتے پہلے افغان سرحد پر حفاظتی باڑ لگاتی ریاستی افرادی قوت‘ فوج‘ پر حملہ ہوا پاک ایران سرحد پر موجود ریاستی قوت پر بھی حملہ اوردونوں مرتبہ حملہ آور پڑوسی ملک کے اندر سے آئے تھے۔ اب گوادر میں بڑے اور محفوظ سمجھے جاتے ہوٹل پر حملہ جسے نیوی سے وابستہ افراد نے ناکام بنایا  ہے مگر پھر بھی ہوٹل انتظامیہ اور نیوی کے حصے میں شہداء تو آئے ہیں۔ یہ سب واقعات جن میں کہیں بظاہر خودکش حملہ آور استعمال ہوئے کہیں پر پڑوسی سرزمین سے حملہ آور آئے اور ہماری ریاست کو نشانہ بنایا گیا‘ مقصد حاصل کیا اور واپس لوٹ گئے جہاں سے آئے تھے۔  گوادر پاکستان اور چین کے لئے بہت اہم مقام ہے ۔ سی پیک کا گہرا تعلق گوادر اور بلوچستان سے ہے۔ اس مقام کو نشانہ بنانا‘ عام سی تخریب کاری نہیں ہے‘ اگر ان تمام واقعات کا جائزہ لیا جائے تو عملاً ریاست پاکستان اور ریاستی اہم مقامات اور ریاستی اداروں سے وابستہ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیا ایسے پرتشدد واقعات محض انفرادی فعل ہیں؟ جی نہیں۔ ان واقعات کا نشانہ اگر ریاست‘ سرزمین اور ریاستی حفاظتی قوتیں ہیں تو پھر یہ انفرادی تخریب کاری کے واقعات نہیں۔ بلوچستان میں مدت سے ہماری مقامی سیاست سے مایوس اور برگشتہ پڑوسی سرزمینوں پر محفوظ جگہ پاتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے وہ بلوچستان کی علیحدگی پسندگی کی قوتوں کے لئے کمک اور ’’لا‘‘ کے لئے بھی نیا سلسلہ فراہم کرتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ایک مینگل قبیلے کے بڑے سردار کے مینگل بھائی بیرون ملک قیام پذیر ہیں۔ وہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرتے منصوبے کے اہم کارندے ہیں۔ انہیں بھارتی وزیراعظم مودی بہت مرغوب ہیں اور وزیراعظم مودی کو بھی بلوچستان میں تخریب کاری کرتی شخصیات اور تنظیمیں بہت زیادہ مرغوب ہیں۔ ہماری قومی اسمبلی اور قومی سیاست میں گمشدہ افراد کی آڑ میں ریاست سے متوازی اور مخالفانہ سیاسی سرگرمیاں کرتی نمایاں مینگل شخصیات سے اگر سوال کیا جائے کہ گوادر کے محفوظ بڑے ہوٹل میں جو حملہ آور ریاست کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے ان حملہ آوروں میں لاپتہ افراد کیسے موجود تھے؟ اس حسن اتفاق کا کیا جواب ہے جناب مینگل کے پاس جو عرصے سے گمشدہ افراد کی فہرستیں لہرا لہرا کر ریاست کو بلیک میل کیا کرتے ہیں۔
 
انتہا پسندی خواہ مذہب کے حوالے سے ہو یا سیاست کے حوالے سے ۔چونکہ انتہا پسندی اکثریتی ذہن کی نمائندہ نہیں ہوتی بلکہ اقلیتی سوچ ہوا کرتی ہے لہٰذا لازماً  ہر انتہا پسند تشدد کی طرف ہی میلان رکھتا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندی یا تخریب کاری بلوچستان کے عوام کا مسئلہ اور مطلوب معاملہ نہیں ہے بلکہ بہت سی اقلیت کا ہے۔ یہ وہ  فتنہ پرور قوتیں ہیں جن کو پڑوسی سرزمینوں پر آسانی سے جگہ مل جاتی ہے ان کے مالی اور تشدد کے لئے مطلوب اخراجات وسائل  پاکستان مخالفت ممالک اور قوتیں فراہم کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب کچھ ان باغی اور سرکش انتہا پسند مذہبی اور سیاسی قوتوں کو آسانی سے  میسر ہوتا ہے۔ کیا یہ سلسلہ رک جائے گا؟ بلکہ  ہمیں تو یہ سلسلہ پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ ہم جغرافیائی طور پر  منفرد محفل وقوع رکھنے کی نعمت سے جہاں فیض یاب ہیں وہاں اس منفرد محل وقوع کے استعمال کرنے کی جرات پر اردگرد دشمن قوتوں کی موجودگی سے بھی وافر طور پر پریشان کئے جاتے ہیں۔
یہ ایجنڈوں کی لڑائی بھی تو ہے چونکہ برصغیر میں ایک بار پھر اسلام دشمنی‘ مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی کو لازم و ملزوم بنا کر  ہندتوا کے ایجنڈے کو اقتدار کی فیصلہ ساز قوت بنانا عالمی طاقتوں کی بھی سیاست ہے۔ لہٰذا آنے والے موسموں میں پاکستان میں اچانک سیاسی عدم استحکام جو ہماری اپنی عدم فراست کا پیدا کردہ ہوتا ہے کے ساتھ ساتھ بیرونی ایجنڈوں کے لئے تخریب کاری‘ فتنہ و فساد پھیلاتی شخصیات‘ قوتیں‘ تنظیمیں تشددد اور بم دھماکوں کے واقعات کو ظہور بخشتی رہیں گی۔ ریاست اور ریاستی اداروں سے وابستہ شخصیات‘ حکومتی شخصیات کے ’’نشانہ‘‘ بننے کے اندیشے اور وسوسے بھی محسوس ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک نشست میں سری لنکا میں مسلمان انتہا پسندوں کی طرف سے مسیحی عبادت گاہوں اور مسیحی سیاحوں کے لئے مخصوص ہوٹلوں میں بم دھماکوں کی سازش کا  مقصد سری لنکا کو عدم استحکام دینا لکھا تھا اور خدشہ لکھا تھا کہ ان بم دھماکوں کے بعد مسلمان مسیحی کشمکش سری لنکا میں پیدا ہو جائے گی۔ 
اب عملاً ایسا ہوچکا ہے مسلمان و مسیحی کشمکش تیزی سے سری لنکا میں مسیحیوں کی طرف سے پیدا ہوئی اور مسلمانوں کی املاک اور مساجد پر حملے ہوئے ہیں۔ کرفیو کا نفاذ رہا ہے  وہ انتہا پسند جو سری لنکا میں اقلیتی مسلمان آبادی کا بھی بہت ہی قلیل حصہ تھے جن پر بم دھماکوں کا الزام ہے اور جن کے جنوبی بھارت میں میں انتہا پسندانہ فکر رکھتی روش سے تعلق کی باتیں  سامنے آرہی ہیں۔ ان انتہا پسندانہ پرتشدد افکار پر تربیت پاتی جنوبی بھارت سے وابستہ مسلمان شخصیات نے سری لنکا اور بھارت میں معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کے لئے نئے سرے سے جہنم تخلیق کر دی ہے۔ ان کو سری لنکا واقعات کے بعد میانمار کے مسلمانوں کی زندگی مزید جہنم بنے گی۔  کیا اب بھی کسی کو شبہ ہے کہ جنوبی بھارت میں مسلمانوں پر جتنا ظلم ہوا تو وہ بزعم خویش تنگ آکر تشدد کی تربیت پاتے گئے مگر یہ احمق جذبی اذہان ایسے کرتے ہوئے اسلام مسلمانوں کے لئے تباہی و بربادی کے جہنم تخلیق کرتے ہیں۔ سری لنکا کے واقعات کا جنوبی بھارت سے تعلق ہمیں دیکھنا چاہیے کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں کرنے والے بھی تو اسی ’’را‘‘ کے لئے نادانی میں آلہ کار بنتے ہیں جیسے سری لنکا میں دھماکے کرنے والے بن چکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں