08:22 am
افغان بھارتی آبی سازش

افغان بھارتی آبی سازش

08:22 am

نئی دہلی کابل کوایک ایسے ڈیم کیلئے فنڈفراہم کررہاہے جس کے ذریعے وہ پاکستان کی جانب پانی کے بہاکوکم کرناچاہتاہے۔اس پروجیکٹ سے ممکنہ طورپر ایک نئی خلفشارکاآغاز ہو سکتا ہے۔افغانستان کے اکثر علاقوں کواس وقت فصل کی کاشت کیلئے مطلوبہ بارش اور برفباری میں60فیصدکمی کاسامناہے۔کابل کو آبادی میں تیزرفتاراضافہ،شدیدخشک سالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نئے آبی منصوبوں کی فوری ضرورت ہے لیکن سیاسی اعتبار سے اس منصوبہ کی تکمیل آسان نہیں۔ پاکستان  اورافغانستان کاسرحدی علاقہ انتہائی پیچیدہ اور تنازعات سے پرہے۔دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اختلافات کوحل کرنے کا کو ئی قانونی فریم بھی موجود نہیں۔اس سب کے باوجود ضلع چہارآسیاب اوردریائے کابل کے سنگم پر شہتوت ڈیم کی تعمیرکاجلدآغازہونےوالاہے۔اس ڈیم میں146 ملین کیوبک میٹرپانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجودہوگی ،جس سے کابل کے20لاکھ افراد مستفید ہوں گے اور 4000ہیکٹررقبے کوسیراب کیاجاسکے گا۔اس ڈیم سے کابل کے مضافات میں واقع ایک نئے شہردیہہ سبزکوپینے کاپانی میسرآئے گااورکئی دہائیوں پرمحیط تباہ کن جنگ کے بعد افغانستان ہا ئیڈ رو پاور سے اپنی معیشت کوبجلی فراہم کرنے کے قابل ہوسکے گالیکن اس منصوبے سے خدشہ ہے کہ دریائے کابل کے بہامیں تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کے زیریں علاقوں کوپانی کی کمی کاسامناہوگا۔ معتبرذرائع کے مطابق شہتوت اوردیگرزیرغورڈیم کی تکمیل سے پاکستان کو 17،16 فیصد تک پانی کی کمی کاسامنا ہوسکتاہے۔ 
شہتوت ڈیم کی تعمیرسے پانی کے بہاؤکوکم کرنے کامنصوبہ ہے اورچونکہ اس ڈیم کی فنڈنگ بھارت کررہاہے لہذااس سے پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی اورتناکی فضاپروان چڑھے گی۔ بھارت اس ڈیم کے علاوہ بھی افغانستان کوانفرااسٹرکچر، ہائی ویزاوراوردیگرکئی پروجیکٹ میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔ 2001ء سے اب تک بھارت،افغانستان کی تعمیروترقی کے ضمن میں20بلین ڈالرخرچ کر چکا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکام بھارت کے اس سطح پرمالی تعاون کوشدیدتنقیدکانشانہ بنارہے ہیں۔ان کے مطابق ڈیم کی تعمیر بھارت کے ایک بڑے منصوبے کاحصہ ہے تاکہ پاکستان کیلئے پانی کی فراہمی مشکل بنادی جائے۔ پاکستان ہائیڈروپاورسیکٹرمیں خاطر خواہ سرمایہ کاری میں ناکام رہاہے۔امریکی سینیٹ کمیٹی برائے خارجہ امور، وسط ایشیاء کی 2011ء کی رپورٹ کے مطابق پانی کایہ مسئلہ ایک بڑے تنازع کی صورت اختیارکرسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بھارت کوشہتوت ڈیم کے حوالے سے محتاط اورمتوازن رویہ اختیارکرنا چاہیے۔ صحیح اوربہترطورپرتعاون کی فراہمی سے زیادہ بہترنتائج حاصل  کیے جاسکتے ہیں جبکہ غیرذمہ دارانہ رویہ پڑوسی ممالک میں کشیدگی کا سبب بن سکتاہے۔
پانی کی کمی اکثرجنگوں کاباعث بنتی ہے،پانی کی قلت سے غذائی کمی کابھی سامناہوتاہے اوریوں ملک عدم استحکام کاشکارہوجاتاہے۔شام اوریمن میں جنگ کی ایک وجہ پانی ہی ہے ۔اسی طرح کامسئلہ مصراورایتھوپیا کے درمیان بھی موجودہے،مصرکوخطرہ ہے کہ ایتھوپیا دریائے نیل پرڈیم تعمیرکرکے اس کے حصے کے پانی کومتاثرکرسکتاہے۔افغان صدر اشرف غنی نے واضح اندازمیں اپنے عزائم کااظہارکیاکہ ڈیم کی تعمیرہماری اہم ترین قومی ترجیحات میں شامل ہے۔افغانستان میں کنویں خشک ہورہے ہیں، 2017 ء میں کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق افغانستان کوآب رسانی کے بہترانتظام اورموثر انفراسٹرکچرکی شدیدضرورت ہے۔ کابل10لاکھ لوگوں کی ضروریات کے لحاظ سے بسایا گیاتھالیکن آبادی میں اضافے کے بعداس کی آبادی 50 لاکھ سے تجاوزکرگئی ہے۔کابل کے اکثرشہری زیر زمین پانی استعمال کرنے پرمجبورہیں۔شہتوت ڈیم سے پینے کاصاف پانی میسرہوگااور ہزاروں ایکڑرقبے پر کاشت کاری ممکن ہوگی لیکن افغانستان کواپنے پڑوسی ملک پاکستان کے خدشات کودورکرناچاہیے کیونکہ اس وقت دونوں ہی ممالک کوایک جیسے حالات کا سامنا ہے۔
اس ڈیم کیلئے بھارت کی خطیرسرمایہ کاری پرپاکستان کی ناراضگی اورتشویش بجاطورپردرست ہے کیونکہ شہتوت ڈیم کی تعمیرسے براہ راست پاکستان متاثر ہوگا۔یہ محض ڈیم کی تعمیر کامعاملہ نہیں بلکہ پاکستان کیلئے خطرے کی علامت ہے۔بھارت اب تک افغانستان کودریائے کابل پر12ڈیم کی تعمیر کیلئے ابتدائی تعاون پیش کرچکاہے۔ان پروجیکٹس سے 1177 میگاواٹ بجلی پیداہوگی جبکہ پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤمیں مزیدکمی واقع ہوگی۔اس طرح کی صورتحال پاکستان جیسے زرعی ملک کیلئیانتہائی خطرناک ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق2020ء تک پاکستان خطے کاشدیدمتاثرہ ملک ہوسکتاہے۔دوسری جانب بھارت پاکستان کی ناراضگی کی پروا کیے بغیرایران سے18مہینوں کیلئے عبوری طور پر چاہ بہار ر پورٹ کی نگرانی کامعاہدہ کرچکاہے۔ اس کے ذریعے بھارت کی افغانستان تک براہ راست رسائی ممکن ہوجائے گی۔
اگر افغانستان کوترقی اوراستحکام کی جانب بڑھناہے تواسے اپنے اہم ترین پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوارکرناہوں گے۔درحقیقت خطے میں آبی وسائل کا استعمال ایک سلگتامسئلہ رہاہے۔اس حوالے سے پاکستان اوربھارت کے درمیان 1947ء سے مخاصمت رہی ہے۔اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کے تنازع کے حل کیلئےقانونی فریم ورک انڈس واٹرمعاہدہ موجود ہے۔ 1960ء میں کیے گئے اس معاہدے کے ذریعے کئی تنازعات نمٹائے گئے لیکن اس وقت چونکہ بھارت،افغانستان کومالی تعاون فراہم کررہاہے،اس لیے آبی جنگ کوخارج ازامکان قرارنہیں دیاجاسکتا۔ بھارت اورپاکستان دونوں ہی نیوکلیائی طاقت ہیں اورایک مضبوط فوج رکھتے ہیں،اس لیے کسی بڑی جنگ کی توقع نہیں،تاہم جنگ دونوں کیلئے ہی نقصان دہ ہے۔کسی بڑے تنازع سے بچنے کیلئے بھارت اورپاکستان کوفوری طورپرہائیڈرو ڈپلومیسی کاآغاز کرنا چاہیے،اسی سے شہتوت ڈیم کے مسئلے کوپرامن طورپرحل کیاجاسکتاہے،اس حوالے سے انڈس واٹر ٹریٹی کی طرزپرکوئی معاہدہ وضع کیاجاسکتاہے کیونکہ آبی وسائل سے ہی دونوں طرف کے عوام کی زندگی وابستہ ہے۔

تازہ ترین خبریں