08:19 am
رمضان المبارک کا حاصل

رمضان المبارک کا حاصل

08:19 am

اگر ہم اوسطاً اندازہ لگائیں تو مسلمانوں میں پنج وقتہ نماز پڑھنے والے صرف آٹھ دس فیصد ہوں گے۔البتہ روزے کا اہتمام اس سے قدرے  زیادہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ رمضان میں مسجدوں میں حاضری پہلے کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔لیکن اگر ان کا بھی آپ حقیقت پسندانہ اندازہ لگائیں گے تو وہ زیادہ سے زیادہ بارہ پندرہ فیصد ہوں گے ۔ایسے لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی ہے جو ڈاکٹر اسرار احمدؒکے درس سن کر دین کی طرف متوجہ ہوئے، وہ بتاتے ہیں کہ ہم نے کبھی عید کی نماز بھی نہیں پڑھی تھی۔ایک صاحب نے بتایا کہ میرے پاس گاڑی تھی اور میرا دوست جمعۃ الوداع کے لیے جارہا تھا اور مجھے کہا کہ مجھے گاڑی میں مسجد تک لے جائو ۔میں اسے مسجد تک لے کر گیا اور اس نے جمعہ پڑھ لیا لیکن میں باہر گاڑی میں ہی بیٹھا رہا ۔
اب ماشاء اللہ اللہ نے ان کو کافی اچھے مقام پر پہنچایا ہے ۔لیکن بہرحال ہمارے لوگوں کا دین کے ساتھ  تعلق کتنا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔رمضان سے بھی کتنے فیصد لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں ؟ اصل میںبدنصیب ہیں جنہوں نے یہ رحمتوں کا مہینہ غفلت میں گزار دیا ۔ان بدنصیبوں میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ایک وہ ہیں جو سرے سے روزہ رکھتے ہی نہیں۔ ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ہماری ایلیٹ کلاس اکثر اس رُخ پر ہے الا ماشاء اللہ۔دوسرے وہ ہیں جنہوں نے روزہ تو رکھا لیکن جیسا کہ احادیث میں اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیںکہ بعض روزہ رکھنے والے بھی ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ روزہ تو رکھ لیا ہے لیکن باقی اعمال میں کوئی بہتر ی نہیں لائی۔ یعنی روزے کی حالت میں جائز کاموں سے رک رہے ہیں کہ بھوک لگی ہے تو کھانا نہیں کھا رہے ،پیاس لگی ہے تو پانی نہیں پی رہے ،بیوی پاس موجود ہے تواس سے قربت نہیں کررہے ہیں لیکن ویڈیوز دیکھ رہے ہیں، غلط کام کررہے ہیں ،یہ تو کوئی روزہ نہیں ہواکہ جائز چیزو ں کو تو اپنے اوپر حرام کر لیا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے لیکن ناجائز چیزوں کا کام جاری ہے ۔ یہ روزہ نہیں ہے بلکہ یہ فاقہ ہے۔ اسی طرح یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر چڑھتے ہوئے ہر قدم پر آمین کہا ۔ جب صحابہ ؓ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ جب میں نے پہلے زینے پر قدم رکھا تو جبرائیل امینؑ نے کہا: تباہ و برباد ہو وہ محروم جو رمضان پائے اور اس میں بھی اس کی مغفرت کا فیصلہ نہ ہو ، میں نے کہا آمین۔ پھر جب میں نے منبر کے دوسرے درجہ پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا : تباہ و بربادہو وہ بے توفیق جس کے سامنے آپؐ کا ذکر آئے اور وہ آپ ؐ پر درود نہ بھیجے ، میں نے اس پر بھی کہا :آمین۔ پھر جب میں نے منبر کے تیسرے درجے پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا : تباہ و برباد ہو وہ محروم آدمی جس کے ماں باپ یا اُن دو میں سے ایک اس کے سامنے بوڑھے ہو جائیں اور وہ ( ان کی خدمت کرکے ) جنت کا مستحق نہ ہو جائے اس پر بھی میں نے کہا :آمین
ماہ رمضان کی فضیلت اور برکت کا ایک پہلو تو ہم پر واضح ہے کہ اس میں ہر نیکی کا اجر ستر گنا زیادہ ہوتاہے اور اسی میں ایک رات وہ بھی ہے کہ جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔لیکن ایک رمضان کا دوسرا پہلو بھی ہے جس کا تعلق رمضان کے بعد سے ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو بھوکا پیاسا رکھ کر خوش نہیں ہوتابلکہ روزے کی عبادت کا باقاعدہ ایک مقصد ہے اور وہ ہے تقویٰ کا حصول :
 ’’اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘(البقرہ:183)
تقویٰ اصل میں انسانوں کی ہی اہم ضرورت ہے جس کے لیے روزہ فرض کیا گیا ۔اب تقویٰ کیسے پیدا ہوگا ؟ اس کے لیے روزہ ایک ٹریننگ ہے۔ہم نے اللہ کو رب مانا، محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول مانا،اس کا لازمی منطقی تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ ہمہر معاملے میں اللہ اور رسول ﷺ کی بتائی ہوئی ہدایت پر عمل کریں ۔وہ رب ہے، مالک ہے، خالق ہے ۔ا س نے ہماری ہدایت کے لیے قرآن نازل کیا،محمد رسول اللہ ﷺ کورحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایااور یہ بھی بتا دیا کہ یہ دنیا تمہاری عیش گاہ نہیں ہے بلکہ تمہیں دنیا میں اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ:’’جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔‘‘
یہاں ہمارا امتحان ہورہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو آزمارہاہے کسی کو زیادہ دے کر، کسی کو کم دے کر ،کسی کو جھونپڑی سے اٹھا کر شاہی محل میں پہنچا دیا اور کوئی تخت سے تختہ تک پہنچ گیا ۔آزمائش یہ ہے کہ کون اس آزمائش میں اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کو توڑتا ہے اور کون صبرو شکر کے ساتھ اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے۔ا س کے لیے اللہ نے قرآن میں راہنمائی دے دی اوررسول اللہ ﷺ کو کامل نمونہ بنا کر بھیجا ۔اب تقویٰ یہ ہے کہ انسان اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی پیروی میں زندگی گزارے ۔ دوسری الفاظ میں اللہ و رسول ﷺ کی نافرمانی سے بچنا ، گناہوں ، ناجائز اور حرام چیزوں سے بچنا تقویٰ ہے اور دنیا کی اس آزمائش میں کامیابی کے لیے تقویٰ بہت ضروری ہے ۔اگر تقویٰ نہیں ہوگا تو پھر ہماری آخرت بہت زیادہ خطرے میں ہے ۔اللہ تعالیٰ کسی گناہ گار کو بھی معاف کردے اس کو اختیار ہے لیکن اس نے جو اپنا ضابطہ قرآن میں بتایا ہے وہ یہ ہے کہ اُخروی کامیابی یعنی جنت اُن کو ملے گی جو متقین ہوں گے ؟
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں